عیسائی دہشت گرد

jam sajjad hussain

کئی دنوں سے میں اس سوچ میں گم ہوں کہ دنیامیں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو طاغوتی قوتیں کہیں نہ کہیں سے ایک مسلمان یا برائے نام مسلمان کوئی بندہ سامنے لے آتی ہیں اور ’’Muslim Terrorist‘‘ کی اصلاح اس پر چپکا کر پوری امتِ مسلمہ کو دہشت گرد گردانا جاتا ہے۔ اس سوچ کے پیشِ نظر راقم نے تاریخ کے اووراق کو کچھ کھنگالا ہے جس کے نتائج بہت ہی حیران کن برآمد ہوئے ہیں۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ چنگیز خان منگولیہ کا سردار تھا جس نے اپنی بربریت کے ذریعے قریباََ چار کروڑ انسانوں کو تہہِ تیخ کردیا۔ چنگیز خان نے ایک گھنٹے میں 17لاکھ 48ہزار انسانوں کو قتل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ وہ شہروں کو فتح کرنے کے بعد انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنانے میں شہرت رکھتا تھا جسے اس کے پوتے ہلاکوخان نے جاری رکھا۔ اس کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے چینی اور مسلمان تھے۔ چنگیز خان مسلمان نہیں تھا۔ نپولین بوناپارٹ فرانس سے تعلق رکھنے والا ایک عیسائی لیڈر تھا جس نے اپنے دورِ حکومت میں پورے یورپ پہ انقلابی جنگوں کا سایہ مسلط کیا جس میں اندازاََ 50لاکھ افراد لقمہِ اجل بن گئے۔ چونکہ نپولین ایک عیسائی تھا اس لیے اسے ہیرو تسلیم کیا گیا اور دنیا میں اسے عظیم جرنیل اور فاتح قرار دیا گیا۔ سکندرِ اعظم آدھی سے زیادہ دنیا فتح کرنے والا عیسائی حکمران تھا۔ دنیا فتح کرنے کا جنون میں پاگل وہ کئی ملکوں کو تاراج کرتا گیا اور برصغیر تک آن پہنچا۔ ایک اندازے کے مطابق سکندرِ اعظم سوئم نے تقریباََ 10لاکھ انسانوں کا قتلِ عام کیا جس کی بنا پر اسے سکندرِ اعظم کہا جاتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ نہ تو وہ کسی مدرسے کا طالبعلم تھا اور نہ ہی مطالعہ پاکستان اور دینیات پڑھی تھی پھر بھی وہ اتنا وحشی اور بربریت میں یکتا تھا۔ سوویت کا مشہور کمیونسٹ جینریخ یگوڈا کمیونسٹ روس کی خفیہ پولیس کا چیف اور بدنام زمانہ گلاگ کیمپوں کا بانی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے اندازاََ 10لاکھ انسانوں کو گلاگ کیمپوں میں تشدد، بیگار، اور اذیتیں دے کر قتل کیا۔ چونکہ موصوف سرخ انقلاب کے حامی تھے اس لیے ان کا نام تاریخ میں بھلا دیا گیا تاکہ فرزانہ باری اور باچا خان جیسے سرخے اپنی اپنی دکانداری چمکا سکیں اور دنیا کو فریب کے جال میں پھنسا سکیں۔ایڈولف ہٹلر پیدائشی طور پر عیسائی تھا جو بعد میں ملحد ہوگیا اور سوشلسٹ نظریات کی طرف راغب ہوگیا۔ ہٹلر نے اپنے دورِ حکومت میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ انسانوں کا قتلِ عام کیا جن میں یہودی ، جنگی قیدی، معذور اور سیاسی مخالفین شامل تھے۔ قتل کے لئے تشدد، بیگار، اور زہریلے چیمبرز کا استعمال کیا گیا۔ ماؤزے تنگ چین کا کمیونسٹ سربراہ تھا۔ اس کے دورِ حکومت میں تقریباََ پانچ کروڑ انسانوں کو ماردیا گیا ۔ اس کے دور میں کسانوں کا تاریخ استحصال کیا گیا۔ ایک آلو چور کو نہر میں دھکا دینا، والدین کے ہاتھوں بچوں کا زندہ دفن کرنا ، ناک کان کاٹنا، سردیوں میں کسانوں سے ننگے بدن کام کروانا عام تھا۔ کسانوں اور مزدوروں کے حقوق کی ڈھونگ رچانے والی دیسی سرخے اسی کی نظریاتی اولادیں ہیں۔ لینن روس کا کمیونسٹ صدر تھا اور مارکسٹ سوشلسٹ ملحد نظریات کا حامل سرخا تھا۔ اس کے دورِ حکومت میں قریباََ دو کروڑ انسانوں کا قتلِ عام کیا گیا ۔ اس کے دور میں تمام زمینیں حکومت کی ملکیت میں لی گئیں جن پہ کسانوں سے مزدوری لی جاتی تھی اور حکومت کی مرضی کی اجرت دی جاتی تھی۔ میڈیا پر مکمل حکومتی کنٹرول قائم کیا گیا۔ کسانوں کی مزاحمت کو کچلنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا اور بے دریخ انسانوں کو قتل کیا گیا۔ سٹالن روس کی کمیونسٹ پارٹی کا سربراہ تھا جو پیدائشی دور پر عیسائی تھا اور بعد میں ملحد سوشلسٹ نظریات کی طرف مائل ہوگیا ۔ اس کے دورِ حکومت میں تقریباََ 6کروڑ لوگوں کو قتل کیا گیا۔ جبری مشقت کے گلاگ کیمپوں میں بیس لاکھ مزدوروں کو قتل کیا گیا۔ خوبصورتی یہ ہے کہ 1945اور پھر 1948میں دو بار نوبل پرائز کے لئے نامزد کیا گیا۔ پاکستان کی عوامی نیشنل پارٹی ، فرزانہ باری، تیمور لال، پرویز ہود بھائی اور دیسی سرخے اسی سٹالن کی نظریاتی پیروکار مانے جاتے ہیں۔ شاکازولو اٹھارویں عیسوی صدی میں جنوبی افریقہ کا حکمران تھا۔ شاکانہ صرف جنگ و جدل میں مہارت رکھتا تھا بلکہ دشمنوں کی آبادیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے میں بھی شہرت رکھتا تھا۔ اس نے اپنے دور میں دس سے بیس لاکھ انسانوں کا قتلِ عام کیا۔ قیدیوں، عورتوں ، بچوں حتیٰ کہ جانوروں کو قتل کیا گیا۔ شاکازو ایک عیسائی حکمران تھا۔ جنرل لوتھروون ٹروتھا ایک جرمن عیسائی جرنیل تھا۔ اس نے نمیبیا کے علاقے ہیروا اور نماکا میں ایک لاکھ انسانوں کو قتل کیا۔ اس نے ہرورو قبائل کو قتل کرنے کے بعد بقیہ لوگوں کو صحرا میں دھکیل دیا جہاں بھوک اور پیاس سے ان کی ہلاکت ہوئی۔ اس کا حکم تھا کہ ہرورو جہاں نظر آئے اسے قتل کردو چاہے وہ مرد ہو، عورت ہو یا بچہ ہو۔ کالے مقامی امریکیوں کی نسل کشی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ اس نسل پرستی کی کوکھ سے مارٹر لوتھر کنگ نے جنم لیا جس کا قریباََ اختتام موجودہ امریکی صدر باراک اوباما کی صورت میں نکلا۔ کالے عمومی وہ لوگ تھے جو امریکہ کے باشندے تھے۔ نئے علاقوں کی تلاش میں یورپ سے عیسائی تاجر امریکہ آئے۔ کالے امریکیوں نے انہیں خوش آمدیا کہا اور یہی ان کی غلطی ثابت ہوئی۔ تاجروں نے ان کی زمینوں پر قبضہ کیا ، ان کے مال مویشی لوٹے اور 10کروڑ مقامی امریکیوں کو قتل کردیا۔ آج امریکہ میں کالے اقلیت میں ہیں۔ عیسائی گورے امریکہ کے مالک ہیں اور ہر سال کالوں کی نسل کشی کی خوشی میں یومِ تشکر مناتے ہیں اور خود کو سکیولر اور لبرل قوم قرار دیتے ہیں۔ انقلابِ فرانس کی مثال بھی سبھی کے سامنے پیشِ خدمت ہے۔ سترھویں صدی کے آخر میں فرانسیسی حکمرانوں کے خلاف انقلاب کی لہر اٹھی جس میں عیسائیوں نے حکمرانوں کا تختہ الٹا ۔ انقلاب کا مقصد حکمرانوں سے نجات اور سکیولر ، لبرل اور روشن خیال معاشرے کا قیام تھا۔ انقلاب کے دوران ڈیڑھ لاکھ انسانوں کا قتلِ عام کیا گیا۔ یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ انقلاب کے نام پر انسانی خون بہانا درست اور جہاد کے نام پر استعمار کے خلا ف ہتھیار اٹھانے کو دہشتگردی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں روسی عیسائی ریاست نے قفقاز کے رہنے والوں کو نشانہ بنایا اور اندازاََ پندرہ لاکھ مسلمانوں کا قتلِ عام کیا اور پانچ لاکھ نقل مکانی پہ مجبور کردیا۔ روسی ریاست نے 90فیصد آبادی کو یاتو قتل کردیا یا نقل مکانی پر مجبور کردیا اور نقل مکانے کرنے والوں کی اکثریت بھوک، افلاس اور بیماریوں کا شکار ہو کر ختم ہوگئی۔ افسوس کہ آج ہم ان مسلمانوں کے بارے میں جانتے تک نہیں۔ 1914میں پہلی جنگِ عظیم کا آغاز ہوا جب ایک عیسائی گوریلو پرنسب نے آسٹریا کے عیسائی لیڈر فرینز فرڈینینڈ کو قتل کیا۔ یوں پہلی عالمی جنگ کا آغاز عیسائیوں نے کیا۔ اس جنگ میں دو کروڑ انسان ہلاک ہوئے۔ جنگ میں پڑے پیمانے پر مشین گنوں، کیمیائی ہتھیاروں اور زہریلی گیسوں کا استعمال کیا گیا۔ لاکھوں لوگ بھوک، بیماریوں اور افلاس سے ہلاک ہوئے۔
اسی طرح دوسری جنگِ عظیم کا آغاز 1939میں عیسائی جرمن ریاست کے عیسائی پولینڈ پر حملے سے ہوا ۔ یوں دوسری جنگِ عظیم کا سہرا بھی عیسائیوں کے سرجاتا ہے۔ اس جنگ میں تقریباََ 6کروڑ انسان جنگ سے اور دو کروڑ بیماریوں اور بھوک سے ہلاک ہوئے۔ تاریخ کی ورک گردانی کے بعد کہیں سے بھی مسلمانوں کی جانب سے قتلِ عام یا حتیٰ کہ انسان دشمنی پر مثال تک نہیں ملی۔ ہاں یہودیوں کی سازشوں میں آکر مسلمانوں نے اپنے مسلمانوں کا گلہ ضرور کاٹا ہے مگر جس قدر عیسائی حکمرانوں اور یہودیوں نے تاریخ انسانی کو شرمایا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ جہاں کہیں بھی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے فوری طور پر مسلم دہشت گردکا لیبل چپکا دیا جاتا ہے اور ہمارا میڈیا بھی فوری طور پر آپا تھاپی میں شامل ہوجاتا ہے۔ اس لئے عیسائی اور یہودیوں سے کسی بھی طرح کی اچھائی کی توقع نہ رکھتے ہوئے میری اپنے میڈیا سے التماس ہے کہ آئندہ جب بھی کبھی دہشت گردی کا واقعہ یورپ میں یا کہیں اور ہوتا ہے اور وہاں غیر مسلم ذمہ قرار دیا جائے تو اسے عیسائی اور یہودی دہشت گرد کا لیبل لگایا جائے تاکہ مذہب کی سیاست کرنے والے ٹھیکداروں کو محسوس ہو کہ ان کی چالبازیوں کی طرح اور لوگ بھی ہے جو انہیں ویسا ہی جواب دینا جانتے ہیں۔ اسی طرح تاریخ کے اووراق میں ان نام نہاد عظیم لیڈران کو جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں انہیں بھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *