پل صراط (افسانہ)

محمد نواز

Muhammad Nawaz

جمعہ کا دن تھا ،گاؤں کی جامع مسجد لوگوں سے بھر چکی ، پیش امام نے جمعہ کی نماز پڑھانے سے بیشتر ایک نوجوان کو اپنے پاس بلایا اور کلمہ شہادت پڑھا کر دائرہ اسلام میں داخل کر دیا۔ سب نمازیوں کے سامنے پیش امام نے مائیکل کیلئے احمد کا نام تجویز کیا۔نام کوسب نمازیوں نے بہت پسند کیا۔ جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کر سب نمازی باری باری احمد کے پاس آئے اور مبارک با د دیتے ہوئے رخصت ہو گئے۔احمد کیلئے آج کا دن جیسے عید کا دن تھا اسے ہر طرف سے شادمانی اور مسرت مل رہی تھی۔وہ دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا اور خوشی اس کے چہرے پر بھی عیاں تھی۔آنکھوں میں چمک ،چہرے پر تازگی اور بانچھیں کھلی ہوئی تھیں۔ نمازی جا چکے تو پیش امام نے احمد کو اپنے پاس بیٹھا لیا اور لگا احمد کو دین کی باتیں سمجھانے، پیش امام موت کا فلسفہ سمجھانے لگا۔ پیدائش سے موت تک کا سفر سب بتا دیا ،موت سے دوبارہ جی اٹھنے تک کا معاملہ بھی سمجھایا اور پل صراط سے گزار کر جنت تک کا سفر بھی۔قبر میں پیش آنے والے معاملات۔جنت اور دوزخ کی حقیقت سے بھی آگاہ کر دیا۔ جاتے وقت کہہ دیا مسجد آجایا کرو دین کی باتیں سمجھا دوں گا۔ احمد نے آنے کا وعدہ کیا امام صاحب کے ہاتھ چھوم کر رخصت مانگی۔ اس نے سب لوگوں کو ایسے ہی پیش امام سے رخصت مانگتے دیکھا تھا۔
گاؤں سے باہر نکل کر سامنے ایک بڑا سا میدان تھا۔ اس نے کئی ایک بچوں کو میدان میں کھیلتے دیکھا۔ سب اپنی اپنی پسند کی کھیلیں کھیل رہے تھے۔ زیادہ تر لڑکے کرکٹ کھیلنے میں مشغول تھے۔ایک وقت تھا جب اس میدان میں گا?ں کی مقامی کھیلیں جن میں گلی ڈنڈا اور شیشے کی گولیاں کھیلی جاتیں تھیں۔ لیکن آہستہ آہستہ ان کھیلوں کی جگہ کرکٹ نے لے لی اور ہر لڑکا کرکٹ میں دلچسپی لینے لگا۔ احمد بھی کرکٹ کو بہت پسند کرتا تھا۔جب بھی کرکٹ کا میچ ٹی،وی پر دیکھایا جاتا وہ شوق سے دیکھتا اسی لیئے اسے بین الاقوامی کرکٹ کھیلاڑیوں کے نام از بر تھے،وہ خود بھی گا?ں کی کرکٹ ٹیم کا ایک اچھا کھلاڑی تھا مگر پتہ نہیں کیوں آج اس کا دل کھیلنے کو نہ چاہا اور اس نے سیدھی گھر کی راہ لی۔ اس کا گھر اس میدان کے پار دوسری بستی میں تھا۔اس بستی کو گا?ں والے ’ کالا پہاڑ ‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ کہتے تھے جس جگہ یہ بستی آباد ہوئی تھی وہاں کسی زمانے میں ایک مٹی کا پہاڑ تھا جس کا رنگ کالا تھا۔ آہستہ آہستہ یہ پہاڑ بارشوں نظر ہوتا چلا گیا۔اب اس جگہ صرف ایک مٹی کا ٹیلہ رہ گیا ہے۔مگر مٹی کا رنگ اب بھی کالا ہی ہے۔ یہاں کی آبادی کا مذہب گا?ں والوں کے مذہب سے لگا کھاتا تھا۔مائیکل کالا پہاڑ کا پہلا لڑکا تھا جو مشرف بہ اسلام ہوا تھا۔
مائیکل کے گھر پہنچنے سے پہلے اس کے ایمان لانے کی خبر پہنچ چکی تھی۔ اس نے جونہی گھر میں قدم رکھا اس کے فادر نے اسے دروازے پر ہی روک لیا۔ ’’ جن قدموں سے اس گھر میں داخل ہوئے ہو، انہی قدموں پر واپس پلٹ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ گھر اب تیرے واسطے نجس ہو چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو نے کلمہ پڑھ لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ تم ہمارے قبیلے سے نکل چکے ہو۔یہاں تیرے لیئے کوئی جگہ نہیں ‘‘ ’’ کیوں فادر ؟ یہ گھر میرا بھی تو ہے ، اس گھر میں، میں نے جنم لیا ،پھلا پھولا۔ آج یہ میرے لیئے بیگانہ ہو گیا ‘‘ باپ بیٹے کی تکرار سن کرگھر میں موجود اس کی ماں اور بہن بھائی بھی آ گئے’’ مادر۔۔۔۔۔۔ دیکھ فادر کیا کہہ رہے ہیں ؟ فادر کہہ رہے ہیں ،اب یہ گھر میرا نہیں رہا۔۔۔۔۔۔۔۔ مادر آپ فادر تو سمجھا?۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ ’’ تمھارے فادر ٹھیک کہہ رہے ہیں مائیکل ، تم واپس پلٹ جا?۔تم نے اپنا دین بدل لیا ہے۔ہم تم کو مجبور نہیں کریں گے کہ تم ہمارے والے دین پر واپس پلٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمھارا نیا دین اب تم کو مبارک ہو۔ جا? اپنے دین کے لوگوں کے ساتھ رہو ‘‘ سب گارے اور اینٹوں کے بنے کمرے میں چلے گئے اور احمد صحن میں تنہاکھڑا تھا۔اس کے دل کو کئی ایک وسوسوں نے گھیر لیا۔ اس کے ذہین میں جمعہ کی نماز کے بعد سے لے کر اب تک کے سارے واقعات گردش میں گھومنے لگے۔آہستہ آہستہ ان کی گردش میں اضافہ ہونے لگا۔ اس زمین اور آسمان بھی گھومتے ہوئے محسوس ہونے لگے۔ زمین اور آسمان کی گردش بڑھتی چلی گئی۔ وہ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔
احمد کو جب ہو ش آیا تو وہ مسجد سے ملحقہ ہجرے میں چار پائی پر لیٹا تھا۔ اس نے اپنے سامنے مسجد کے پیش امام کو پایا۔ پیش امام نے احمد کو بتایا کہ اس کے گھر والے اسے یہاں چھوڑ گئے تھے۔رات عشاء کی نماز احمد نے پیش امام کے ساتھ ادا کی جمعہ کی نماز کی نسبت اب نمازیوں کی تعداد بہت کم تھی۔ رات احمد نے ہجرے میں گزاری، خواب میں ایک با ریش بزرگ نے اپنے فیصلے پر قائم رہنے اور متزلزل نہ ہونے کی تلقین کی۔ فجر کی نماز کے بعد احمد پیش امام کے پاس جا بیٹھا۔ پیش امام گاؤں کے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دے رہا تھا۔ پیش امام نے کمال شفقت اور مہربانی سے احمد کو اسلام کے ارکان جن پر کلمہ پڑھنے کے بعد ایمان لا نا ضروری ہے بتانا شروع کیئے۔احمد توجہ سے سننے لگا۔ مسجد میں قرآن پڑھنے آنے والے چھوٹے بچوں کیلئے احمد توجہ کا مرکزبن گیا۔ بچے احمد کو تکنے لگے۔ اس بات کو احمد نے محسوس کیا اور پیش امام سے اجازت لے کر مسجد سے ملحقہ ہجرے میں آ گیا۔ پیش امام سے اجازت لینے کیلئے احمد نے وہی طریقہ اختیار کیا جو اس نے جمعہ کی نماز کے بعد لوگوں کو دیکھ کر کیا تھا۔
ہجرہ اب احمد کا مستقل ٹھیکانہ تھا۔ پیش امام نے احمد کے رہنے کا بندو بست گاؤں والوں کی مشاورت سے کر دیا تھا۔ پیش امام نے احمد کو بتایا کہ مسجد میں ان کو ایک خادم کی ضرورت تھی اس نے گاؤ ں والوں سے بات کی تھی۔سب گاؤں والے اسے مسجد کا خادم بنانے پر راضی ہیں۔ لہذا اب وہ مسجد سے ملحقہ ہجرے میں ہی رہا کرے گا۔ پیش امام نے احمد کو بتایا کہ وہ ان کو آہستہ آہستہ اذان کا طریقہ بھی سکھا دے گا۔آئندہ وہی نماز کیلئے مسجد میں اذان دے گا۔ احمد کی جستجو بڑھی ،اس نے اذان چند ہی دنوں میں یاد کر لی۔ ایک شا م پیش امام نے احمد کو بتایا کہ مغرب کی نماز کے بعد اسے گاؤں کے صاحب استعاعت گھروں میں جاناہوگا اور ان کے گھروں سے کھانا لانا ہو گا۔ بقول پیش امام کے اب وہ بوڑھا ہوچکا ہے اور اس سے پورے گاؤں کا چکر نہیں کاٹا جاتا۔ احمد بقاعدگی سے ہر شام جاتا اور پیش امام کے بتائے ہوئے گھروں سے کھانا لے آتا۔ ہجرے کی عقبی سائیڈ پر پیش امام اور ان کے اہل خانہ کیلئے گاؤں والوں نے گھر بنا کر دیا تھا جہاں پیش امام اپنے اہل و عیال کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔ احمد تمام گھروں سے کھانا لا کر پیش امام کے گھر دے آتا بعد میں اسی کھانے میں سے اس کیلئے کھانا بھیجا جاتا باقی کا کھانا پیش امام کے اہل خانہ استعمال کرتے۔ احمد دروازے پر کھانا دینے جاتا تو دروازے پر اس کا واسطہ پیش امام کی زوجہ سے ہوتا۔احمد کھانا دروازے پر خاتون کے حوالے کرتا اور ہجرے میں آجاتا۔کوئی آدھ گھنٹے بعد پیش امام کا چھوٹا لڑکا کھانا لے کر ہجرے میں آکر کھانا دے جاتا۔ ایک دن جب پیش امام کی زوجہ بیمار تھی تب دروازے پر کھانا لینے جنت آئی۔جنت پیش امام کی بڑی بیٹی تھی۔ جنت نے چہرے پر نقاب ڈالا ہوا تھا۔صرف اس کی آنکھیں ہی نظر آتی تھی ویسے بھی دروازے پر قدرے اندھیرا تھا۔اس لیئے احمد ،جنت کو نہ دیکھ سکا۔
ایک شام جب احمد گاؤں کے ان گھروں سے کھانا لے کر واپس آ رہا تھا۔اس کی ملاقات کتھرائن سے ہو گئی۔ کتھرائن اس کے ماموں کی بیٹی تھی۔ مائیکل کی ماں کی خواہش تھی کہ وہ اس کی شادی کتھرائن سے کرے گی۔مائیکل کی ماں نے اس واسطے اپنے بھائی سے دونوں کے رشتوں کی بات بھی کی تھی۔کھترائن کے فادر نے دونوں کے رشتوں پر رضا مندی کا اظہار بھی کر دیا تھا۔ چند ماہ بعد دونوں کی شادی ہونے والی تھی۔ کھترائن ایک طرف سے ہو کر گزرنے لگی تو احمد نے اس کا راستہ روک لیا۔’’ تم بھی بدل گئی ہو کتھرائن۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’ تم بھی تو بدل گئے ہو مائیکل۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ’’ اب میرا نام احمد ہے کتھرائن۔۔۔۔۔‘‘ ’’ دیکھا تم نے دل کے ساتھ ساتھ اپنا نام بھی بدل لیا ہے مائیکل۔۔۔۔۔‘‘ ’’ میرا دل اب بھی تیرے ساتھ ہے کتھرائن ‘‘ ’’ سنا ہے مسلمان جھوٹ نہیں بولتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم تو جھوٹ بھی بولتے ہو۔۔۔۔۔‘‘ مائیکل ،کتھرائن کا منہ تکنے لگا ’’ تم نے اپنا دین بدل لیا، اپنا نام بدل لیا ،اپنامحلہ بدل لیا اور کہتے ہو تیرا دل میرے ساتھ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ مائیکل تم جھوٹ بول رہے ہو اور تمھارا جھوٹ تمھارے چہرے پر چمک رہا ہے ‘‘ مائیکل نے کتھرائن کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی جیسے وہ دین دار ہونے سے پہلے پکڑالیا کرتا تھا۔ مائیکل کی ماں نے جب دونوں کی رشتوں کی بات چلائی تو دونوں گھنٹوں ایک دوسرے کے پہلو میں بیٹھ کر ہاتھ تھامے باتیں کیا کرتے تھے۔ تب مائیکل نے ایک لڑکی کے جسم کا لمس محسوس کیا تھا۔کتھرائن کے جسم کا لمس وہ اب بھی محسوس کر رہا تھا۔شائد اسی لیئے اس نے کتھرائن کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی تھی ’’ مجھے چھونے کی ناکام کوشش نہ کرو مائیکل۔ جب دل پرائے ہو جاتے ہیں تو جسم پر بھی حق ختم ہو جاتا ہے ‘‘ ’’ کتھرائن میں تم سے محبت کرتا ہوں اور شادی بھی تم سے
کروں گا ‘‘ ’’ تمھیں مجھ سے محبت ہوتی تو تو اپنا مذہب نہ بدلتا مائیکل۔۔۔۔۔۔۔ جب مذہب بدل جاتا ہے تو رشتے بھی بدل جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے لیئے اپنے مذہب کی لڑکی ڈھونڈ لو ‘‘ ’’کتھرائن ایک طرف سے ہو کر آگے نکل گی۔ابھی وہ چند قدم ہی چلی تھی کہ مائیکل کی آواز نے اسے ساقت کر دیا ’’کتھرائن تم بھی میرے والے مذہب پر آ جا? ہم دونوں شادی کر لیں گے ‘‘ ’’ تم میری خاطر اپنے مذہب پر قائم نہیں رہ سکے میں تیری خاطر اپنا مذہب چھوڑ دوں۔۔۔۔۔۔۔۔مائیکل مجھے ایک خدشہ ہے ،جس مذہب کے ماننے والے تجھے چند دن بیٹھا کر نہیں کھلا سکے وہ تجھے اپنی لڑکی کیا دیں گے؟ ‘‘ کتھرائن تو چلی گئی لیکن جاتے جاتے ایک ایسی بات احمد کے دل میں ڈال گئی جس کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔
’’ احمد۔۔۔۔۔۔کل سے آذان تم پڑھا کرو گے ‘‘ پیش امام نے عشاء4 کی نماز سے فارغت کے بعد کہا ’’ نمازروں کے اوقات تو اب تمھیں یاد ہو گئے ہو نگے ‘‘ ’’ جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ اس کے بعد پیش امام صاحب اپنی رہائش گاہ پر چلے گئے۔ احمد ہجرے میں لیٹا تھا اور اس کے دماغ کی پردہ سکرین پر کتھرائن کے ساتھ ہونے والا مکالمہ فلیش بیک ہو رہا تھا۔
پیش امام کے پاس دین کی تعلیم ،اذان اور پھر باقاعدگی کے ساتھ نماز اب احمد کا معمول بن گیا تھا۔ اس نے گاؤں کے دوسرے لڑکوں کی طرح کرکٹ کھیلنا چھوڑ دی تھی۔ امام مسجد کی تربیت نے اس پر اثر کیا وہ باریش ہو گیا۔ گا?ں کے سب لوگ اسے احمد دین دار کے نام سے پکارنے لگے۔
ماتھے پر بازو رکھے ،آنکھیں بند کیئے ،احمد ماضی اور حال سے دست و گریباں تھا کہ ہجرے کے دروازے پر دستک ،اندر آنے کو کہا ،ایک نسوانی آواز نے اس کی ساری توجہ اپنی طرف کھینچ لی وہ ایک دم سے اٹھ بیٹھا۔ وہی آنکھیں جو اس نے جنت کی دیکھیں تھیں۔جنت نے ایک ہاتھ سے نقاب تھام رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ میں کھانا ،گویا ہوئی ’’ ابا، کو دوسرے گاؤں جنازہ پڑھانے جانا تھا ،اماں کی طبیعت ناساز تھی ،آپ کیلئے اور کوئی کھانا لانے والا بھی نہ تھا ،میں نے سوچا آپ کو بھوک لگ رہی ہو گی میں ہی کھانا دے آتی ہوں ‘‘ احمد ششدر جنت کو دیکھ رہا تھا جنت نے جونہی کھانا آگے بڑھایا احمد کا ہاتھ پھسل گیا کھانا گرتے گرتے بچا۔ کھانے کو گرنے سے بچانے کی کوشش میں جنت کا نقاب اتر گیا ، جنت جلدی سے کھانا احمد کو تھمایا اور نقاب درست کرتی ہوئی ہجرے سے باہر چلی گئی۔
احمد ،جنت اور کتھرائن میں الجھ کے رہ گیا۔ کبھی جنت دماغ پر ہاوی ہو جاتی اور کبھی کتھرائن دل و دماغ پر سوار۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہ آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔اپنی الجھن کا کس سے ذکر کرے۔ کون ہے جو اس کو اِس الجھن سے نکالے گا۔ اس نے جنت کو آج پہلی بار اپنے روبرو دیکھا تھا اور وہ اس کے احصاب پر سوار ہو گئی تھی۔ اسے کتھرائن کی باتیں یاد آنے لگیں ’’ جس مذہب کے ماننے والے تجھے چند دن بیٹھا کر نہیں کھلا سکے وہ تجھے اپنی لڑکی کیا دیں گے؟ ‘‘ احمد نے دل میں ٹھان لی کہ پیش امام سے ضرور بات کریں گے۔
ایک دن پیش امام ،احمد کو جنت کے بارے میں بتانے لگے۔ لیکن احمد کا جنت کے حسن و جمال میں الجھا ہوا تھا۔ اس نے موقع غنیمت جانا اور پیش امام سے جنت کی بات کہہ دی۔پیش امام جنت کا نام سنتے ہی آگ بگولا ہوگیا اور احمد پر برس پڑا۔
عشاء کی نماز سے فراغت کے بعد پیش امام نے نمازیوں کو روک لیا ’’ دوستو! یہ لڑکا ،مسلمان ہونے نہیں بلکہ میرے گھر میں نقب لگانے آیا تھا۔ میں سمجھا تھا ،جنت کا متلاشی ہے ،لیکن یہ تو میری جنت پر دست درازی کرنے کیلئے ایمان لایا تھا۔ دوستو ! اسے یہاں سے نکال باہر کرو ،آج اس نے میری معصوم جنت پر بری نظر ڈالی ہے کل یہ آپ کے گھروں کی حوروں کو تاڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیش امام صاحب ! نے احمد پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔احمد صف میں آنکھیں تر کیئے بیٹھا تھا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کل کا پیش امام جس نے اسے ایمان کی دولت سے ہمکنار کیا تھا آج اسے سب نمازیوں کے سامنے رسوا کرے گا۔ نمازیوں نے پیش امام کی بات مانی اور احمد کو ہجرے سے چلے جانے کا پروانہ تھما دیا۔
اگلی صبح فجر کی نماز کے بعد احمد مسجد کے سامنے اس میدان میں کھڑا تھا جہاں گا?ں کے لڑکے کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔سورج نکلنے کو تھا
مشرق کی سمت دور آسمان پرسرخی پھیل چکی تھی۔اس کے سامنے ایک پل صراط تھا جسے احمد کو عبور کرنا تھا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *