نئے امریکی صدر کی شخصیت

jam sajjad hussain

آج کل نئے امریکی صدر کے چناؤ کی مہم زوروں پر ہے ۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی اُمیدواراور سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی اہلیہ ہیلری رودھم کلنٹن اور ریپبلکن پارٹی کے صدارتی اُمیدوار جناب ڈونلڈ ٹرمپ ان دنوں اپنی صدارتی مہم چلارہے ہیں۔ دونوں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ جاری ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو جھوٹا ، منافق، غیر مذہب، قائدانہ صلاحیتوں سے عاری ، بدعنوان اور پاگل قرار دے رہے ہیں۔ ہیلری کلنٹن اپنی ہر تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ کو بے ایمان، قائدانہ صلاحیتوں سے عاری اور پاگل قرار دے رہی ہیں جو مضبوط امریکہ کے خواب میں امریکی سرزمین سے مسلمانوں کا خاتمہ چاہتا ہے جو تمام غیر امریکی شہریوں خصوصاََ مسلمانوں کو امریکہ میں داخلے پر پابندی کا خواہاں ہے۔ ہیلری کلنٹن کے مطابق اگر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صد ر بن جاتا ہے تو وہ United States of Americaکے خاتمے کا سبب بنے گا اور یوں امریکہ متحدہ نہیں رہ سکے گا بلکہ کئی ریاستوں میں بٹ جائے گا۔ ہیلری کے مطابق ڈونلڈ ایک غیر مہذہب امریکی سینیٹر ہے جو امریکہ میں نسل پرستی کو فروغ دینا چاہتا ہے جو کسی بھی طرح سے امریکی مفاد میں نہیں ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن پر الزامات کی بوچھاڑ جاری کی ہوئی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ہیلری کلنٹن نے لیبیا کے بن غازی امریکی قونصلیٹ کے محاصرے کے دوران اپنے ذاتی ای میل ایڈریس سے اہم ریاستی امور کے متعلق ای میلز کیں جو امریکی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ہیلری ریاستی امور کو ذاتی کچن کی حیثیت سے چلانا چاہتی ہیں۔ ٹرمپ کے بقول ہیلری کلنٹن ایک بے وقوف خاتون ہے جو نہ تو اپنے شوہر کی وفادار ہے اور نہ ہی امریکی قوم کی وفادار رہے گی۔ ٹرمپ کے بقول ہیلری اپنے دل میں مسلمانوں کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہیں جو امریکی مفادات کے خلاف ہے۔ پوری سچائی یہی ہے کہ دونوں امیدواروں کی جانب سے ایک دوسرے پر لگائے گئے الزامات سچائی پر مبنی ہیں۔کم از کم پوری دنیا کو اس بات کا یقین کرنا چاہیے کہ دو اہم عہدیداران ایک دوسرے کے کردار اور ماضی و حال کے متعلق بیان دے رہے ہیں جنہیں پوری دنیا سن رہی ہے۔ دونوں میں یہ خوبیاں پائی جاتی ہیں جن کا اظہار دونوں اپنی تقاریر میں کررہے ہیں۔ دنیا کے لئے مسئلہ یہ ہے کہ دونوں میں سے ایک امیدوار اگلہ امریکی صدر ہوگا جس میں منافقت ، بدعنوایت کے اثرات ، غیر مہذہبی پن اور نسل پرستی کے جراثیم موجود ہونگے۔ یوں دنیا ایک متعصب امریکی صدر کے زیرِ سایہ چلے گی۔ صرف یہ نہیں کہ ایسا پہلی بار ہورہا ہے بلکہ یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے مگر دنیا کے کسی کونے میں خصوصاََ مسلمان ممالک میں اہلِ حل و عقد نے اس مسئلے پر شاید غور نہیں کیا کہ الیکشن سے قبل جب امریکی صدارتی امیدوار ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کررہے ہوتے ہیں تو وہ الزامات سچائی پر مبنی ہوتے ہیں کیونکہ دونوں میں سے دونوں کا مقصد ایک دوسرے کو ان کی کمزوریوں اور خامیوں کے ذریعے نیچا دکھانا ہوتا ہے اور ووٹ لینا ہوتے ہیں۔ عوامی نمائندگان انہی الزامات کی بنا پر اس امیدوار کو صدر منتخب کرتے ہیں ۔ یوں دنیا اگلے چار یا پھر آٹھ سال تک ایک کرپٹ ، بے ایمان ، منافق ، نسل پرست اور مسلم کُش امریکی صدر کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ روزِ اول سے ہر امریکی صدر کی یہی پالیسی رہی ہے۔ خود ہیلری کلنٹن نے اپنے ایک بیان میں امریکی مداخلت، مسلمانوں کا استعمال، طالبان کو پیدا کرنا، پاکستان افواج کو جنگ میں جھونکنا اور امریکی مقاصد حاصل کرنے کے بعد ان تمام عناصر کو ان کے حال پر چھوڑ کر دم دما کر بھاگ جانے کا اعتراف کیا ہے۔ اس کے باوجود ہیلری کلنٹن کے خلاف کسی بھی مسلم ملک نے بیان تک نہیں دیا۔ کیوں؟ ہیلری کلنٹن کا ماضی سبھی کے سامنے ہے۔ ہیلری کلنٹن بدنام زمانہ یہودی روتھ چائلڈ فیملی کا رکن ہیں۔ یہ ایلڈر آف زوینز کی موجودہ شکل ہے جس کی کئی شاخیں ہیں جن میں فری میسنری بھی شامل ہے ۔ فری میسن کا مقصد دنیا بھر میں بدعنوان عناصر کو چن کر اہم عہدوں پر تعینات کرنا ہے جن کی زندگیوں کو عیاشی، کثرتِ شراب نوشی اور دیگر شیطانی لوازمات سے آراستہ کیا جاتا ہے اور بعد میں امریکی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے میں یہی عناصر مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے کہا جارہا ہے کہ ہیلری کلنٹن کو یہودی لابی پوری طرح سپورٹ کررہی ہے اور ہیلری کلنٹن کی صدارتی مہم میں ڈالر ز پانی کی طرح بہایا جارہا ہے۔یوں اگر ہیلری صدر بنتی ہیں تو فلسطین سمیت دیگر ممالک میں مسلمانوں کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہوگی حالانکہ ہیلری زبان کے حوالے سے ذائقے میں مٹھاس رکھتی ہیں۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کا حال ہی دنیا کے لئے اس کی پہچان ہے۔ ٹرمپ نے اپنے ہر بیان میں مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے۔ ٹرمپ نے خود کو بددماغ ، کرپٹ اور قائدانہ صلاحیتوں سے عاری ثابت کردیا ہے۔ اگر موصوف اگلے امریکی صدر بنتے ہیں تو امریکہ میں اقلیتوں خصوصاََ مسلمانوں کے لئے زمین تنگ کردی جائے گی جو نہ تو مسلمانوں کے لئے صحیح ثابت ہوگا بلکہ خود امریکہ کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوگا۔ امریکہ آغاز سے اب تک نہ کسی کا رہا ہے اور نہ شاید رہے گا اس لیے پوری دنیا کو خصوصاََ مسلمانوں کو امریکی حکام اور قوم سے سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ قوم سے اس لیے نہیں ہونا چاہیے کہ کتنا بار امریکی قوم مظالم کے خلاف امریکی حکام کے خلاف کھڑی ہوئی ہے؟ کتنا بار امریکی قوم نے اپنے حکام کے خلاف احتجاج کیا ہے کہ وہ مسلمانوں اور دیگر کمزور قوموں کے خلاف مظالم بند کردے۔ اس لیے جب امریکی سامراج کے خلاف کوئی طاقتور اقوام کھڑی ہونگی تو یقینی طور پر امریکی اقوام کو اُن سے کسی قسم کا گلہ شکوہ نہیں ہوگا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ امریکی صدر کوئی بھی ہو امریکہ کے مظالم کبھی بھی کم نہیں ہوئے۔ امریکہ ہمیشہ کمزور ممالک کا دشمن رہا ہے۔ خون پینا امریکہ کی سرشت میں شامل ہے۔امریکی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ امریکہ کبھی کسی کا خیر خواہ نہیں رہا بلکہ امریکہ جس کا دوست رہا ہے اُسی کی پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے۔ حال ہی میں عراق، افغانستان ، لیبیا، مصر اور تیونس میں مظالم کی داستان رقم کرنے کے بعد خود امریکی سینیٹرز نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ کام امریکہ نے اپنی بدنامِ زمانہ سی آئی اے سے کرایا ہے۔ خود امریکی صدر کئی مواقع پر اظہار کرچکے ہیں کہ جہاں کہیں بھی امریکی مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ براہِ راست کارروائی کرے گا جس کا عملی مظاہرہ امریکیوں نے پاکستان میں ایبٹ آباد میں مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے دوران کیا تھا۔ اس لیے تمام ممالک خصوصاََ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی الگ خارجہ پالیسی ترتیب دے۔ اپنے دشمنوں اور دوستوں کی پہچان کرے۔ اپنی دفاعی پالیسی ترتیب دے۔ امریکیوں سے کسی بھی قسم کی اُمید نہ رکھنے اور ہمسائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات اور روابط قائم کرنے پر زور دیا جائے۔ چین ہمارا دوست ہے۔ چین کے دوست اور اپنے سابق دشمن روس کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے جانے چاہیں ۔ روس کئی مواقع پر اس عزم کا اظہار کرچکا ہے۔ امریکہ نے روزِ ازل سے ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کی پالیسی ترتیب دی ہے۔ لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی انگریز سامراج نے اپنی خارجہ پالیسی میں شامل کی ہوئی ہے۔ اس لیے انگریزوں سے دوری اور ہمسائیوں کے ساتھ قربت وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *