کیا واقعی میں حجاج بن یوسف ایک ظالم حاکم تھا؟

hajjaj bin yusuf

عبدالملک نے اہل خراساں اور کوفہ اور بصرہ کی باغیانہ روش کو ختم کرنے کے لئے حجاج کو گورنر مقرر کیا ۔ اس نے صرف بارہ آدمی ساتھ لئے اور ایک ہزار میل کا فاصلہ طے کر کے بالکل غیر متوقع طور پر کوفہ پہنچا۔ کوفہ میں داخلہ کے وقت اس نے نقاب پہن رکھی تھی تاکہ لوگ اسے پہچان نہ سکیں ۔ اس کے ساتھی اہل کوفہ کو پکار پکار کر مسجد میں جمع ہونے کا حکم دے رہے تھے ۔ حجاج بن یو سف ثقفی پہنچا تو لوگ شرارت پر آمادہ تھے ۔ کنکریاں ہمراہ لائے تھے ان سے گورنر کا استقبال کر سکیں ۔ اس نے ممبر پر چڑھ کر نقاب الٹی اور تقریر اس طرح شروع کی لوگو! سنو اور ہوش حواس درست کر کے سنو! تمھاری شورش پسندی اور شرارتوں سے تنگ آ کر امیر المومنین نے اس بار اپنے ترکش کا سب سے سخت تیر تم پر چلایا ہے۔تم منافق، مفسد اور باغی ہو ، تم نت نئی شرارتیں کرتے ہو اور آنے والے حاکم سے بغاوت کرنے کی عادی ہو ۔ سیدھے ہو جاؤ اور اطاعت کے لئے سر جھکا دو ورنہ تمہیں ایسا زلیل و خوار کر و ں گا کہ تمھاری آئندہ نسلیں تم پر لعنت بھیجا کریں گی ، میں تمھاری گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنے والا نہیں ہوں بلکہ تمھارے ٹیڑھے پنکو ا یسا درست کر وں گا کہ تم سد ھی ہوئی اونٹنیوں کی طرح دودھ دینے لگو گے ۔ جس طرح ایک بڑھی ان گڑ ھ لکڑی کو چھیل کر اپنے حسب منشا بنا لیتا ہے ۔ اسی طرح راہ میں بھی تمھارے چھیل کر اپنی مرضی کے مطابق کام لوں گا ۔ میرا غُصہ بہت تیز اور میرا انتقام بہت ہولناک ہے ۔ تم سیدھی طرح راہ پر آجاؤ ورنہ خدا کی قسم میں تمھاری کھال کچھوا کر اس میں بھس بھرواؤں گا۔ تلوار وں اور نیزوں کے اتنے چر کے لگواؤں گا کہ تمھاری رگ رگ سے خون فوارے چھوٹیں گے اور تمھاری بوٹیاں کر کے جنگل میں پھنکواؤ ں گا تاکہ کتے اور کوے کھائیں ۔
میں نے سنا ہے کہ تم میں سے اکثر مہلب کا ساتھ چھوڑ کر لوٹ آ ئے ہیں کہ امیر المومنین کے دشمنوں کا تلواروں کا لقمہ بن جائے اور تم بیوی بچوں میں مزے کرو۔ سن لو ! میں امیر المومنین کے سر کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو لوگ مہلب کا ساتھ چھوڑ کر آئے ہیں وہ دو تین دن کے اند ر اندر واپس چلے جائیں ورنہ مجھ سے بُرا کوئی نہیں ، میں تمھاری بیویوں کے سہاگ لوٹ لوں گا اور تمھارے بچوں کو یتیم بنا دوں گا کہ در در کی ٹھوکریں کھاتے پھریں۔ میں دیکھتا ہوں نظریں اٹھی ہوئی ہیں گردنیں اونچی ہو رہی ہیں ۔ سروں کی فصل پک چکی ہے اور کٹائی کا وقت آ گیا ہے میری نظر وہ خون دیکھ رہی ہے جو پگڑیوں اور داڑھیوں کے درمیاں بہہ رہا ہے۔اس تقریر سے لوگ بری طرح مر عوب ہوئے ۔ اس نے عبدالملک کا خط پڑھنے کا حکم دیا۔ جس میں اس کی تقریر کا حکم تھا خط کا آغاز “السلام و علیکم سے ہوا تھا لوگ سہمے ہو ئے خط سن رہے تھے لیکن حجاج سخت غصے کی عالم میں چیخا کمینوں امیرالمومنین تم پر سلام بھیجتے ہیں تم میں سے کوئی جواب تک نہیں دیتا اس پر سب لوگوں نے بیک وقت سلام کا جواب دیا اور غط نہا یت غور سے سنا ججاج نے کوفہ کے لوگوں کو حکم دیا کہ جو لوگ مہلب بن ابی صغرہ کی فوج سے بھاک کر کوفہ آئے ہیں وہ فور ا َ چلے جائیں ورنہ انھیں قتل کیا جائے گا ۔ اہل کوفہ اس حد تک فرمانبردار ہو گئے تھے کہ انھوں نے اس حکم کی فوراَ تعمیل کی ۔ بصرہ کی بغاوت حجاج بن یو سف کوفہ سے بصرہ پہنچا اور وہاں کے لوگوں کو مرعوب کرنے کے لئے بھی ایک زبردست تقریر کی اور فوج کی تنخواہوں میں کمی کر ڈالی ۔ عبداللہ بن جاورد ایک سردار نے اس حکم کے خلاف اپیل کی تو اس نے اُسے جھاڑ دیا اس پر فوج میں بغاوت ہو گئی اور فوجیوں نے ججاج کی خیمہ کو گھیر لیا لیکن حجاج نے رشوت دیکر بہت سے لوگوں کو ساتھ ملا لیا اور اس طرح بغاوت فرو ہوگئی اور اس کے قائد قتل کر ڈالے گئے ۔ اہل عراق اس بغاوت کی ناکامی سے بہت مرعوب ہوئے ۔ حجاج نے حضرت انس بن مالک مشہور صحابی کی شان میں بھی گستاخی کی اور ان کے لڑکے کو قتل کروا دیا تاہم عبد الملک نے اس پر سخت گرفت کی اور حجاج کو حضرت انس بن مالک سے معافی مانگنی پڑی۔ خوارج کا استیصال عراق پر کنٹرول کرنے کی وجہ سے عبدالملک نے حجاج کو پورے مشرقی مقبوضات کا گورنر بنا ڈالا ۔ اس حیثیت سے اس نے خوراج کے خلاف موثر کاروائی کی ۔ بحرین ،عمان اور ہر مز کے خوارج ختم کر دیئے گئے ۔ البتہ شبیب خارجی کی بغاوت کو دبانا ایک مسئلہ بن گیا کیونکہ اس نے بنو امیہ کے مظالم کے خلاف جہاد کو نعرہ لگا رکھا تھا اور اس نے بعض نہایت مخلص با اثر لوگوں کی حمایت حاصل تھی ۔ اس نے محمد بن مروان کو شکست دی ۔ حجاج کے بھیجے ہوئے چار لشکر یکے بعد دیگر اس سے شکست کھا گئے ۔ بالآخر حجاج نے کوفہ سے ایک عظیم لشکر عباب بن ورقا کی قیادت میں بھیجا لیکن شبیب نے صرف ایک ہزار سواریوں کی مدد سے اسے شکست دیکر کوفہ کی طرف بڑھنا شروع کر دیا ۔ حجاج خود مقابلے پر آیا اور ایک شدید معر کے کے بعد شبیب کو شکست ہوئی اور وہ دریا عبور کرتا ہوا ڈوب گیا۔ ابن اشعث کی بغاوت :حجاج کے ظالمانہ رویہ کے خلاف سب سے بڑی بغاوت اموی سالار عبدالرحمن ابن اشعث نے کی ۔ وہ ترکستان کے محاز پر زنبیل کے خلاف بر سرییکار تھا ۔ اس نے مفتوحہ علاقہ کا انتظام درست کرنے کے لئے تھوڑی دیر تک جنگ و جدل ملتوی کیا تو حجاج نے اسے ایک نہایت سخت خط لکھا اس پر وہ اور اس کی فوج بغاوت کرنے پر آماد ہ ہوگئی اور انھوں نے زنبیل سے صلح کر لی اور عراق واپس لوٹ کر بصرہ پر قبضہ کر لیا۔ حجاج نے شامی فوجیوں کی مدد سے ان کا مقابلہ کیا شکست کھائی اور صورت حال تھوڑی دیر تک اموی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو گئی ۔حجاج نے مہلب بن ابی صغیر کی مدد سے پھر مقابلہ کیا اور ابن اشعث کو شکست دی لیکن اس نے لوٹ کر کوفہ پر قبضہ لر لیا۔ عبدالملک نے خود مداخلت کی اور اشعث اور اہل کوفہ کو حجاج کی معزولی کی پیش کش کی لیکن کئی سرداروں نے ابن اشعث کو صلح کی یہ معقول صورت قبول نہ کرنے دی اور عبد الملک خود میدان میں نکل آیا حجاج اور عبدالملک کی متحدہ فوجوں نے کوفی لشکر کو شکست دی اور ابن اشعث کو زنبیل کے پاس پناہ لینی پڑی ۔ حجاج نے زنبیل کو لکھا کہ اگر تم ابن اشعث کا سر کاٹ کر بھیج دو تو دس سال کا خراج معاف کر دیا جائے گا زنبیل نے حجاج کی پیش کش کو مان لیا اور ابن اشعث کو قتل کر ڈالا۔ حجاج کی فتوحات حجاج نے ولید بن عبدالملک کے عہد میں فتوحات پر زور دیا اور سندھ اور ترکستان میں بے شمار فتوحات کیں۔ اس نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو سندھ پر حملہ کرنے کا حکم دیا اور یوں ہندوستان میں پہلی مسلمانوں کی باقاعدہ حکومت قائم ہوئی۔حجاج بطورمنتظم حجاج بن یوسف بہت با صلاحیت تھا ۔ وہ حکومت کے استحکا م کے لئے ہر کام کرنے کو تیار رہتا ۔ اموی حکومت نے استحکام میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے ۔ اس نے اخلاقی و مذہبی احکامات کو ہمیشہ خلیفہ کی خوشنودی کے لئے قربان کیا اور حجاز و عراق پر مضبوط اموی کنٹرول قائم کر دیا ۔ معاشی استحکام کے لئے اس نے معاشی اصلاحات نافذ کیں اور غیر مسلموں سے جزیہ وصول کیا ۔ اس کا مذاج فاتحانہ تھا اس لیے اس کے عہد میں فتوحات بھی حاصل ہوئیں ۔ تصویر کا ایک رخ ہے دوسرا رخ وہ نہایت ظالم اور سفاک انسان تھا ۔ جاو بے وجہ تلوار استعمال کرتا ۔ جان کی کی حرمت اس کے نز دیک کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ حرم کا احترام اس نے بے دریخ اٹھایا ۔ مہینوں کا احترام بھی وہ کم احترام کرتا تھا ۔ عراقیوں اور عجمی مسلمانوں سے اس ک سلوک نہایت ظالمانہ تھا۔ وہ سخت متعصب تھا اور شمالی عدنانی قبائل کا سر پرست تھا ۔ اس نے یتیموں کو بلاجواز ظلم کا نشانہ بنا یا اور اس طرح سے اس کے ظلم و جور اور قبائلی تعصب پر بنو امیہ کی جڑیں کھوکھلی کر دیں اور عوام الناس کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت کا بیج بویا گیا جو اموی سلطنت کے لئے تباہ کن ثابت ہوا۔القصہ حجاج نے اپنی تلوار اور تقریری قوت بنو امیہ کے استحکام کے لئے استعمال کی جس سے وقتی طور پر اموی حکومت مستحکم ہو گئی ۔ اس کی غلط کاریوں نے عوام کو اموی حکومت سے بر گشتہ کر دیا۔حجاج اور مخالفین: حجاج نے اپنے اور حکومت کے مخالفین پہ بے جا ظلم ڈھائے ، اس کی محبوب سزا مخالف کو بر ہنہ ( ننگا ) کر کے بغیر چھت کے قید خانون مین رکھنا تھی ۔ اس معاملے میں وہ مرد اور عورت کی تمیز بھی نہین رکھتا تھا ۔ مزید ازیت کے لئے وہ یاک ہی خاندان کو ایک ہی جگہ بر ہنہ قید رکھتا ۔ ایک وقت مین اس کے بر ہنہ قیدیوں کی تعداد 50000 پچاس ہزار تک پہنچ گئی تھی جس من میں اکثریت خواتین کی تھی خواتین کی تعداد 30000تیس ہزار خواتین تھیں ۔ ان قیدیوں میں اکثریت قاتلان عثمان اور حجاج و بنی امیہ کے سیاسی مخالفین کی تھی۔ اگر آاپ مندرجہ بالا تحریر کے کسی جز یا واقعے سے متفق نہیں تو تاریخی حوالے سے تصیح کر سکتے ہیں۔

Sanaullah Khan Ahsan

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *