اسلام اور سیکولرزم کا کیس ؟

adil fayaz

قران میں رب نے واضح طور پر فرما دیا ہے جس کا مفہوم ہے کہ
" وہ اپنی چال چلتے ہیں اور اللہ بھی، بیشک اللہ بہتر چال چلنے والا ہے۔۔۔ "
مسلمان کئی صدیوں سے غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں وہ اصل دین سے کوسوں دور ہو گئے ہیں اور چند ظاہری سے چیزوں کو دین سمجھ کر اصل روح سے دور ہو گئے ہیں ۔
اس سب کے باوجود
مسلمانوں کے معاشرے میں ابھی اتنی بے حسی نہیں پیدا ہوئی کہ اپنے خدا اور رسولﷺ کے ان دشمن کو ٹھنڈے پیٹوں پرادشت کریں جو کہ انہیں کے معاشرے میں رہتے ہیں اور سرے عام انکی (اللہ اور رسولﷺ )توہین کریں ۔
بات کی طوالت کے پیش نظر آتے ہیں اصل بات کی جانب ۔
میں اکثر کہتا ہوں کہ جس دن ہمارے دیسی سیکولر اور لبرل دوستوں نے ملا کی دستار و گفتار کی بجائے اللہ اور رسول ﷺ پر اپنا بیانیہ پیش کریں گے اس دن یہ مسلم معاشرے میں شکست کھائیں گے اور اب بد قسمتی سے ایسا ہی ہورہا ہے ۔۔۔
خیر اسہی وجہ سے
آئے دن اسلام پسندوں کا کیس مضبوط اور آسان ہوتا جا رہا ہے لیکن دوسری طرف دیسی لبرلز کا کیس دن بہ دن کم زور اور مشکل ہوتا جارہا ہے۔
کیونکہ
پہلے لبرل اور سیکولر دانشوروں نے مولوی کی دستار اور شلور پر لعن طعن کرتے تھے آجکل خدا اور رسول ﷺ کی ذات اور شخصیت پر نشتر زنی فرما رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
اس سے پہلے ایک عام مسلمان کی سوچ پر طنز کرتے تھے اب انکے قران و حدیث پر اعتراض فرماتے نظر آتے ہیں ۔
خیر
شلوار لہرانے سے پہلے وہ آزادی رائے ، جمہوریت ، قانون اور ریاست کی بالادستی کی بات کرتے تھے اب چونکہ انکی شلوار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے
تو
اب کھلے عام دوسروں کی آزادیاں سلب ،جموریت کی جگہ آمریت ٹھونسے ، قانون کو پامال کرتے اور ریاست کی بینڈ بجاتے پھرتے ہیں ۔۔۔
جب سے
ان کا اصل چہرہ سامنے آیا ہے لوگوں کو سمجھ لگ گئی ہے یہ کوئی خوش خصال سیکولرازم نہیں بلکہ یہ یورپ کا کاپی کیا ہوا اسلام دشمن ازم ہے ۔
بحرحال
اس سے ایک عام مسلمان کو اپنی رائے بنانے میں آسانی پیش آئی کہ وہ کس کیمپ میں اپنا بوریا بستر اور تکیہ رکھے ۔
تکیے سے یاد آیا
اکثر ہم پر طنز کیا جاتا تھا کہ ہم سوالات کوتکیے کے نیچے ہی رکھنے پر اصرار کرتے ہیں چند دن پہلے کی بات ہے میں ان ہی کے ایک تالاب میں دیکھ رہا تھا ۔ ایک صاحب شدید خواہش کا اظہار فرما رہے تھے کہ ہم جنس پرستی کا حق حاصل ہوچاہئے (حاصل تو ہے استعمال بھی کرتے ہوں گے لیکن شاید قانونی حق مانگ رہے ہیں ) ۔ اس میں کوئی مسلہ نہیں اسہی میں ہی انسانیت کی فلاح ہے ۔
اب اس خواہش کو وجاہت مسعود صاحب نے اپنی دیوار پر ٹانک دیا ۔ کسی نے انکو نہ ٹھوکا نہ ذلیل کیا اور نہ ہی گولی دی ۔ اب اس سے زیادہ آزدی رائے اور کیا ہوتی ؟؟
کبھی آپ لاہور میں لڑکیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیوار پر لٹکا دیں ۔ کبھی غلیظ ترین کالم اپنی دیواروں پر لگا دیں اور کبھی شلوار لہرا دیں ۔ آپ خود ہی انصاف کیجئے، اور کیا ؟ اور کتنی آزادی چاہتے ہیں ؟
لیکن
یہ جان لیجیئے کہ آپ کی آزادی آپ کو بے حجاب کر رہی ہے،
کیونکہ
اس لٹکانے ، لگانے اور لہرانے سے آپ کا کیس کمزور سے کمزور تر ہوتا جارہا ہے اور اسلام پسندوں کا مضبوط سے مضبوط تر ۔۔۔۔۔

اسلام اور سیکولرزم کا کیس ؟” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *