ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات کو عہدے سے ہٹادیا گیا

shahid hayatایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات سمیت تمام اوپی ایس افسران کو عہدے سے ہٹا کر غلام قادر تھیبو کو ان کی جگہ تعینات کر دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے او پی ایس افسران، یعنی ایسے افسران جو نچلے گریڈ میں ہوتے ہوئے اوپر والے گریڈ کی اسامیوں پر تعینات تھے، کو ہٹانے کے احکامات دیے گئے تھے جس کے بعد حکومت سندھ نے تمام پولیس افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹایا ہے۔
حکومت سندھ کی جانب سے دو روز قبل بھی 177 او پی ایس افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹایا تھا جب کہ آج ہٹائے جانے والے افسران میں پانچ ڈی آئی جی اور چار ایڈیشنل ڈی آئی جی شامل ہیں۔
ہٹائے جانے والے افسران میں سب سے اہم نام شاہد حیات کا ہے جن کی عہدے پر موجودگی کو کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کی وجہ سے اہم تصور کیا جا رہا تھا۔
شاہد حیات کے کریڈٹ پر متعدد ہائی پروفائل کیس ہیں تاہم مرتضی بھٹو کیس کے حوالے سے وہ طویل عرصے تک خبروں میں رہے تھے کیونکہ جس وقت یہ واقعہ ہوا شاہد حیات اس وقت اے یس پی تھے۔
مرتضی بھٹو قتل کیس میں وہ دیگر پولیس افسروں کے ساتھ دو سال تک جیل میں بھی رہ چکے ہیں۔
شاہد حیات نے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور 1991 میں پنجاب پولیس میں سروس جوائن کی اس کے کچھ عرصے بعد ہی سندھ پولیس میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *