دور حاضر کی اشتہارکاری اور ہماری اقدار

ساجدہ فرحین فرحی

tv commercials

رمضان میں جس طرح گداگر شہروں کا رخ کرلیتے ہیں اسی طرح رمضان میں اشتہارات بنانے والی کمپنیاں اپنے اشتہارات میں لوگوں سے صدقہ خیرات مانگنے لگتی ہیں۔آجکل ایک مشروب بنانے والی کمپنی کے اشتہار میں ایک روپیہ ڈونیٹ کرکے اندھیرے مٹانے میں ساتھ دینے کی ترغیب دی جارہی ہے اور کہا جارہا کہ پسماندہ علاقوں میں بجلی کی سہولت میسر کی جائے گی جبکہ اس مشروب کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ ادارہ اپنے منافع کا ایک حصہ اسرئیل کو فراہم کرتا ہے جو فلسطین کے معصوم بچوں پر گولیوں اور بموں کی صورت برسایا جاتا ہے بلکہ یہ محفف ہے ان الفاظ کا pay each pani to save Israel
اشتہار کاری سے عوام پر غیر مطلوب مصنوعات مسلط کی جاتی ہیں اور غیر حقیقی طلب پیدا کی جاتی ہے۔صارف کی خواہش کو ضرورت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔الفاظ کی جادوگری،گلیمر کی چکا چوند موسیقی کی مسحورکن دھنوں میں بہلا و بھٹکا کر مصنوعات بیچ دی جاتی ہیں۔ اشتہارات لوگوں کو مادیت پرستی کی جانب مرغوب کرتے ہیں۔اشتہارکاری کو فریب کا ری بھی کہا جاتا ہے۔اشتہارکاری کا طریقہ کارکچھ یوں ہے۔ مصنوعات کی شناخت کرانا اور انھیں دوسروں سے ممتاز کرانا۔پراڈکٹ کے خصائص اور اسکے مقام اور فروخت سے متعلق اطلاع دینا۔صارفین کو نئی مصنوعات آزمانے پر آمادہ کرنا اور پھر انھیں دوبارہ استعمال کرنے کا مشورہ دینا۔مخصوص چھاپ Brand کی ترجیح اور اس سے وفاداری قائم کرنا۔

adآجکل کچھ اشتہارات میں اسلامی عبادات میں مشغول افراد کو دکھایا جارہا ہے تو کبھی اشتہار کے آغاز میں اذان بھی سنائی جا تی ہے ۔کتنا اچھا ہو اگر صرف رمضان میں نہیں بلکہ سارا سال اسی طرح سے ہماری اسلامی اقدار کی عکاسی کرتے اشتہارات نظر آنے لگیں۔مگر کچھ اشتہاری کمپنیاں ہیں جن کو ابھی بھی سدھرنے کی توفیق نہیں ہوئی موبائل نیٹ ورک کے ایک اشتہار میں ڈھول کی تھاپ پر ریگستان میں رقص کرتی کم لباس میں ملبوس رقاصہ۔ایک اور موبائل نیٹ ورک ایک اشتہار میں مایا کو پانے کے لئے کبھی پہاڑ کی چوٹی پر تو کبھی پانی کے اندر پسند کی شادی کے لئے کوشش کرتے دیکھایا گیا ہے۔ایک غیر ملکی اشتہار میں ایک بڑے بھائی کو اپنے چھوٹے بھائی کو کبھی پاؤں دبا کے کبھی ریموٹ چھین کے کبھی ہیڈفون چھین کے تنگ کرتے دکھایا جارہا ہے۔ اور ایک وہ بھائی تھا جو دیار غیر میں عید کے تہوار پر اپنے جھوٹے بھائی کیلئے بریانی مصالحے کے ڈبے سے بریانی بنا کر گھر سے دور ماں کی یاد تازہ کرتا ہے۔گلوبل ولیج کی اس دنیا میں اپنی ملی و قومی اور اسلامی تشخص کو برقرار رکھنا ہے ورنہ یہ معاشرتی کلیہ ہے کہ ایک معاشرت و ثقافت دوسرے میں ضم ہوجاتی ہے۔
ایک اور غیر ملکی اشتہار میں دکھایا جاتا ہے کہ ماں بچاری ہاہر سے تھکی ہاری آتی ہے اور ٹین ایج بیٹی ماں باپ سے باہر کھانے جانے کی فرمائش کرتی ہے۔ ایک اوراشتہار میں بیٹی اپنی ماں سے کہتی ہے ڈانس کرکے دکھاؤ۔ ایسے زیادہ تر اشتہار غیر ملکی ہیں جو ہماری اقدار و روایات سے ہم آہنگ نہیں
ایک رنگ گورا کرنے والی کریم کے اشتہار میں باپ اپنی بیٹی کو شادی کا کہتا تو بیٹی رنگ گورا کرنی والے کریم کے استعمال کے بعد جواب دیتی ہے میں بھی یہ سب حاصل کرتی ہوں ۔ابھی شادی کی ضرورت نہیں۔اچھا گھر ،گاڑی اور اچھی نوکری سب میرے پاس آجائے گی ۔پتہ نہیں یہ کریم استعمال کرنے کے بعد کونسی ایسی نوکری حاصل ہوتی ہے جس میں صرف تین سال میں معیار زندگی اتنی تیزی سے ترقی کرجاتا ہے۔
اشتہار ایک ابلاغی عمل،بازارکاری کا عمل ،معاشی اور سماجی عمل، تعلقات عامہ کا عمل یا اطلاع اور ترتیب کا عمل ہے۔اشتہارات کی اثر انگزیزی انفرادی رویوں اور سماجی و معاشرتی اقدار و روایات پر براہ راست اثر اندازہوتی ہے۔اب اسحاق ڈار نے اس بجٹ میں غیر ملکی اداکار و ادا کاروں کے اشتہارات میں کام کرنے پر ٹیکس لگا دیا ہے شاید اب پاکستانی عوام کو پاتھ ٹب میں غسل کرتی غیر ملکی اداکارئیں کچھ کم نظر آئیں۔ویسے صابن کے اشتہار میں ہماری ماڈلز جس بے باک انداز سے جلوہ گر ہو رہی ہیں تو لگتا ہے اداؤں میں فرق نہیں پڑتا بس زیادہ بے حیائی اور کم بے حیائی فرق ہوگا۔

پیمرا کے ضابطہ اخلاق کے مطابق اشتہارات ملکی قوانین سے ہم آہنگ ہوں اور یہ پاکستان کی عوام کے مذہبی فرقوں کی اخلاقیات اور شائستگی کے خلاف نہ ہوں ۔۔ایسے اشتہار کی اجازت نہیں دی جائے گی جو غیر اسلامی اقدار یا الکوحل مشروبات یا شہوت جذبات یا بدکاری کو پیش کرے۔شادی خاندان اور گھر کے تقدس کے خلاف ہو ۔جس میں غیر شائستہ، بے ہودہ یا اشتعال انگیز موضوع یا انداز رکھتا ہو۔جس میں ایسا مواد شامل ہو جو اسلامی اقدار یا نظریہ پاکستان کے خلاف ہو۔ایسا کوئی اشتہار نہیں دیا جائے گا جس کو بچوں کی اکثریت دیکھے اور انہیں کسی خاص برانڈ کی براہ راست یا والدین کو ایسا کرنے پر اصرار کریں۔
ایک کریم کے اشتہار راہ چلتی لڑکی کا دوپٹہ کھنچتا لڑکا اور لڑکی کا یہ کہنا کہ ہم لڑکیوں کو یہی تو چاہیے۔عورتوں کے دوپٹے اُتر کر مردوں کے کندھوں اور آنکھوں پر آگئے ہیں۔جو تیل کے اشتہارات میں رقص کر رہے ہوتے ہیں یہ بات سمجھ سے عاری ہے کی تیل اور چائے کے اشتہارات میں اتنا ڈانس کیوں دکھایا جاتا ہے۔البتہ چائے کے کچھ اشتہارات میں میں مثبت پیغامات بھی دےئے گئے جیسے منافع سے زیادہ نیکیاں کمائیں نیکیاں کمانے کی ایک چھوٹی سی کوشش۔اس چائے کی برانڈ نے رمضان میں قیمت کم کی ہے۔اس سے پہلے چائے کی یہ برانڈ کرپشن اور بجلی چوری کی حوصلہ شکنی پر بھی اشتہارات بنا چکی ہے جس کے بعد چائے کی اور برانڈز نے بھی ایسے معاشرتی مسائل کی جانب آگاہی کے اشتہارات بنائے مگر یہ پڑوسی ملک سے آئیڈیاز لئے گئے ۔ٹاٹا چائے نے مہم شروع کی جو اب بھی جاری ہے اس میں خواتین کے حقوق ،معاشرتی مسائل، سیاست اور کرپشن جیسے موضوعات کو چائے کے اشتہار میں مرکزی خیال کے طور پر پیش کیاگیا جاتا ہے۔اس مہم کا عنوان تھا جاگو رے اور سلوگن تھا .ہر صبح صرف اُٹھو مت جاگو رے۔ ایسی مہم کو Social-Cause Marketing (SCM) کہتے ہیں
حالیہ دنوں پیمرا نے contraceptive ads پر پابندی لگائی اور پھر کچھ ہی دن میں یہ پابندی ہٹا بھی لی اور وجہ یہ بتائی گئی قومی مفاد۔اب یہ اشتہارات ایسے اوقات میں نشر ہونگے جب بچے انھیں نہ دیکھ سکیں۔اور ان اشتہارات میں معاشرتی اقدار کا خیال رکھتے ہوئے الفاظ اور visuals جو ہماری تہذیب سے ہم آہنگ ہوں۔اشتہار کے مختلف مراحل ہیں جن میں آگہی پانا، سمجھنا، قائل ہونا، خواہش کا بیدار ہونا اوربالا آخر اشیاء کی خریداری کا عمل شامل ہیں۔اشتہارکاری کے مقاصد صارف کے رویوں ، ادراک،عقائد اور طرز عمل کی تقویت یا انہیں بدلنا متحرک کرنا ہے۔اسکے لئے کرداری علوم، بشریات، نفسیات ،عمرانیات کو ابلاغی فنون یعنی تحریر ، تمثیل ، نگارشات ، عکاسی سے موثر طور پر ہم آمیز کیا جاتا ہے۔ابصار عالم کی بصیرت کے مطابق ایسے یہ اشتہارات قوم کے مفاد میں ہیں یا وہ اُس دباؤ میں آگئے جو اس پابندی کے بعد ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز کے ذریعہ پیمرا پر ڈالا گیا ایک ٹاک شو میں تو یہ کہا گیا کہ ابصار عالم نے پیمرا کو اسلامی نظریاتی کونسل بنا دیا ہے۔جبکہ کہ ابصار عالم کو اشتہارات کو بھی کسی اخلاقی قیود میں لانے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں وہ غض بصر سے کام لے رہے ہیں ورنہ بصارت ہو تو توجہ دی جاسکتی ہے۔
ہم غیروں کی عادات و اطوار اپنا رہے ہیں جنھیں خود اُنکا معاشرہ مسترد کررہا ہے۔ رواں ماہ روسی پارلیمنٹ کے پبلک ہیلتھ کمیشن کے سامنے رشین انسٹی ٹیوٹ فار سڑایٹجک سٹڈیز نے رپورٹ پیش کی اس میں کہا گیا کہ contraceptive اشیاء بیچنے والی انڈسٹری کو صرف اپنی پراڈکٹس بیچنے میں دلچسپی ہوتی ہے اور یہ انڈسٹری افراد کو آزادنہ تعلقات کی سہولت فراہم کرتی ہے۔جو ایڈز جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب ہوتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ شادی کی روایت کو مغربی اثرات کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچایا جائے تو ایڈز جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ پر باآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔
اس حوالے سے حالیہ دنوں ترک صدر رجب طیب ارودان بھی مغربی میڈیا کا موضوع بنے رہے اُنھوں نے استنبول میں تعلیمی ماہرین کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی کے پھیلاؤ کو روکنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ہم اپنی اولاد میں اضافہ کرینگے اور آبادی بڑھائینگے اور رجب طیب ارودان نے کہا کہ مجھے اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کی مغرب کو کیا پسند ہے اور مشرق کیا چاہتا ہے۔ہم وہی کرینگے جو ہمارے رب کو مطلوب اور ہمارے محبوب ﷺ کو محبوب ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *