پاکستانیوں کے پانچ مزید سماجی رویے

Yasir Pirzadaیاسر پیر زادہ

کچھ عرصہ پہلے خاکسار نے پاکستانیوں کے پانچ سماجی رویے بیان کئے تھے ،اب ان رویوں نے مزید ترقی کر لی ہے ،چنانچہ اس کا دوسرا ایڈیشن پیش خدمت ہے :
1۔دوسروں کے لئے کڑا معیار:بطور پاکستانی ہم نے ہر معاملے میں د وسروں کے لئے خاصا کڑا معیار مقرر کر رکھا ہے ، خود کو فرشتہ ثابت کرنے کی دھن میں ہم دوسروں کو شیطان ثابت کرنا عین عبادت سمجھتے ہیں ، شرافت اور نجابت کا جو معیار ہم نے دوسروں کے لئے بنارکھا ہے ، بذات خودہم اس کے دسویں حصے پر بھی پورے نہیں اترتے۔حب الوطنی اور غداری کی سندیں تقسیم کرتے وقت ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جس بنیاد پر ہم یہ سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہیں اسی بنیاد پر اگرہمارا اپنااحتساب کیا جائے تو ’’غداروں‘‘ کی فہرست میں ہمارا نام سب سے اوپر سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ہمارے نزدیک کسی بھی شخص کے بدعنوان ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے خلاف کوئی بے سروپا الزام لگا کر ٹویٹ کر دی جائے اور دوسری طرف اگر ہم پر نیب بھی مقدمہ بنا دے تو ہمیں معصوم اور پاکباز سمجھا جائے تا وقتیکہ سپریم کورٹ ہماری اپیل مسترد نہ کر دے، اور خدا نخواستہ اگر عدالت عظمیٰ ہمارے خلاف فیصلہ دے ڈالے تو اس صورت میں عدالت کا فیصلہ غلط، ہم پھر بھی دودھ کے دھلے ۔ ایسے ہی دوہرے معیار کے ایک صاحب سے اگلے روز ایک مجلس میں ملاقات ہوئی ، فرمانے لگے کہ فلاں سماجی رہنما ملک دشمن ہے کیونکہ وہ امریکہ اور بھارت سے پیسے لے کر ان کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے، جب ان سے کہا گیا کہ اگر ایسی بات ہے تو ثابت کیجئے، یوں بھی آج کل کے دور میںیہ کام نسبتاً آسان ہے کیونکہ جو کمپنی اس سماجی شخصیت کی ملکیت ہے اس کے شیئرز اور ڈائریکٹرز کی تفصیلات نہات سہولت کے ساتھ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے حاصل کی جا سکتی ہیں ، اس کے علاوہ کمپنی کے بنک اکائونٹس سے بھی یہ معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں کہ اسے کہاں کہاں سے غیرملکی امداد آتی ہے ،اس بات کا تعین کرنے کے بعد ہی کسی نتیجے تک پہنچنے کا امکان ہو سکتا ہے تواس کے جواب میں موصوف نے فرمایاکہ آپ ان نزاکتوں کو نہیں سمجھتے ‘غیر ملکی فنڈنگ یوں عام بنکوں کے ذریعے نہیں ہوتی، اس کے لئے’’آف شور‘‘ اکائونٹس کھولے جاتے ہیں۔ اس پر خاکسار نے کہا کہ یقیناً آپ نے ان ’’آف شور ‘‘اکائونٹس کا پتہ چلانے کے بعد عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہوگا،اسی لئے اس قطعیت کے ساتھ یہ بات کر رہے ہیں!اس پر انہوںنے فقط اتنا کہا کہ برخوردار یہ باتیں عدالتوں میں ثابت نہیں کی جاتیں، میں نے جواباً کہا کہ اگر یہی الزام کوئی آپ پر عائد کرے تو اس صورت میں اسے من و عن تسلیم کر کے آپ کو ملک دشمن ڈکلیئر کر دینا چاہئے کیونکہ بقول آپ کے اس کام کے لئے کسی عدالت میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں !اتنا سننا تھا کہ موصوف آپے سے باہر ہو گئے ، عین ممکن تھا کہ وہ مجھے بھی ملک دشمنی کی سند عطا کر دیتے میں نے یہ کہہ جان چھڑا لی کہ حضرت سینس آف ہیومر بھی آخر کوئی چیز ہوتی ہے !
2۔رو ل ماڈلز کی تضحیک:معاشرے میں گنے چنے لوگ ہی رول ماڈل ہوتے ہیں ،زندہ معاشرے ان کی قدر کرتے ہیں، اپنی اولاد کو ان شخصیات کے بارے میں آگاہی دیتے ہیں ‘ان کی زندگی کے روشن پہلو سامنے لاتے ہیں اوران کے نقش قدم پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں۔لیکن ہمارا باوا آدم ہی نرالا ہے ،اول تو ہم کسی شخص کوعلمی ‘ اخلاقی یا دانش مندی کے اعتبار سے اپنے سے بہتر سمجھتے ہی نہیں ‘پھر بھی اگر ایسے کسی شخص کا معاشرے میں جادو سر چڑھ کر بول رہا ہو تو ہم اس کی شخصیت میں کیڑے تلاش کرنے میں جُت جاتے ہیں اور جب تک ہم اس کے اُجلے دامن پرچیونٹی جتنارینگتا ہوا کوئی کیڑا نہ پکڑ لیں ‘ہمیں چین نہیں آتا،چاہے ہماری اپنی قمیض پر مفادات کے سانپ ہی کیوں نہ لہرا رہے ہوں ۔کوئی رول ماڈل بھی فرشتہ نہیں ہوتا، اس میں بھی بشری کمزوریاں ہو تی ہیں لیکن ہمارے جیسے معاشروں میں جہاں پہلے ہی قحط الرجال ہے وہاں ان رول ماڈلز کی کردار کشی کرنا ہمارے پست ذہنی رویوں کی عکاسی کرتا ہے ۔اس کی وجہ نہایت دلچسپ ہے ،بطور قوم ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ کوئی شخص نظریاتی بھی ہو سکتا ہے، بغیر مفاد کے سیاسی جمہوری نظام کی حمایت کر سکتا ہے یا کسی غیر ملکی این جی او سے فنڈ لئے بغیر روشن خیال ہو سکتا ہے،کیونکہ ان میں سے کوئی بھی کام ہم نے خود بغیر پیسوں یا مفاد کے کبھی کیا ہی نہیں ہوتا لہٰذا ہم یہ سوچ ہی نہیں سکتے کہ اس ملک میں نظریاتی لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو ذاتی مفاد سے بالا تر ہو کر کام کرتے ہیں ،اس سے ہماری انا کو سخت ٹھیس پہنچتی ہے چنانچہ رد عمل میں ہم اس شخص کے خلاف کردار کشی میں لگ جاتے ہیںجس کے آگے ہماری اوقات ایک بونے سے زیادہ نہیں ہوتی ۔اس رویے کی ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ ایسے تمام نظریاتی لوگ کسی قومی معاملے پر دوٹوک موقف اپنانے سے نہیں گھبراتے،اور جب کسی معاملے پر واضح پوزیشن لی جاتی ہے تو لا محالہ مخالفین کو گراں گذرتا ہے ،اور جب انہیں گراں گذرتا ہے تو وہ ایک آسان راستہ چنتے ہیں اور وہ راستہ ہے کیچڑ اچھالنے کا، اس سے ان کی انا کو تسکین تومل جاتی ہے مگر ملک کا چہرہ مسخ ہو جاتا ہے ۔
3۔محبت میں بہت ڈیمانڈنگ ہیں:یوں تو ہر انسان ہی محبت کا طالب ہے لیکن ہم پاکستانی اپنی ذات کے لئے تو شدید محبت کے طلب گار ہیں مگر جواباً محبت نبھانے میں محنت کے قائل نہیں ۔محبت کرنا آسان ہے مگر اسے نبھانا بے حد مشکل ‘اظہار محبت کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا کام ختم، ایک دفعہ کہہ جو دیا کہ مجھے تم سے محبت ہے، بس اس پر یقین کر لو ‘ہر مرتبہ نئے سرے سے ثابت کرنے کی کیا ضرورت! ضرورت ہے، محبت نبھانے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے اور محنت زیادہ تر پاکستانیوں کی گٹھی میں نہیں ہے، شروع شروع میں جب جذبہ جوان ہوتا ہے تو پاکستانی عاشق محبت میں جان مارتے ہیں مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ عاشق اپنے محبوب کو ایزی لینا شروع کر دیتے ہیں اور پھر ایک دن انہیں پتہ چلتا ہے کہ محبوب نے ان کی محبت پر اعتبار کر نا چھوڑ دیا ہے، عاشق کے لئے وہ دن قیامت کا ہوتا ہے ۔
4۔عدم برداشت:پاکستانیوں کے سماجی رویوں میں سب سے خطرناک رویہ عدم برداشت کا ہے جو گذشتہ چند سالوں میں بہت تیزی سے پروان چڑھا ہے ، مذہبی نقطہ نظر سے اختلاف رائے تو دور کی بات اب تو ہمارے معاشرے میں سیاسی اختلاف رائے پر بھی ایسا رد عمل سننے کو ملتا ہے جو ناقابل بیان ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ردعمل ایک ایسی جماعت کے پیروکاروں کی طرف سے آتا ہے جن کے بارے میں ہمیں خوش فہمی تھی کہ وہ پڑھے لکھے اور مہذب ہیں ‘سوشل میڈیا پر یہ نام نہاد برگر کلاس جس قسم کی زبان استعمال کرتی ہے ‘ گلی محلوں میں پروان چڑھنے والے اوباش لوگ بھی شاید ایسے نہیں کرتے اور اس پر دعویٰ یہ کہ ملک میں تبدیلی لے کر آئیں گے ،ان لوگوں کو چاہئے کہ سب سے پہلی تبدیلی اپنے شناختی کارڈ میں لائیں جہاں تیسری سطر میں سہواً کسی کا غلط کا نام لکھا گیا ہے ۔
5۔خود کو عقل مند سمجھنا :ہم پاکستانی خود کو بہت سیانا اور دوسرے کو بالکل چغد سمجھتے ہیں، ہمارا یہ سماجی رویہ روزمرہ گفتگو میں بے حد نمایا ں ہے ‘ہمیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہو پاتا کہ جوں جوں ہم گفتگو کرتے ہیں توں توں ہم اپنے آپ کو دوسروں پر آشکار کرتے چلے جاتے ہیں اور یوں جو لبادہ ہم نے اوڑھا ہوتا ہے وہ چند منٹ کی گفتگو میں ہی اتر جاتا ہے ۔ہمار ی ہر حرکت اور زبان سے نکلا ہو ا ہر لفظ ہمیں دوسروں کے سامنے ایکسپوز کر تا ہے مگر ہم چونکہ اپنی ذات میں ہی انجمن ہیں اس لئے ہمیں اس کا ادراک ہی نہیں ہو پاتا ۔دنیا بہت سیانی ہے ، ہم جتنی بھی کوشش کر لیں ‘ظاہر و باطن آشکار ہو ہی جاتا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *