انسانیت کی خدمت کا آفتاب غروب ہو گیا

ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

Dr.Ghulam Murtaza

انسانیت کی خدمت کے آفتاب عبد الستار ایدھی کی وفات پر پورے ملک نے گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔تمام اہلِ پاکستا ن کے نادارا، یتیم، لاوارث افراد اپنے ہمدرد مخلص سب سے بڑے خدمت گزار عبد الستا ر ایدھی سے 8 جولائی کو محروم ہو گئے ہیں جو کہ قوم کے لئے ایک عطیہ خدا وندی تھے۔ انہوں نے جو قوم کی خدمت کے لئے جو مشن منتخب کیا عمر بھر اس میں مصروف عمل رہے ۔ وہ پوری دنیا میں اس حوالے سے پہچانے گئے اور دنیا سے جاتے ہوئے اس خادمِ انسانیت نے اپنی آنکھیں بھی عطیہ میں عطا کر دیں۔ اور یہ آنکھیں کسی دولت کی ہوس میں مبتلا اس صاحب اختیار کو لگنی چا ہئیں تھیں تا کہ وہ اس دولت کو دیکھ سکے کہ اصل دولت وہ نہیں جو کہ بینکوں میں کاغذ کی صورت میں رکھی جاتی ہیں ۔ بلکہ اصل دولت تو انسانیت کی خدمت ہے ۔ جو لوگوں کے دل جیتتی ہے او ر ان کے دِلوں پر حکمرانی کا موقع فراہم کرتی ہے ۔وہ اس فانی دنیا سے صرف دعاؤں کے انمول خزانے لیکر گئے ہیں۔اور اپنی زندگی بھر کا سرمایہ دنیا و آخرت ( فلاحی نام ایدھی )بھی فلاحِ انسانیت کے لیے دنیا میں پھیلا کر چھوڑگئے۔ ان کی دنیا بھی سنور گئی اور آخرت میں بھی انہیں ایک عظیم مقام سے نوازا جائے گا۔ کیونکہ انہوں نے اپنے رب کے اس فرمان پر عمل کیا کہ میری اس مخلوق کی خدمت کرو اور میں تم سے رازی ہو جاؤں گا ۔ اور وہ جس شان سے رخصت ہوئے قائد اعظم کے بعد شاید ہی یہ کسی شخصیت کو سعادت ملی ہو ۔ بچپن سے لیکر اپنی زندگی کے آخری ایام تک وہ خدمت خلق میں ہی مصروف رہے۔ بچپن میں ان کی والدہ ان کو سکول جاتے وقت روزانہ دو پیسے دیا کرتی تھی۔ ایک پیسہ ان کی خرچی اور ایک پیسہ دوسرے ضرورت مند طلبہ کے لئے ہوتا تھا۔ اور ان دنوں شاید ایک پیسہ چار پولیوں میں تقسیم ہوتا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ حقوق العباد کو اولین ترجیح دی۔ وہ حقوق العبا د کو اسلا م کا چھٹا رکن تصور کرتے تھے ۔ حقوق العباد کی ادائیگی ایسا رکن ہے جس میں تمام مذاہب کا نچوڑ آ جاتا ہے ۔ا ور اسی کے ذریعے ایک عالمی برادری وجود میں آ جاتی ہے ۔ اور یہی الحامی کتابوں کا نچوڑ ہے۔ انسانیت کی خدمت کے لیے ایدھی نے جو راستہ کا انتخاب کیا وہ کوئی آسان رستہ نہ تھا ۔ اور نہ ہی ان کے پاس اتنے وسائل تھے کہ وہ دکھی انسانوں کی خدمت کر سکتے۔ انہوں نے انسانیت کی فلاح کے لئے جھولی پھیلا کر بھیک مانگی۔ اور اس طرح سے جمع ہونے والے وسائل سے انسانوں کی خدمت کی۔ اور یہ خدمت کا یہی جذبہ تھا جس میں انہیں معمولی ڈسپنسری سے شروع ہو کر دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس چلانے کے قابل بنا دیا۔انہوں نے خدمت خلق کا میدان منتخب کیا اور اس میں وہ تن تنہا کامیاب ہوئے۔ اور پوری دنیا میں ان کی خدمات کو سراہا گیا۔ انہوں نے یہ بھی وصیت کی کہ مجھے پرانے کپڑوں میں دفنا دیا جائے نئے کپڑے کا کفن بنانے کی ضرورت نہیں ۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے صدیوں پہلے یہ تلقین کی تھی اور فرمایا تھا کہ نئے کپڑوں پر زندہ انسانوں کا حق زیادہ ہے ۔ یہ بھولا ہوا سبق ایک بار ایدھی نے پھر یاد کروا دیا۔ پاکستان میں انہیں اعلیٰ سول اعزازات سے نوازا گیا ۔ لیکن جذبہ خدمت میں گم ہو کر ان کی ذات ان تقلفات سے ماروا ہو چکی تھی کہ وہ ستائش کی تمنا اور صلہ کی پرواہ کئے بغیر اپنے مشن پر پوری طرح جانفشانی سے کام کرتے رہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ انہیں اپنے جوار رحمت ، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے ۔ آمین!
مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *