کرپشن کا گورکھ دھندا

جام سجاد حسین

پانامہ لیکس نے ملک میں کرپشن کے خلاف پورا ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔ حزبِ اختلاف کے نامور کھلاڑی کرپشن کے خلاف لڑنے بلکہ کٹ مرنے کے لئے سیاسی اکھاڑے میں اتر چکے ہیں ۔ ایک طرف پانامہ لیکس کا طوفان ہے تو دوسری طرف پانچ سو ارب روپے کی زائدکی کرپشن کا الزام سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم پر ہے جنہیں سابق صدر جنابِ آصف زرداری کا یارِ خاص بتایا جارہاہے۔ یار لوگوں کا کہنا ہے کہ کراچی سے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس شاہ کا اغوا بھی کرپشن سے کلین چٹ لینے کی کڑی ہے جبکہ اس اغوا کو میڈیا میں نہ اٹھایا جائے اس کے بیک ڈراپ میں مایہ ناز صوفی قوال امجد صابری کا بے رحمانہ قتل کیا گیا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہی علیم و حکیم ہے ۔ ہاں مارکیٹ میں آج کل یہی خبریں گردش کررہی ہیں۔ ’’ڈان‘‘ نے اسی کرپشن کے گورکھ دھندے سے تنگ آکر بالاآخر اپنی خبر کے انٹرو میں مریم نواز کو جو آج کل بنا کوئی آفس ہولڈ کیے سرکاری میٹنگ کررہی ہیں اور پارلیمانی نمائندگان کو تسلیاں بھی دے رہی ہیں ان کے بارے میں لکھا ہے۔یہ سارا کام وزیراعظم کی ایک ’’dependent‘‘ بیٹی یہ کام کررہی ہے۔ پانامہ لیکس کو جس قدر حزبِ اختلاف نے سر پر اٹھایا ہوا ہے اس قدر ہی حکومتی غبارے سے ہوا نکلی ہوئی ہے۔ میاں صاحب لندن کیا گئے کہ وہاں کے وزیراعظم کا ہی دھڑن تختہ کرادیا۔ شنید ہے کہ ان کے استقبال کے لئے وہ تیاریاں کی جارہی ہیں کہ دیکھنے کے منتظر کہہ رہے ہیں۔ ’’کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے‘‘۔ حیرت انگیز بات ہے کہ ہر بار زمین پر بیٹھے ہوئے حضرات ’’تشریف ‘‘سمیت اٹھ کر گلہ پھاڑ کر کہتے ہیں ۔’’دیکھو دیکھو کون آیا۔۔شیر آیا شیر آیا‘‘۔بعد میں تشریف لانے والے اپنی تشریف سمیت گھروں کو لوٹ جاتے ہیں جہاں فاقے اور بھوک ننگا ناچ کررہی ہے جبکہ شیر دوبارہ اپنی کچھار(محلات ) میں چلا جاتا ہے۔ اس ملک میں غریبوں کو کہیں ’’شیر‘‘ بھوک، افلاس، مہنگائی اور غربت کے نوالوں سے چیر پھاڑ رہا ہے، کہیں تیر ’’روٹی ، کپڑا اور مکان‘‘ کے نام پر لوگوں کے بدن چھلنی کررہا ہے، کہیں ’’بلا‘‘ لوگوں کی دھلائی کررہا ہے۔ ہر طرف من مانیاں ہیں اور آنی جانیاں ہیں۔ پوری تمہید کا مقصد محض سیاسی رہنماؤں کی سیاہ کاریوں سے پردہ چاک کرنا ہی مقصود نہیں بلکہ ذرا ملٹری رہنماؤں کو بھی دیکھ لیجئے جن پر اربوں روپے کی کرپشن ثابت ہوئی مگر محض ’’برخاست‘‘ کا ٹیگ لگا کر کہہ دیا گیا ہے کہ ’’چلو کرپشن کی رقم واپس کرو اور انجوائے کرو‘‘۔ کیوں؟ موجودہ سپہ سالار سے تو یہی امید بندھ گئی تھی کہ وہ سبھی کی کرپشن کو بے نقاب کریں گے اور اکاؤنٹی بیلٹی فار آل کا بگل بجائیں گے۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ سپہ سالار ایک ہے اور بھگیاڑ بہت ہیں۔ اسی طرح سویلین اداروں کے ہرکاروں کا بھی کیا کہنا۔ خبر ہے کہ وہاڑی جیسے انتہائی چھوٹے سے ضلع میں پچھلے چند سالوں میں ڈسٹرکٹ پولیس آفس میں پانچ ارب روپے کی کرپشن کا میگا سکینڈل ابھرا ہے اس سکینڈل میں کئی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر تعینات ہیں۔ جنہوں نے دوران انکوائری کمال چالاکی سے معصومیت کا اظہارکرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ ’’اچھا کرپشن ہوئی ہے۔ نہیں ہم تو خبر ہی نہیں۔ لگتا ہے اکاؤنٹنٹ نے کی ہے‘‘۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکاؤنٹینٹ اس دنیا سے جاچکے ہیں۔ یوں سرکاری معنوں میں اس انکوائری کا کچھ نہیں ہوگا۔ بلکہ ایف آئی آر سابق اوچھے طریقہ کار کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ’’مردے ‘ ‘ کے خلاف کاٹی جائے گی ۔ اب مردہ پیسے کی وصولی دینے سے تو رہا۔ یوں جو زندہ ہیں وہ امر ہوجائیں گے۔ ہاں افسران کا تعلق چونکہ پولیس سروس آف پاکستان سے ہے اس لیے وہ ’’فرشتوں کے روپ میں سنٹرل پولیس آفس سے جاتے ہیں اور ڈسٹرکٹ کو دیکھتے ہیں، جائزہ لیتے ہیں، لوٹتے ہیں ، فتح کرنے کے بعد اگلے ضلع میں چلے جاتے ہیں‘‘۔ دراصل ہمارے پولیس والے بھائیوں کو بھی شاید سابق وفاقی وزیر دفاعی پیداوار جنابِ عبدالقیوم جتوئی کے اس بیان کی سمجھ آگئی ہے کہ کرپشن میں بھی سب کا برابری کا حق ہے۔ اس لیے وہ دیکھ رہے ہیں جہاں کرپشن ہرجگہ ہورہی ہے تو وہ اس ’’نعمت سے محروم کیوں رہیں‘‘۔ صرف یہ نہیں۔ بلکہ اگر ان چند افسران کو پوچھا جائے تو بلاشبہ کئی بڑے بڑے ترم خانوں کی کرپشن سے پردہ چاک ہوگا۔ جہاں سیاسی مداخلت پر بھرتیاں اور پھر پوسٹنگ دی جاتی ہووہاں کرپشن ہی ہونی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو نارروال کی معروف سیاسی شخصیت کا احوال سامنے ہے۔ جو بظاہر پڑھی لکھی ہیں اور فیس بک اکاؤنٹ پر اپنی شرافت اور ایمانداری کے خود ہی گن گاتی ہیں۔ موصوف نے ایک دو ڈی پی اوز کو پوسٹنگ دلوائی ہے اور وہاں صرف کرپشن کا ہی نہیں بلکہ لا قانونیت، حکم عدولی ، قتل، ڈکیتی ، راہزنی ، مطلب پرستی ، اقربا پروری اور دیگر برائیوں کی آماجگاہیں بن چکی ہیں لیکن ہمارے آئی جی صاحب ایسے ڈی پی اوز کے خلاف کارروائی سے اس لیے قاصر ہیں کیونکہ وہ طاقتور ڈی پی اوز مانے جاتے ہیں جو اپنے اپنے ریجنل پولیس افسران کی بات ماننے کو تیار نہیں۔کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔کیا وجہ ہے بدعنوانیت اور کرپشن کو صاف کرنے کے ہر بار ہر جگہ اعلانات کیے گئے اور نیب جیسے باقائدہ ادارے بنائے گئے مگر کرپشن ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ بلکہ کرپشن روکنے والوں کے ہی ہاتھ کرپشن سے لتھڑے ہوئے ہیں۔ وجہ ایک ہی ہے کہ ہمارے ہاں کرپشن پر سزا کا تصور نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ بہت زیادہ زور اور اثر رسوخ کے بعد بھی پوری توجہ محض ریکوری پر رہتی ہے۔ یہ ریکوری بھی محض چھوٹے موٹے کرائم اور کرپشن پر ہوتی ہے وگرنہ بڑوں کی کرپشن اور بڑوں کو یہ سسٹم خود ہی باہر بھگا دیتا ہے۔ ہاں اگر صحیح معنوں میں کرپشن کے ناسور کو اس معاشرے سے اکھاڑ پھینکنا ہے اور کرپشن کے سوروں کو واقعی قرار واقعی سزا دینی ہے تو ہمیں ایک ہی سزا تجویز کرنا ہوگی۔ اپنی عدالتوں کے نظام کو ٹھیک کرنا ہوگا اور جونہی کرپشن ثابت ہوجائے تو مجرم کو عدالت کے سامنے ہی گولی مار دی جائے۔ یہ کوئی نئی سزا نہیں ہے بلکہ ہمارے اس دوست جس کی دوستی ’’سمندروں سے بھی گہری ہے‘‘ وہاں یہ سزا رائج ہے۔ وہاں کرپشن پر یہی سزا دی جاتی ہے ۔ مجرم کو گولی ماردی جاتی ہے۔ یا پھر گولی کے علاوہ موت کی سزا مختلف طریقوں سے دی جاتی ہے۔ لیکن سزا صرف موت ہی ہے۔ جب دو چار لوگوں کو موت کی سزا دی جائے گی تو جرم خود بخود کم ہونا شروع ہوجائے گا۔ تجزیے کے لئے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں موت کے قیدیوں پر موت کی سزا پر عملدرآمد پچھلے کچھ سالوں سے شروع ہوچکا ہے یہی وجہ ہے کہ قتل کا جرم کافی حد تک اس سزا کی وجہ سے کم ہوگیا ہے۔ جب دو چار سیاستدانوں، بیورکریٹس، ملٹری و سول افسران ، ڈسٹرکٹ کورڈی نیشن و ڈسٹرکٹ پولیس افسران کو سزائے موت دی جائے گی اور اس عمل میں سپورٹ کرنے والوں اور سہولت کاروں کو بھی وہی سزا دی جائے گی جو مجرم کی ہوگی تو اس ملک میں بہتری آنا شروع ہوجائے گی۔ لیکن جب تک اس ملک میں کرپشن اور دیگر سنگین جرائم پر بوسیدہ نظام مجرمان کو سپورٹ کرتا رہے گا۔ بیل، پھربیل، دو چار ماہ کی قید ، قید پر سہولت، اے سی رومز اور ہر طرح کی سہولت مجرمان کو تھانوں ، عدالتوں اور جیلوں میں مہیا رہے گی تو جرم کا نام باقی رہے گا۔ اس لیے سوچنا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ یہ ملک ہم سب کا ہی اور اس کی ترقی ہمارا مقصد اور نصب العین ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *