جناب وزیر اعظم صاحب! تونسہ شریف کو نظر انداز نہ کریں

غلام مصطفی میرانی

ghulam mustafa mirani

چند روز قبل، جناب وزیر اعظم نے ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ فرمایا. خطاب کے سیاسی پہلو سے صرف نظر کرتے  ھوئے، سماجی اور فلاحی حوالہ سے چند گزارشات پر توجہ کا خواستگار ہوں  جناب وزیر اعظم سے اور انکے برادر خورد خادم اعلی' پنجاب سے بھی.... رھے مولانا، تو ان سے کیا گلا کرنا ھے، اقتدار اور مادیت کی ہوا و ہوس میں مست، حضرت صاحب کو نہ تو ' کل  مسلم  اخوت ' کا درس یاد رہا اور نہ ہی حق ہمسائیگی کا احساس !!  تونسہ شریف سے تاریخی تعلق اور مقامی مقتضیات کے ہر پہلو سے منہ پھیر لیا.  سیاسی، مذھبی، مسلکی ناتوں اور دینی درسگاھوں سے وابستہ ہزاروں معلمین اور متعلمین کی بھی لاج نہ رکھی. اچھا ہوا، لوگوں کو نام نہاد روحانیت اور جماعتی جنون کی حقیقت کا ادراک ہوگیا....!
وزیر اعظم کی وزٹ سے قلیل ایام قبل انہوں نے زعمائے تونسہ شریف کے ایک چیدہ چنیدہ وفد  سے واشگاف وعدہ کیا تھا کہ لفٹ کینال کی تونسہ شریف تک توسیع اور آب رسانی  ( جسے شدید ضرورت اور ناگزیر اھمیت کے باعث فیض رسانی کہنا چاھیئے) کی منظوری کیلئے وزیر اعظم سے بات کریں گے ! پھر ڈھارس صرف مولانا موصوف سے میل ملاقات یا انکے عہدوپیمان پر کیا  موقوف،  ماضی میں ان کے والد معظم مولانا مفتی محمود صاحب سے تونسہ شریف کے عوام کی محبت اور وابستگی کے رشتے اتنے گہرے رھے کہ معززین کا وفد کوھسار برابر امیدیں باندھے ان کے حضور حاضر ہوا تھا.  خود مفتی صاحب کے احساسات اور جذبات اس مفلوک الحال خطہ سے کس قدر جڑے ہوئے تھے ، الفاظ اور اظہار، ان قربتوں اور شفقتوں کا احاطہ نہیں کر سکتے.... یاد پڑتا ھے، 1977 کی سیاسی تحریک نصف النہار پر تھی جس کے میر کارواں حضرت مفتی محمود  تھے. مفتی صاحب کی پکار پر تونسہ شریف کے ہزاروں سرفروشوں نے گرفتاریاں پیش کیں اور دنوں میں جیل بھر دی.  ڈیرہ غازیخان کالج سٹوڈنٹس یونین کے پریذیڈنٹ ہونے کے ناتے،  مجھے انکا قرب حاصل رہا. ڈیرہ غازی خان میں ایک جلسہ عام جوائن کرنے سے پہلے، محمد عمر بودلہ کی رہائش گاہ پر عشائیہ کے دوران بھی ھم ایک ساتھ تھے. کھانے کے دوران میری ایک بات پر مفتی صاحب کے الفاظ آج تک میرے ذھن پر مرتسم ہیں اور کئ لوگ اس بات کے شاھد ہیں.
" تونسہ شریف مجھے ڈیرہ اسماعیل کی طرح عزیز ھے ، اس پسماندہ اور  بےآب و گیاہ سر زمین کی ڈیویلپمنٹ کیلئے میں ہر فورم پر آواز اٹھاوءں گا...." جلسہ کے بعد مجھے گلے ملے اور میری تقریر کی تحسین کرتے ہوے حوصلہ افزائ فرمائ.
ماضی و حال کی حجتیں لئے، تونسہ شریف کے ممتاز عمائدین نے مولانا فضل الرحمان سے شرف ملاقات حاصل کیا اور کوہ سلیمان کے پہلو بہ پہلو پڑی لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی اور اس پر آباد، بلکہ برباد سینکڑوں بستیوں کے مکینوں کی فریاد پہنچائ جو ایک وسیع و عریض ریگستان میں مر مر کر جی رھے ہیں اور جی جی کے مر رھے ہیں. ٹوبے ٹیلوں پر  زندگی کی ذلتیں کاٹنے والے یہ لوگ لفٹ کینال کے انتظار میں گن گن کے دن گزار رھے ہیں. سونا اگلنے اور خزانے ابلنے کی صلاحیت رکھنے والی زمین، ایک لق و دق صحرا کا منظر پیش کر رھی ھے. انسان و حیوان تذلل سے دوچار اور نباتات نہ ہونے کے برابر....اکیسیویں صدی کے افق پر اس بانجھ دھرتی اور اسکے باسیوں کی بد حالی پر مولانا فضل الرحمان کی بے اعتنائ اور سنگ دلی پر تو قبلہ مفتی صاحب کی روح بھی کانپ اٹھتی ہو گی کہ فضل الرحمن نے تونسہ شریف کے عوام سے کیسا سلوک روا رکھا....! عمائدین کی آہ و بکا کو درخوراعتنا سمجھا اور نہ انکی فریاد وزیر اغظم تک پہنچائ.
لفٹ کنال ( Lift Canal) کا مطالبہ ڈیرہ اسماعیل خان کے لوگوں سے کہیں پیشتر، تونسہ شریف کے بے یار و مدد گار عوام کا تھا جو سالہا سال سے چیخ و پکار اور  فریاد و فغاں بن کر، مدت سے چہار سمت گونج رھا ھے. مولانا فضل الرحمن کو ملنے والے وفد نے صراحت کے ساتھ تفصیلات بتائیں. علاقہ کی اذیتناک  کسمپرسی اور بدترین بے چینی کی مکمل تصویر سامنے رکھی مگر مولانا نے علاقہ کے منتخب وفد سے وعدہ کے باوجود، عملا" اور عمدا" اغماض برتا اور تونسہ کی تشنگئ آب کا مطالبہ تو کجا، تذکرہ تک کا تکلف بھی نہ کیا. لفٹ کینال کے فیوض اور اثمار سے تونسہ کو محروم کر دیا گیا... ڈیزائن  اور فنڈز ایلوکیشن کی منظوری کو صرف ڈیرہ اسماعیل خان کی حدود تک محدود رکھا گیا...!
تونسہ والو ! اب مل کر ماتم کرو مولانا کی چیرہ دستی اور ذھنی پستی پر ،
وزیر اعظم کی لاعلمی اور
اپنے "جمہوروں" کی نارسائ اور لاچاری پر،
خادم اعلی کی بے خبری یا صرحا" چشم پوشی پر،
اپنی بے بسیوں اور مجبوریوں پر...کہ علاقائ سیاست کی منڈی کا سارا مندہ،  آپ کا مقدر ٹھہر گیا، بڑی بے دردی سے تونسہ کے مظلوموں کی آواز کو دبا دیا گیا...اس حوالہ سے شاید ہمیشہ کیلئے، کیونکہ اربوں مالیت کے منصوبے کا ڈیزائن ایک مرتبہ رو بہ عمل ہوگیا تو پھر  ترمیم یا تبدیلی کی کوئ گنجائش باقی  نہیں رھے گی .
اب آپ کو یا آپ کی مقامی قیادت کو خود ہی مشکلات سے نبٹنا اور اپنے مسائل کا بیڑہ اٹھانا ھو گا. یاد رکھیں ، بیساکھیوں کی زندگی معذوری کی علامت ھے اور سہاروں پر جینا بے غیرتی....... اپنے درد کا درماں خود ہی ڈھونڈنا ھو گا، یگانگت  اور یکسوئ کے ساتھ.، اتحاد اور قوت کے ساتھ......
ایسے مذموم رویوں اور مدقوق عادات کو ترک کرنا ھو گا جن کے کارن، دست ایک دوسرے پر دراز ہوتے ہیں اور زبانیبں ذاتیات کے بخے ادھیڑتی ہیں. باھم دست بگریباں ، آپ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رھے ہیں اور زمانہ اوج و کمال کے زینوں پر زقندیں لگاتا آگے بڑھ رہا ھے چنانچہ انتشار اور اضطرار کے گرداب اور محکومیت کی لعنت نے آپ کو "اکتفا " پر جینے اور "راضی برضا" رھنے کا خوگر بنا دیا ھے.  ابن خلدون نے صدیوں قبل کہا تھا کہ کسی بھی سماج کے سدھار یا زوال میں، شہریوں کا اجتماعی شعور اور مجموعی رویہ کلیدی کردار ادا کرتا ھے. قانون قدرت کی تنبیہہ اور قواعد فطرت کی تنقیہہ کیا ھے ؟ یہی کہ اس قوم  کے حالات کبھی نہیں بدل سکتے جو تغیرات اور تبدیلی کیلیئے خود خواہاں نہ ہو، اپنے آپ کوشاں نہ ہو....
مشاھدات کا مطالعہ اور تجربات کا تقاضا   یہی ھےکہ در بدر ٹھوکریں کھانے اور قعر مذلت کو اپنا مقدر بنانے کی بجائے، خود احتسابی سے کام لیں اور سوچ سمجھ کر  اپنی تقدیر کے فیصلے کریں (وقت ایک بار  پھر آپ کی دھلیز پر دستک دینے والا ھے. ضمنی انتخابات کا الارم بج چکا ھے. آپ کی دیانت اور امانت کی آزمائش کا مرحلہ سر پر آن پہنچا ھے. ووٹ کی پرچی بہت بڑی امانت ھے اور دیانتداری آپ سے راست روی کا تقاضا کرتی ھے...حق و باطل کی پہچان ، عدل و بے انصافی کی میزان......صحیح اور غلط کا امتیاز ، معیاری یا بیوپاری کرداروں کی تشخیص اور....در حقیقت ، انتخاب کی صورت میں آپ کا امتحان ،   آپ نے خود ہی اپنے مستقبل  کا فیصلہ کرنا ھے. کسی کمیشن خور ، کرپٹ ، خائن، خود غرض اور صلاحیتوں سے عاری شخص کو مت  ووٹ دیں. آپ اپنی قیادت کا حق ایسے خودار، خدمتگزار، باکردار اور غیور  انسان کو تفویض کریں جو بابانگ دھل اور ڈنکے کی چوٹ پر آپ کے مسائل کی  بات کرسکے، جو لفٹ کینال اور دور حاضر کی دیگر تمام جدید سہولتوں کی فراھمی کو یقینی بنانے اور علاقہ میں پائ جانے والی بیروزگاری کا مداوا کرنے کی صلاحیت رکھتا ھو. "ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ھے ساقی" کے مصداق، بخدا تونسہ شریف کے کوھسار ، ریگستان اور میدان  لامحدود اسباب اور خزانوں سے مالا مال ہیں اور عوام صیقل ہونے کی رھنمائ اور مدد کے منتظر.....)
بات لفٹ کینال کے مجوزہ منصوبہ کی ہو رہی تھی ، احساس محرومی در پیش  مجبوریوں کے پس منظر کیطرف لے گیا جہاں اپنی ہی لغزشوں اور خودکردہ خطاوءں کے منہ چڑاتے ھجوم کے علاوہ کچھ دکھائ نہ دیا . عوام ہیں مگر صم بکم عم، سوچ ھے مگر پابہ زنجیر ،  خواہشات ہیں مگر بے پروبال ،  آرزوئیں ہیں مگر موھوم موھوم.....قہرمانی اور قنوطیت نے، لوگوں کو قوت فیصلہ کی استطاعت سے عاری کر دیا،  بھٹکا ہوا راھی ہمیشہ سرابوں کے پیچھے بھاگتا اور مایوسیوں کے محور پر مضطرب الحال رھتا ھے...! زمانہ کروٹ لے رہا ھے اور قدریں بدلنا شروع ہو چکی ہیں. اندھی تقلید سے توبہ کرنے کا وقت ھے، اقبال نے کیا خوب کہا ھے..
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا  نہ بن ، اپنا تو بن .
وزیر اعظم نواز شریف کو، جہاں تک میں  جانتا اور سمجھتا ہوں ، فطرتا" نرم خو اور اھل ترس انسان ہیں، فلاحی مزاج رکھتے ہیں، انسانی استجابت اور استعانت کیلئے گوش بر آواز رھتے ہیں. اگر ان تک اھلیان تونسہ کی استدعا پہنچائ جاتی اور لفٹ کینال کے منصوبہ کی توسیع میں، تحصیل تونسہ شریف کی شمولیت کا  تقاضا کیا جاتا ، انہیں متعلقہ علاقہ کی ھولناک پسماندگی اور بنجر و بانجھ وسیع اراضی کی تفصیلات اور تقاضوں سے آگاہ کیا جاتا، مجھے یقین ھے ، منظوری اور فوری فوقیت کے اقدامات میں وہ لمحہ بھر کی تاخیر نہ کرتے مگر مطلبی مزاج  مولانا موصوف، من چاھے منصوبوں سے ماورا کچھ بھی برداشت کرنے پر امادہ نہ تھے.
شروع شروع میں موجودہ چشمہ رائٹ بینک کینال (CRBC) کو ڈیزائن کرتے ہوئے،  پچادھ کا ایک وسیع علاقہ  محض اس بنیاد پر محروم کر دیا گیا تھا کہ تونسہ کیلئے صرف 1800 کیوسک پانی منظور ھوا لہذا  پانی کی مختص شدہ مقدار کو پیش نظر رکھتے ہوئے، اسی تناسب سے اراضیات کو مستحق آبپاشی ٹھہرایا گیا ، نتیجتہ"  نہر کیلئے نشاندھی نہایت نیچے کیطرف کی گئی اور پھر تعمیر ھوئ.
اس فیصلہ میں پہلا ظلم تو پچادھ کے ایک وسیع علاقہ اور آ بادیوں کے ساتھ نا انصافی اور انسانیت سوز رویہ کا ھے جنھیں دانستہ نظرانداز کردیا گیا تھا ( اس مذموم حرکت اور ظلم و زیادتی کی تلافی صرف لفٹ کینال کی فوری منظوری اور تکمیل سے ہی ممکن ہو سکتی ھے)  دوسرا ستم جو زیادتی کے ساتھ ساتھ مضحکہ خیز بھی ھے، مختص شدہ  1800 کیوسک پانی کی مقدار کسی بھی طریقہ یا فارمولا کے تحت، نہر سے منسلک زرعی اراضیات کو کور(cover) نہیں کرتی. اگر مختص شدہ پانی پورا بھی فراھم کیا جائے تو پھر بھی ہزاروں ایکڑ اراضی آبپاشی سے محروم رہ جاتی ھے.
ستم پر ستم ملاحظہ فرمائیے، قدرت کے آبی خزانہ سے قارونوں نے جو 1800 کیوسک منظور کئے تھے ، آج تک کبھی بھی منظور شدہ مقدار میں پانی نہیں چھوڑا گیا. زیادہ سے زیادہ فراھمی 800 سے 1200 کیوسک کے درمیان رھی ھے جو عوام کیلئے اذیتناک اور متعلقہ محکموں کے ناخداوءں اور حکمرانوں کیلئے شرمناک ھے کیونکہ پانی کی شدید کمی کے باعث میں نے فصلوں کو سوکھتے اور لوگوں کو لڑتے مرتے پایا ھے. کوئ تو پوچھنے اور گرفت کرنے والا ھو کہ مقررہ مقدار سے پانی کم کیوں دیا جاتا ھے، نہر کی بار بار بندش کا ذمہ دار کون ھے ؟
نجانے کب تک تونسہ کو طفیلی حیثیت دے کر طاقتور اسکی تقدیر سے کھیلتے رھیں گے. ہر لحاظ سے تحصیل تونسہ شریف ضلعی حیثیت کا استحقاق رکھتی ھے اس ضمن میں سردار میر بادشاہ خان قیصرانی کی ماضی کی مساعی قابل قدر ہیں جن کی بھاگ دوڑ سے تب کے وزیر اعلی' پرویز الہی تونسہ شریف کو ضلع قرار دینے کیلئے خصوصی طور پر  یہاں آئے تھے. جلسہ جاری تھا اور وزیر اعلی' اپنے خطاب اور اعلان کیلئے اٹھنے والے تھے کہ اچانک صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف صاحب کا فون نازل ھوگیا جو وزیراعلی' نے سٹیج سے اٹھ کر سنا. صدر نے تونسہ کو ضلع بنانے کے اعلان سے روک دیا. وزیر اعلی نے تکرار کی اور بتایا کہ عوام کا جم غفیر یہی اعلان سننے کیلئے بیتاب نظرآ رہا ھے اور بے چینی سے منتظر ھے اور پھر یہاں سب کو معلوم ھے کہ  میں کیا اعلان کرنے آیا ہوں ، میں ہر طرف چسپاں یہی بینرز پڑھ رھا ھوں اور انہی نعروں سے پنڈال گونج رھا ھے، اسی منصوبہ کے اعلان کیلئے ھمارے کئ اداروں نے محنت کی اور یہی میری تقریر کا مسودہ ھے...مگر صدر صاحب نہ مانے اور پرویز الہی صاحب کو بتایا کہ ابھی مجھ سے سابق صدر سردار فاروق احمد خان لغاری نے بات کی ھے جن سے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے ممتاز سرداروں کا وفد ملا ھے جو مصر ھے کہ ایسا اعلان نہ کیا جائے. وزیر اعلی کو صدر کی  فرمانبرداری مہنگی پڑی ، دوران تقریر اعلان سے اغماض جلسہ کے انتشار اور بدترین رد عمل کا سبب بن گیا وزیر اعلی' سکیورٹی کے حصار میں جان بچا کر بھاگ نکلے اور ھیلی کواپٹر میں جا سانس لی.  ھیلی کواپٹر  نے تیزی سے اڑان بھری اور وزیر اعلی'  لاھور پہنچ گئے. تونسہ کی تعمیروترقی کیلئے وہ اربوں روپے کے منصوبے لے کر آئے تھے جن کی تیاری میں پنجاب کی انتظامیہ ایک عرصہ تک ھوم ورک کرتی رھی، سب دھرے کے دھرے رہ گئے. بعد میں ایک ملاقات میں پرویز الہی صاحب نے خود بتایا کہ اعلان نہ کر سکنا مجبوری بن چکی تھی مگر بدلے میں، میں نے بھاری گرانٹس اور دور رس منصوبوں کے اعلانات کا فیصلہ کر لیا تھا جن سے تونسہ کی قسمت بدل جاتی اور خوشحالی کے ایسے دور کا آغاز ھوتا کہ لوگ مدتوں یاد رکھتے اور ضلع والے مطالبہ کو بھول جاتے مگر عوام نے اپنے پاوں پر خود کلہاڑی ماری ، بے صبری اور جذباتیت نے جلسہ کو تتر بتر کر دیا اور مجھے اپنا خطاب ادھورا چھوڑنا پڑا.......یوں جلسہ کی ھڑبونگ، ھلا گلا ،کرسیوں کی مارا ماری اور لعنت ملامت کی نعرہ بازی تونسہ شریف کے عوام کو مہنگی پڑگئ. مجبوریوں میں محصور وزیراعلی' جلسہ گاہ میں اپنی اہانت پر سیخ پا ھوئے اور اپنے پورے عرصہء اقتدار میں تونسہ کو قومی اور صوبائ وسائل اور اعانت سے محروم رکھا. اس طرح جنرل مشرف کو، سردار فاروق احمد خان کی ایک کال نے سالہا سال کیلئے تونسہ کے مقدر پر کالک پھیر دی....!!!
میر بادشاہ  صاحب کے  علاقائ سطح پر موجودہ سیاسی تعلقات کو دیکھتا ھوں تو بڑی حیرت ھوتی ھے....
" اسی عطار کے بیٹے سے دوا لیتے ھیں...."
مفادات ، کمیشن اور لوٹ مار کے بد ترین شکنجہ میں تونسہ شریف کی اقتصادی اور معاشی زندگی کو مفلوج کرنے کی ایک اور بھیانک کہانی کوئ سر بستہ راز نہیں، کوہ سلیمان میں معدنیات کی دریافت پر بھٹو مرحوم سے مفتی محمود تک، کیا اقتدار ، کیا اختلاف، پورا ایوان خوشیوں سے جھوم اٹھا تھا اور اگلے دن پورے ملک میں جشن کا سماں  تھا جس سے ہر لمحہ مستی سے معمور نظر آتا تھا. یہ موقع تفصیلات کے تذکرے کا نہیں مگر گزشتہ دور میں اس منصوبے کے ساتھ وہی ھوا جو بے رحم قصاب، لمحات بھر میں  جانوروں کے ساتھ کر گزرتے ہیں. کسی کو فکر نہیں کہ اس  نفع بخش منصوبے کو تہس نہس کرکے کمیشنوں کی بندر بانٹ کرنے والوں کی گرفت کی جائے پتہ نہیں  ادارے پر ہوسناکی کی بازپرس اور احتساب سے چشم پوشی کیوں اختیار کی جا رھی ھے. غیر ملکی قرضوں، امدادوں اور ملکی ماھرین کی شبانہ روز محنت سے پروان چڑھنے والا یہ عظیم پروجیکٹ تیل اور گیس کی پیدوار کے حولہ سے صریحا" منافع میں چل رہا تھا مگر مدت سے للچائ نگاھیں وقت اور موقع کی منتظر تھیں چنانچہ جیالا شاھی نے، موقع پاتے ہی، بڑی دیدہ دلیری سے پہلے منصوبہ کو مفلوج کیا اور پھر پرائیویٹ کمپنیوں کے ساتھ مل کر موج میلے اڑائے.، الحذر و الامان !!
گلشن کی شاخ شاخ کو ویراں کیا گیا
یوں  بھی ، علاج تنگئ داماں  کیا گیا
تحصیل تونسہ شریف، جو رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے ملک کے کئ اضلاع سے کہیں زیادہ ھے. جغرافیائ اھمیت ایسی کہ تین صوبوں کے اتصال کی مظہر. پنجاب، بلوچستان اور کےپی کے یعنی تینوں اطراف کے درمیان واقع، تینوں کی سرحدوں سے متصل...مگر بد ترین بحرانوں اور محرومیوں کا شکار ھے. کتنے علاقے ابھی ایسے ہیں جہاں جانور اور انسان ایک گھاٹ پر پانی پیتے ہیں . کتنی آبادیاں بجلی کے تصور سے بھی نا بلد، بشتر بستیاں لنک سڑکوں سے محروم ، صحت سہولتیں نہ ھونے کے برابر ، تعلیم تزلزل کا شکار اور بے روزگاری کا بدترین عروج....
ایک مدت ہوئ سنتے سنتے کہ دریائے سندھ پر تونسہ--لیہ پل بن رھا ھے. لاکھوں نہیں کروڑوں عوام اس سہولت کے متمنی اور متقاضی ہیں. نسلیں گزر گئیں یہ خواب دیکھتے دیکھتے اور خبریں سنتے  سنتے.... یہ پل محض تونسہ اور لیہ کے عوام کا اقتضا نہیں بلکہ شرق میں جھنگ سرگودھا لاھور تک اور غرب میں تونسہ، رمک، ڈی آئ خان اور پورا شمالی شرقی بلوچستان مستفید ھو گا. سماجی، معاشی اور ثقافتی حالات میں تبدیلی اور ترقی کیلئے بڑے دور رس اثرات مرتب ھونگے.  دفاعی نقطہ نگاہ سے بھی اس پل کی اھمیت کسی وضاحت کی محتاج نہیں. حقیقت یہ ھے کہ مجوزہ پل کے مقام سے اکناف کا فاصلہ، جہاں دائیں بایئں پہلے پل واقع ہیں، اتنا دور ھے کہ آمدورفت میں کم و بیش چارپانچ گھنٹے فاسٹ ٹریفک اور بارہ بارہ گھنٹے سلو ٹریفک لے لیتی ھے. پھر اس پل کے نہ ھونے سے کچے کے علاقے کی ہزاروں آبادیاں اور لاکھوں لوگ، زندگی کی تمام سہولتوں سے محروم چلے آ رھے ھیں. دریاوں کے درمیاں بسنے والے شہری قدرت کے رحم وکرم پر جی رھے ہیں ورنہ یہ سارا علاقہ چوروں اور ڈاکوں کی اماج گاہ بنا رھتا ھے. کاشت کار نقد آور فصلات کاشت نہیں کر سکتے کیونکہ مجوزہ پل کے بغیر منڈی تک رسائ ناممکن ھے. درمیان میں طویل و عریض بیلٹ کی آبادیوں کے سینکڑوں مریض ہر سال  محض اس لئے لقمہء اجل بن جاتے ہیں کہ پل نہ ھونے کے باعث ھنگامی نوعیت کے مریضوں کی منتقلی محال ھو جاتی ھے. یہی حال ہر طرح کی ترسیلات کا ھے.
افادیت اور اثرات کے لحاظ سے یہ منصوبہ علاقائ نوعیت سے کہیں زیادہ صوبائ اور قومی سطح کا حامل ھے لہذا وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی' پنجاب کو ھنگامی طور پر اس پل کا سنگ بنیاد رکھ کر، جلد از جلد تکمیل کا اھتمام کرنا چاھیئے. منصوبہ کو صرف پل تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ درمیان میں  سینکڑوں کلو میٹرز پر پھیلی ھوئ تمام بڑی بڑی آبادیوں کو بھی لنک روڈز فراھم کرکے پل سے منسلک کر دینا.چاھئے.
حضور والا ! بجا ھے کہ ملک کو درپیش مسائل زیادہ ہیں اور وسائل کم مگر محرومیوں کے ازالہ میں انصاف اور انسانیت سے کام لیا جائے تو کوئ خفا نہیں ھو گا.  چند مشکلات اور مصائب کی نشاندھی کی  ھے جو سراسر نا انصافی ، بے اعتدالی اور مقتدرین کی سنگ دلی کا نتیجہ ھیں. آپ نے لفٹ کینال کا منصوبہ صرف ان لوگوں کے نذر نیاز کیا ھے جو پہلے ہی کئ گنا زیادہ پانی سے سیراب ہورھے ہیں ،  تونسہ تحصیل کا بیشتر حصہ پہلے ہی پانی سے محروم ھے. معمولی مقدار میں جو مل رہا ھے ، نسبتا" نہایت ہی کم ھے، اس متعینہ مقدار میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ،  لفٹ کینال کی توسیع کو بھی تحصیل تونسہ تک یقینی بنایا جائے جو نہایت ہی ناگزیر ھے بلکہ انصاف کا تقاضا ھے کہ ڈی آئ خان اور تونسہ شریف، دونوں مقامات پر ایک  ہی ساتھ تکمیل کے احکامات جاری کئے جائیں.  بے شک تونسہ میں کوئ فضل الرحمن نہیں مگر یقین فرمایئے، اس خطہ کے قسمت زدہ باسیوں نے بھی اکثر آپکی قیادت کو اعتماد بخشا اور آپ ہی کے نامزد کردہ امیدواروں کو اپنے ماتھے کا جھومر بنایا . علاقہ کی کسمپرسی اب کفالت اور مسائل   مداوے کے متمنی ہیں. نہر اور لفٹ کینال کے بارے میں ، ڈھوڈک پلانٹ کی تباھی کے احتساب اور بحالی  کیلئے، لیہ تونسہ پل کی بلا تاخیر تعمیر اور تحصیل بھر کی بدحال آبادیوں کو شرف انسانیت سے مستفیض فرمانے کیلئے......جو پانی، بجلی، روڈز اور طبی سہولتوں کیلئے ترس رھے ہیں.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *