برطانوی پولیس زیرِ عتاب

Irfan Hussainعرفان حسین

برطانوی پولیس کے بارے میں بچپن سے میر ا تاثراس کے بارے میں کہانیاں پڑھ پڑھ کے اس طرح قائم ہوا گیا تھا کہ اس کے غیر مسلح سپاہی ، جنھوں نے مخصوص ہیلمٹ پہنے ہوتے تھے ،گشت کے دوران شہریوں سے دوستانہ برتاؤ کرتے ہیں۔ وہ عوام کو ڈرانے کی بجائے ان کی مدد کرتے ہیں۔ تاہم یہ تصور اب ہوا ہوچکا اور اب اس کی جگہ امریکن سٹائل کے پولیس مین ہیں جو سائرن بجاتے ہوئے آدھمکتے ہیں۔ اب عام طور پر برطانوی پولیس افسر کا رویہ جارحانہ اور ہاتھ گن کی لبلبی پر ہوتا ہے اور برطانیہ میں رہنے والی زیادہ تر اقلتیں ان کی موجودگی میں خائف رہتی ہیں۔
اس تبدیلی کی ایک وجہ تو نائن الیون کے بعد دھشت گردی کے حقیقی اور فرضی منصوبوں کی تعداد میں اضافہ تھا تو دوسری وجہ مشرقی یورپ سے آنے والے تارکینِ و طن ۔ ان تارکینِ وطن کی صورت میں جہاں روز گار کی تلاش میں امن پسند شہری آئے وہیں جرائم پیشہ افراد کے گینگز کو بھی برطانیہ میں آنے کا موقع مل گیا۔ جب منظم جرائم کا دائرہ پھیلنا شروع ہوا اور ایسی سرگرمیوں میں شدت آتی گئی تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا رویہ بھی سخت اور غیر لچک دار ہوتاگیا۔ تاہم جب جرائم اور دھشت گردی کے تدارک کے لیے سخت قوانین بنائے گئے اور پولیس کو زیادہ اختیارات دے گئے تو احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا۔اس سے پولیس کا رویہ اتنا جارحانہ ہوگیا کہ ایسا دکھائی دینے لگا کہ وہ سوال بعد میں پوچھے گی، پہلے مشکوک شخص کو گولی مارنا بہتر سمجھے گی۔اگرچہ برطانوی پولیس ابھی بھی ایک بہت منظم ادارہ ہے لیکن کچھ واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس والوں میں خود کو تحفظ دینے کا جذبہ پہلے سے زیادہ ہے۔ وہ اپنی حدود سے قدم باہر نکالنے میں کوئی تامل نہیں سمجھتی۔
گزشتہ کچھ برسوں سے ایسے واقعات پیش آئے جن کی وجہ سے پولیس پر عوام کے اعتماد کو شدید دھچکا لگا۔ ان میں سے شاید سب سے زیادہ وہ افسوس ناک Plebgate واقعہ تھا جس کی وجہ س کابینہ کے ایک سینئر کنزرویٹو رکن، اینڈریو مچل ،کو استعفیٰ دینا پڑا۔ اس واقعے کی تفصیل کے مطابق جب مسٹر مچل سائیکل پر گھر جارہے تھے تو ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک گیٹ پر اُنہیں دو پولیس والوں نے روک لیا۔ ان کے درمیان کچھ تیز و تند جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ ایک پولیس والے نے الزام لگا یا کہ مسٹر مچل نے اُنہیں pleb کہا(اس کا مطلب ہے کہ اُنھوں نے پولیس والے کو کمتردرجے کا شہری قرار دیا... اور اسے برطانوی معاشرے میں انتہائی سنگین جرم سمجھا جاتا ہے)۔ اگرچہ وہ مسلسل تردید کرتے رہے کہ اُنھوں نے یہ لفظ استعمال نہیں کیا لیکن میڈیا میں بلند ہونے والے شور اور دیگر پولیس افسران کی طرف سے کی جانے والی تنقید کی وجہ س ے اُنہیں استعفیٰ دینا پڑا۔ تاہم جلد یہ انکشاف سامنے آیا کہ پولیس والوں کی گواہی جھوٹی تھی اور یہ کہ مسٹر مچل کو سازش کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس پر تین پولیس افسران کو معطل کردیا گیا جبکہ کچھ اور کو بھی تادیبی کاروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اینڈریو مچل کو ابھی تک بحال نہیں کیا گیا۔ اُنہیں قانونی کاروائی پرخرچ ہونے والی رقم کے لیے اپنا گھر بھی فروخت کرنا پڑاجبکہ دوسری طرف کے وکلا کوپولیس فیڈریشن نے ادائیگی کی۔
گزشتہ ہفتے پولیس فیڈریشن کی سالانہ کانفرنس میں ہوم سیکرٹری تھریسا مے (Theresa May) نے ایک دھماکہ خیز خبر سنائی۔ دوسال پہلے اسی اجلاس میں ان پر پولیس افسران نے آوازے کسے اور دھمکی دی کہ اگر ان کی تنخواہ میں کٹوتی کی گئی تو ملک میں امن وامان کا مسلہ پید اہوجائے گا۔ اس مرتبہ مس مے نے بھی جارحانہ لہجہ اپناتے ہوئے پولیس افسران کو خبردار کیاوہ سر ڈیوڈ نورنگٹن کی سفارش کردہ اصلاحات کو رضاکارانہ طور پر نافذکرلیں ورنہ ان کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔ اس کے بعد اُنھوں نے اعلان کیا کہ حکومت پولیس فیڈریشن کو دی جانے والی دولاکھ پاؤنڈ سالانہ امداد معطل کررہی ہے اور مستقبل میں پولیس افسران کو فیڈریشن میں جانے یا نہ جانے کا اختیار ہوگا۔ ان کی جارحانہ تقریر کر ناپسندیدگی کے عالم میں سنا گیا اور بہت سوں کو یقین نہیں آرہا تھا کہ 1918 میں ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے تشکیل پانے والی پولیس فیڈریشن سے اس سخت لہجے میں بھی مخاطب ہوا جاسکتا ہے۔
دوسری طرف ہوم سیکرٹری کی تقریر کو سیاسی حلقوں اور عوام نے بہت سراہا۔ اسے اندازہ ہوا کہ پولیس ان کی نظر میں کس قدر غیر مقبول ہوچکی ہے۔ مسخ شدہ اعدادوشمار پیش کرنے سے لے کر نامناسب قوت کا استعمال کرنے والی برطانوی پولیس دراصل خود ہی ایک قانون بن چکی ہے۔ اکثر اوقات پولیس افسران کے غلط افعال کی چھان بین کے لیے کی جانے والی داخلی انکوائری کو کارپٹ تلے چھپادیا جاتا ہے اور عوام اس کے نتائج کبھی نہیں جان سکتے۔ مس مے کی دھماکہ خیز تقریر کوڈیلی ٹیلی گراف کے ایک بلاگ میں ’’کسی بھی برطانوی سیاست دان کی انتہائی ناقابلِ یقین تقریر‘‘ قرار دیا گیا جبکہ دی گارڈین میں مارٹین کیٹل(Martine Kettle)نے اسے ’’ مرکزی حکومت کی طر ف سے پولیس کے خلاف اٹھایا گیا اس صدی کا سب سے جارحانہ قدم‘‘ لکھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ برطانوی پولیس اب مقدس گائے نہیں رہی۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہاں بچارے پولیس افسران اور جوانوں کو سیاست دان اپنے ذاتی ملازم تصورکرتے ہیں۔ ان کے پاس نہ مناسب تعلیم ہوتی اور نہ تربیت، اس لیے وہ اپنی ملازمت کی شرائط پر کوئی آواز بلند نہیں کرسکتے۔عام سپاہیوں کا تو ذکر ہی کیا، سینئر پولیس افسران کو بھی سیاست دانوں اور عدلیہ کے عتاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بات بات پر تبادلے اور معطلی کی سزا عام ہے۔ ستم یہ کہ ہر مرتبہ وہی قصوار نہیں ہوتے لیکن وہ اپنے خلاف اٹھائے گئے کسی اقدام پر آواز بھی بلند نہیں کرسکتے۔دوسری طرف برطانوی پولیس افسران ہوم سیکرٹری پر ہوٹنگ تک کرسکتے ہیں۔
دراصل برطانوی پولیس کو اپنے دیرینہ تاثر کی وجہ سے عوام اور میڈیا کی اتنی حمایت حاصل تھی کہ سیاست دان اس پر تنقید نہیں کرسکتے تھے۔ یہ تاثر کچھ حقیقی بھی تھا اورکچھ کہانیوں اور ٹی وی فلموں اور ڈراموں کا پیدا کردہ۔ چنانچہ جب پولیس ان تارکینِ وطن کو روکتی اور سوالات پوچھتی جن کی جلد کا رنگ سفید نہیں تھا تو برطانوی معاشرے میں کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوئی ۔ یہاں اس پر تنقید کی کوئی روایت نہیں ملتی تھی لیکن گزشتہ ایک یا دو سالوں سے یہ صورتِ حال تبدیل ہورہی ہے۔ کچھ واقعات کی وجہ سے اس کے جارحانہ برتاؤ پر بات کی جانے لگی۔ پھر کچھ بدعنوانی کے سکینڈل بھی منظرِ عام پر آئے۔ اب میڈیا بھی اس پر نظر جمائے ہوئے ہے۔ تھریسا مے نے اپنی تقریر میں برملا کہا کہ برطانیہ میں پولیس کی روایت ’’policing by consent‘‘ تھی، لیکن اب ایسا نہیں رہا۔ امید کی جانے چاہیے کہ ہوم سیکرٹری کی وارننگ کے بعد پولیس فیڈریشن معقولیت کا مظاہرہ کرے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *