بنام ِ خدا

اختر سعید مدان

akhtar saeed madan.

نسیم شہزاد صاحب ہمارے ایک فن کار دوست ہیں۔کوئی دوسال قبل ،ایک ملاقات میں انہوں نے سید مبار ک علی شاہ کی ایک نظم سنائی تھی۔سید مبار ک علی شاہ کبھی ڈپٹی کمیشنر منگلا تھے،اب وہ ہم میں موجود نہیں ہیں۔اللہ اُن کی مغفرت کرے۔ جیسا کہ آپ کو علم ہے آج ہمارے گلِ نوخیز اختر کی والدہ انتقال کر گئی ہیں۔ماں جی کی وفات کی خبر سن کرسید مبارک علی شاہ کی نظم یاد کے دریچوں سے اچانک نکل کر سامنے آ گئی ۔یہ نظم گل نوخیز اختر کی نذر ہے۔
اے خداِ زندگانی
مجھے تجھ سے عمرِ فانی
کا گلہ نہیں ہے لیکن
اے اسیر جاودانی
میرا جسم گل رہا ہے
میری جاں چلی گئی ہے
مجھے ڈھونڈ دے کہیں سے
وہ کہاں چلی گئی ہے
مجھے اس کے پاس لے جا
وہ جہاں چلی گئی ہے
اے خداِ زندگانی
تو ازل ازل کا تنہا
میں اب ہوا ہوں تنہا
تیرے غم سے دیکھ کے اب
میراسانحہ بڑا ہے
میرا درد لا دوا ہے
میرے سر سے دوپہر میں
تیری چھاں چلی گئی ہے
اے خداِ زندگانی
میری ماں چلی گئی ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *