ایک غیرت دو واقعات

jawad

 جواد احمدغا مد ی

غیرت، غیرت کے راگ الاپنے والوں کو بتایا جانا چاہیے کہ غیرت صرف ایک ہی چیز کا نام نہیں، جیسے مردانگی صرف ایک چیز کا نام نہیں۔ غیرت کی بھی دو شکلیں ہیں۔
۔ غیرتِ متکبر
۔ غیرتِ غیور
معذرت کے ساتھ ہم غیرتِ متکبر کا شکار ہیں۔ ہم ذہنی مفلوج ہیں جو غیرتِ متکبر کی آگ تاپ کر سر پر چار گز کی پگڑ، پاؤں میں تِلے والا جوتا پہن کر غیرت مند بنے ہوئے ہیں۔ اور کچھ وہ بھی جن کا معدہ چاہے پھٹ جائے مگر اپنی مردانگی اور کشتے کی قیمت پر نہیں۔
غیرت انسانیت کا نمک ہے مگر معلوم ہونا چاہیے کہ غیرت ہے کیا؟
خدا گواہ ہے کہ اگر غیرت کا معیار وہ ہے جو تم نے طے کیا ہے تو اس قوم کی عورتوں کی ایک بڑی تعداد بے غیرت ہے۔ کیونکہ اگر وہ غیرت مند ہوتیں تو یہ معاشرہ تم جیسے بھیڑیوں سے کب کا پاک ہو چکا ہوتا۔
مست خان کہتا ہے اس کے محلے میں ایک لڑکا رہتا تھا۔ خود کو پلے بوائے کہلانے پر فخر محسوس کیا کرتا تھا۔ ایک روز کالونی میں موجود فوارے پر اپنے تمام دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک لڑکی آتی دیکھ کر تمام دوستوں نے روایتی تبصرے شروع کر دیے۔ جب وہ لڑکی وہاں سے گزر رہی تھی تو تبصرے ولگر بھی ہوتے چلے گئے۔ اچانک وہ لڑکا اٹھا اور اس نے جا کر اس لڑکی کو ایک زناٹے کا تھپڑ رسید کر دیا۔ اور کہا تجھے کتنی دفعہ منع کیا ہے گھر سے ایسے نہ نکلا کر۔ پتا چلا موصوفہ اس کی ہمشیرہ واقع ہوئی ہیں۔
مست خان کہتا ہے۔ذرا غور کرو کیا یہ غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کا ابتدائیہ نہیں؟ یعنی فرد، اس کے اعمال اورانھی اعمال کا خود پر آن پڑنے پر اس کی غیرت کا عمل۔
مجھے تو لگتا ہے سب سے زیادہ غیرت کا بخار بھی سب سے بڑے بے غیرت کو ہی چڑھتا ہے۔ دو دن پہلے کے واقعے میں بھی سزا صرف اس کو ملی جس پر بس چلتا تھا۔ اس کے فیس بک پیج پر موجود لاکھوں کا تماش بین طبقہ اب کسی اور کی تلاش میں ہو گا۔ کاش ان کا کوئی بھائی بھی غیرت مند ہوتا۔
بھائی!جو کچھ تم بو چکے ہو وہی کچھ تو کاٹو گے۔۔۔ جو تربیت کی ہے وہی ورثہ میں ملے گی۔ معاشرہ فرد کی اصلاح سے بہتر ہوتا ہے، غیرتِ بے غیرتی (تکبر) سے نہیں۔ معاشرہ تربیت ایسی مانگتا ہے کہ بے غیرتی کرنے والی یا والے کو غیرت کرنا سکھا دی جائے۔ ورنہ بے غیرت تو شاید مر جائیں ۔ مگر بے غیرتی اور پروان چڑھے گی۔ تم جس کی محبت میں گرفتار ہو کر ماں کے پاس رشتے کی بات کرنے آؤ، وہ تو ٹھیک، مگر اگر تمہاری بہن کسی سے محبت کا اظہار کرے تو بے غیرت۔ جس سے عشق کی پینگیں تم نے بڑھائیں وہ بھی کسی کی بہن اور جس کا رشتہ تمہارے گھر آیا وہ بھی تمہاری بہن۔ تو اگر یہ بے غیرتی ہے تو تم بھی بے غیرت ہوئے۔ تو پھر تم جیسوں کا کوئی بھائی تمہارا گلا کیوں نہیں دباتا۔
غیرتِ غیور!!زندہ قومیں اپنے اخلاق اور کردار ہی سے پہچانی جاتی ہیں، وہ جانتی ہیں کہ ان کو کہاں اور کیسے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ وہ کبھی تعصب کا شکار نہیں ہوتیں۔ ان کے ہاں دلیل فیصلہ کن ہوتی ہے۔ وہ کسی وقتی فائدے کی خاطر اپنا مستقبل قربان نہیں کر دیتیں۔ وہ کسی وابستگی کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرتیں۔ بلکہ فیصلہ کا معیار استحقاق ہوتا ہے۔ ان کی بنیاد میں رائے اور اختلاف رائے تو ہوتا ہے، مگر عزت، تکریم اور اخلاق بھی موجود ہوتاہے۔ وہ نا صرف یہ کہ اپنی رائے دینا جانتے ہیں، بلکہ اپنی دی ہوئی رائے پر کسی کو شب خون بھی نہیں مارنے دیتے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم جن اداروں کے مالک ہیں ان کا دائرہ اختیار کیا ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر تجاوز ہو گا تو ہم نے اس کو روکنا کیسے ہے۔
وہ اپنی حکومتوں کی غلطیوں پر توجہ تو دلاتے ہیں اور احتجاج بھی کرتے ہیں، ان کو برا بھلا بھی کہتے ہیں ان پر تنقید بھی کرتے ہیں، مگر وہ یہ کسی صورت نہیں برداشت کرتے کہ کوئی اور ان کی جگہ پر فیصلہ کرے۔ اور پھر وہ اپنی ہی رائے کے اظہار سے اپنی بنائی ہوئی حکومت کو نکال باہر بھی کرتے ہیں مگر اُسی آئینی حق سے جس آئینی حق سے وہ کسی دوسرے کو مداخلت کی اجازت نہیں دیتے۔
مست خان کہتا ہے کہ چور، ڈاکو، لٹیرے تو مجھ سے تم تک، سب ہیں۔
ہم سارا سارا دن چارپائی توڑتے، جھوٹ بولتے، دھوکا دیتے، ٹیکس چوری کرتے ، گھروں کی بجلی کنڈوں پر چلاتے ،اپنے بچوں کی رائے کچلتے ، ٹریفک قوانین کو اور اخلاقی اقدار کو پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں یعنی ہم قانون اور اخلاقیات کا بیڑا غرق کرنا غیرت سمجھتے ہیں جبکہ یہ اصلاً بے غیرتی ہے ! بیویاں، شوہروں اور شوہر، بیویوں پر مظالم کرتے ہیں تو کیوں نہ گھر کے باہر کھڑے مستعد اور اپنی ڈیوٹی پوری کرنے والے، دھوپ، چھاؤں کی پروا نہ کرنے والے اور گھر پر افتاد آنے کی صورت میں جان دینے والے محافظ کو گھر اور بیوی بچوں کی ذمہ داری سونپ دی جائے؟
اگر تمام اجتماعی، قانونی یا معاشرتی و سیاسی برائیوں کا حل وہی ہے تو پھر افرادی یا انفرادی برائیوں یا غلطیوں کا حل بھی یہی ہونا چاہیے۔ وہ اگر تمہاری چھت ہے تو یہ ملک تمہارا گھر ہے۔ پھر دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ فیصلہ دونوں جگہ ایک سا ہو۔
بالکل اس اصول پرُ ترک عوام نے کل ایک اقدام کیا ہے کہ ہم ہو سکتا ہے اس حکومت کو اگلے الیکشن میں اٹھا کر باہر پھینک دیں، مگر اگر تم یہ اقدام کرنے کی کوشش کرو گے تو تمہیں ہماری لاشوں پر سے گزرنا ہو گا۔ کسی جرم کا جواب اس سے بڑا جرم ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر کسی نے چوری کر کے یا لوٹ کھسوٹ کر کے آئین و قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کے جواب یا سدھار میں اس آئین و قانون میں موجود سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کبھی بھی کوئی خیربرآمد نہیں کر سکتا۔
غیرت مند فرد جیسے اپنے گھر کے معاملات میں اپنے محافظ یا ملازم کی مداخلت برداشت نہیں کرتا اسی طرح غیرت مند سماج بھی کبھی اپنےمحافظوں کی مداخلت برداشت نہیں کرتا۔ یہ ہم ایک نہیں چار بار کر کے دیکھ چکے۔ سیاستدانوں نے اگربرسوں اور باریوں کا حساب دینا ہے تو ادارہ پاک نے بھی برسوں اور باریوں کا حساب اُن سے بڑھ کر دینا ہے۔
یہ بھی ایک غیرت ہے مگر یہ غیرتِ غیور ہے غیرتِ متکبر نہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *