ماضی کا سب سے بڑا چرچ حاجیہ صوفیہ پھر سے مسجد بنے گی؟

turlish mosqueترک شہر استنبول میں واقع حاجیہ صوفیہ پر شدید تنازعہ پایا جاتا ہے۔ آج کل اس میں علی الصبح قرآن کی تلاوت ہوتی ہے۔ کیا ماضی کے اس چرچ اور موجودہ عجائب گھر کو پھر سے مسجد بنا دیا جائے گا؟
حاجیہ صوفیہ(آیا صوفیہ) میں ایک امام قرآن کی تلاوت کرنے کی تیاریوں میں ہے۔ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ قرآن کی تلاوت کوئی نئی چیز نہیں ہے لیکن یہ تلاوت کسی مسجد کی بجائے سرکاری طور پر ایک عجائب گھر میں کی جا رہی ہے۔ اس عجائب گھر کا نام حاجیہ صوفیہ ہے اور اسے مختلف مذاہب کے ایک مشترکہ مقدس مقام کی حیثیت حاصل ہے۔یہ عجائب گھر طرز تعمیر کا ایک شاندار نمونہ ہے۔ ماضی مین کونسٹانینوپل یا قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) میں رہنے والے رومی شہنشاہ جسٹینیان نے 532ء میں ایک شاندار کلیسا کی تعمیر کا حکم دیا۔ وہ ایک ایسا چرچ دیکھنا چاہتے ہیں، جیسا کہ حضرتِ آدم کے دور کے بعد سے نہ بنا ہو اور نہ ہی بعد میں تعمیر کیا جا سکے۔ اس حکم نامے کے 15 برس بعد ہی اس گرجا گھر کے بنیادی ڈھانچے کا افتتاح عمل میں آ گیا۔ تقریباً ایک ہزاریے تک یہ مسیحی دنیا کا سب سے بڑا کلیسا تھا۔1453ء میں کونسٹانینوپول (قسطنطنیہ) پر بازنطینی حکمرانی ختم ہو گئی۔ عثمانی دور کا آغاز ہوا اور سلطان محمد دوئم نے شہر پر قبضہ کرنے کے بعد حاجیہ صوفیہ کو ایک مسجد میں تبدیل کر دیا۔ صلیب کی جگہ ہلال نے لے لی اور مینار بھی تعمیر کیے گئے۔
اس کے بعد تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا اور جدید ترکی کے بانی مصطفٰی کمال اتا ترک نے 1934ء میں حاجیہ صوفیہ کو ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا۔ پھر اس کی تزئین و آرائش کا کام بھی کیا گیا اور بازنطینی دور کے وہ نقش و نگار بھی پھر سے بحال کر دیے گئے، جنہیں عثمانی دور میں چھُپا دیا گیا تھا۔ اس بات کا بھی خاص خیال رکھا گیا کہ عثمانی دور میں اس عمارت میں کیے گئے اضافے بھی برقرار رہیں۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ یہ تمام مذاہب کا مشترکہ ثقافتی ورثہ ہے۔ اب ناقدین کا کہنا ہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی برسر اقتدار جماعت ترکی اس علامت کو ایک مسجد میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ گزشتہ برس ایک نمائش کے آغاز پر اس عمارت میں 85 برس بعد پہلی مرتبہ قرآن کی تلاوت کی گئی تھی۔ناقدین کے مطابق اس مرتبہ رمضان میں ترک حکام اس سے بھی ایک قدم آگے گئے ہیں۔ ملکی مذہبی چینل دیانت ہر روز ایسی نشریات دکھا رہا ہے، جس میں ملک کا ایک مشہور عالم اس عمارت میں تلاوت کرتا ہے۔سرکاری سطح پر حاجیہ صوفیہ میں عبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ سن 2006ء میں اُس وقت کے پاپائے روم بینیڈکٹ شانز دہم نے بھی حاجیہ صوفیہ کے دورے کے دوران اس حکم کی پابندی کی تھی۔لیکن اناطولیہ کے مسلمان نوجوان اسے دوبارہ مسجد میں بدلنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے 15 ملین سے زائد دستخط بھی اکھٹے کر رکھے ہیں۔دوسری جانب قدامت پسند مسیحی بھی حاجیہ صوفیہ کی ملکیت کے حوالے سے دعوے کر رہے ہیں۔ ان کا ایک طویل عرصے سے مطالبہ ہے کہ حاجیہ صوفیہ کو مسیحی عبادات کے لیے دوبارہ سے کھولا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *