سانحہء گوجرہ کے زخموں کا اندمال

sahil munir

مذاہب و عقائد کی درست تفہیم اول و آخر انسانی بھائی چارے اور رواداری کا عکسِ جمیل ہے۔مذاہب سے وابستہ اخلاقی تعلیمات معاشرے میں امن و آشتی کے فروغ کا موثرترین ذریعہ ہیں اور ان کی حقیقی روح پر عمل پیرا ہوتے ہوئے دنیا کو یقینی طور پر امن و آشتی کا گہوارا بنایا جا سکتا ہے۔لیکن افسوس صد افسوس ان دشمنانِ انسانیت پر جو مذہبی تعصب و منافرت کو ہوا دیتے ہوئے اس ارضِ پاک کو جہنم زار بنانے پر تُلے ہوئے ہیں اور اپنے گھناؤنے عزائم سے نہ صرف ملک میں دہشت گردی و انتہا پسندی کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں بلکہ اقوامِ عالم میں بھی بدنامی و رسوائی کا سبب قرار پائے ہیں۔مخالف عقائد کے حامل لوگوں بالخصوص مذہبی اقلیتوں پر تکفیری قانین کا غلط استعمال کرتے ہوئے ان کی زندگیوں کو اجیرن کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔2009ء میں بھی اپنے اسی مخصوص مائنڈ سیٹ کا وحشیانہ مظاہرہ کرتے ہوئے ان جنونیوں نے گوجرہ کے کمزور و ناتواں مسیحی باشندوں پر قیامت برپا کر دی اور نا صرف ان کے گھروں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا بلکہ آٹھ معصوم و بے گناہ مسیحیوں کو بھی تعصب و نفرت کی آگ کے شعلوں کی نذر کر دیا۔اِس بڑے سانحہ پر اقلیتی طبقات سمیت اکثریت سے تعلق رکھنے والے امن پسند حلقوں اور عالمی برادری نے کھل کر ماتم کیا۔ملکی و غیر ملکی میڈیا نے اس وحشیانہ کھیل کی بھر پور مذمت کی اور حکومت سے مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کا پر زور مطالبہ کیا۔حکومت نے بھی اپنے طور پر اس اندوہناک واقعہ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اقلیتوں کی اشک شوئی کی کوشش کی لیکن ماضی کے اقلیت کش واقعات کی طرح اِس بار بھی جرم کرنے والے کیفرِ کردار تک نہ پہنچ پائے اور خونِ خاک نشیناں رزقِ خاک ہو گیا۔یہاں اس حقیقت سے قطعی طور پر انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مذہبی اقلیتیں اپنے خلاف ہونے والے اِن گھناؤنے جرائم میں ہمیشہ انصاف سے محروم رہی ہیں۔اِس کی ایک بڑی وجہ اِس قسم کے مقدمات کی درست پیروی نہ ہونا ہے۔چونکہ اقلیتی کمیونٹی کے افراد اِس صورتحال میں ہمہ وقت احساسِ عدمِ تحفظ کا شکار رہتے ہیں ۔اِس لئے اِن مقدمات کی پیروی کے دوران بھی انہیں جان و مال کے مزید خدشات کا سامنا ہوتا ہے۔مذہبی انتہا پسندوں اور ان کے سہولت کاروں و سرپرستوں کی دھمکیاں نہ صرف انہیں بلکہ اکثر اوقات وکلاء اور جج صاحبان کو بھی دباؤ میں رکھتی ہیں۔بدیں وجہ اِن جرائم کے مرتکب افراد کوکبھی بھی ان کے کئے کی سزا نہیں دی جا سکی۔اِس تشویشناک صورتحال میں انسانی حقوق کے کارکنان بجا طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک معاشرے سے عدم برداشت اور مذہبی انتہا پسندی کے منفی رحجانات کا خاتمہ نہیں ہوتااِن سانحات پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔اِس کے لئے ضروری ہے کہ ریاست کے تمام شہری ایک دوسرے کے مذہبی عقائد کا احترام کرتے ہوئے بقائے باہمی کے اصول کے تحت معاشرے کی تشکیلِ نو کریں۔یہ امر خوش آئند ہے کہ نفرت و تعصب کے اِس زہر آلود بیانیے کا استرداد شروع ہو چکا ہے اور اِس قابلِ ستائش عمل کی شروعات بھی وہیں سے ہوئی ہیں جہاں 2009ء میں مسیحی برادری کو تاریخ کی بدترین وحشت و بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔پنجاب کا وہی شہر گوجرہ جو اقلیتوں کے لئے خوف و ہراس کی علامت تھا۔اُسی شہر کی فضاؤں میں اب مسیحی مسلم بھائی چارے کے روح پرور مناظردکھائی دے رہے ہیں۔یہیں کے ایک مسلم اکثریتی گاؤں کے مسلمان اپنے مسیحی بھائیوں کی عبادت گاہ کی تعمیر کے لئے چندہ اکٹھاکر رہے ہیں اور مقامی مسیحی کمیونٹی کو خوف و ہراس کی فضاء سے باہر نکالنے کے لئے خود اپنے ہاتھوں گرجا گھر تعمیر کر رہے ہیں۔مبارک ہیں وہ ہاتھ جو نفرت و تعصب کی آندھیوں کے مقابل محبت و رواداری کی مشعلیں اٹھائے کھڑے ہیں۔بین المذاہب ہم آہنگی کا یہ خوبصورت عملی مظاہرہ یقینناًان زخموں کا مرہم بنے گا جو مذہبی اقلیتوں کے جسم و روح کو گھائل کئے ہوئے ہیں۔یہ قابلِ تقلید طرزِ عمل لائقِ ستائش بھی ہے اور وجہِ افتخار بھی۔کاش کہ وطنِ عزیز کا ہر گوشہ اِسی انسان دوستی کی روشنی سے منور ہوجائے اور گوجرہ کا یہ گاؤں ملک بھر میں بین المذاہب ہم آہنگی کا استعارہ بن جائے۔
انسان برابر ہیں سارے سب انسانوں سے پیار کرو
ہر مذہب کا یہ محور ہے اِس محور کا پرچار کرو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *