ایک ایسا ملک جہاں قیدیوں کے جسمانی اعضا نکال لیے جاتے ہیں

 china

یہ تحقیق مکمل کرنے اور لکھنے کا اعزاز ایک کینیڈین محقق ڈیوڈ کلگور، ہیومن رائٹ لائیر ڈیوڈ ماٹاس اور جرنلسٹ ایتھن گٹمین کے پاس ہے جو ایشین ممالک کے میڈیکل غلطیوں کو سرعام ایکسپوز کرنے کے عزم سے کام کر رہے ہیں، انہوں نےدس سال پر محیط اپنی ایک ریسرچ میں انکشاف کیا ہے کہ چینی حکومت ابھی بھی بہت سے قیدیوں کے جسمانی حصوں کی خریدو فروخت میں ملوث ہے باوجود اس کے کہ انہوں نے یہ کاروبار دو سال قبل بند کر دیا تھا۔ریسرچ کے مطابق سالانہ 60000 سے 100،000 آدمیوں کو قتل کر کے ان کی دل، گردے اور باقی اہم جسمانی اعضا ٹرانسپلانٹ کے لیے نکال لیے جاتے ہیں۔  2000 عیسوی کے بعد سے کل ملا کر ایک اعشاریہ پانچ ملین لوگوں کے جسمانی اعضا نکال لیے گئے ہیں جو ملک میں قائم 712 لیور اور کڈنی ٹرانسپلانٹ سینٹرز میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سے 300،000 سے زیادہ اَن ریگولیٹڈ سینٹرز میں ٹرانسلپلانٹ کیے گئے ہیں۔  

رپورٹ کے مطابق بہت سے سرجن حضرات کو یہ بھی یاد نہیں کہ روزانہ کے حساب سے انہیں کتنے ٹرانسپلانٹ مکمل کرنے پڑتے ہیں۔ کچھ حضرات دن میں چھ لیور ٹرانسپلانٹ مکمل کرنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ یہ سب نتائیج ایک تازہ ترین ورژن "بلڈی ہارویسٹ: ریوائزڈ رپورٹ ان ٹو الیگیشن آف آرگن ہارویسٹنگ آف فالون گانگ پریکٹیشنرز ان چائنا" کے نام سے پبلش ہوئے ہیں۔ فالون گونگ ایک خاص مذہبی عبادت ہے جو 1992 میں متعارف کروائی گئی اور چین تب سے اسے ختم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ یہ بات کافی عرصہ سے افواہوں میں ہے کہ ان میڈی ٹیٹرز کو حکومت کی ایما پر قتل کیا جاتا ہے تا کہ ان کے جسمانی اعضا کو استعمال میں لایا جا سکے۔ چینی حکومت کا آفیشل بیان ہے کہ چین مین سالانہ10000 ٹرانسپلانٹ مکمل کیے جاتے ہیں۔ لیکن تینوں محققین کے خیال میں یہ رقم اصل رقم سے بہت کم ہے۔ ماٹاس کا کہنا ہے کہ آفیشل نمبر کا غلط ہونا صرف دو یا تین ہسپتال دیکھنے کے بعد واضح ہو جاتا ہے۔

حتمی نتیجہ یہ ہے کہ چین میں موجود کمیونسٹ پارٹی معصوم لوگوں کے قتل و غارت کی ذمہ دار ہے اور یہ قتل و غارت حکومتی لیول پر کی جا رہی ہے۔ تحقیق کے دوران فالون گانگ کے لوگوں کو میڈیکل ٹیسٹ دینے پر مجبور کیا گیا اور اس کے بعد ان کے رزلٹ ڈیٹا بیس میں ڈالے گئے۔ رپورٹ کے جواب میں چین کی وزیر خارجہ ہوا چن یِنگ کا کہنا تھا کہ چین میں عوام کے جسمانی اعضا کے زبردستی حصول کے بارے میں تمام کہانیاں بے بنیاد اور جھوٹی ہیں۔ ایسی کہانیوں کا اصلیت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ 2014 میں چین نے اعلان کیا تھا کہ حکومت قیدیوں کی جسمانی اعضا سے محرومیت کے سلسلہ کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے اور اب صرف رضاکارانہ عطیات پر انحصار کیا جائے گا۔ ایک چیرٹی کی سالانہ رپورٹ میں پچھلے سال ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے انکشاف کیا تھا کہ چائنہ قیدیوں کو موت کی سزا دینےوالے ملکوں میں سب سے آگے ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *