تمہارے رستے میں روشنی ہو!

Photo Attaul Haq qasmi sb

(کشمیری حریت پسندوں کے لئے ایک نظم)
میں کتنا نازاں ہوں اپنے لکھے ہوئے
حرف شگفتگی پر
میں سوچتا ہوں خدا نے مجھ کو ہنر یہ کیسا عطا کیا ہے
کہ میرے لفظوں کو خلعت فاخرانہ دے کر
مرا نصیبہ جگا دیا ہے
میں لاکھوں لوگوں کے آنسوئوں کو
میں ان کی افسردہ خواہشوں کو
میں ان کے پھیلے ہوئے دکھوں کو
سمیٹ لیتا ہوں اپنے دامن میں
میں اپنے ہنستے ہوئے قلم سے
میں اپنے لفظوں کے زیروبم سے
انہیں غموں سے نکالتا ہوں
اداس چہروں پہ مسکراہٹ کی روشنی جب طلوع ہوتی ہے
میری آنکھوں میں اک ستارہ خوشی سے رقصاں
پلک کی دہلیز تک پہنچتا ہے اور حیرت سے سارے بدلے ہوئے مناظر کو دیکھتاہوں
مگر یہ قصہ بہت پرانا ہوگیا ہے
’’میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا‘‘
کہ چار سو روشنی ہے اور بے شمار آنکھیں
غزالہ آنکھیں
میرے لہو میں اتر رہی ہیں
میں پوچھتا ہوں کہ اس نگر میں یہ روشنی کا غبار کیسا؟
ہوائوں میں یہ خمار کیسا؟
فضائوں میں اک صدا ابھرتی ہے
اور کہتی ہے
یہ شہیدوں کے خون کی مشعلیں ہیں، جن سے
نگر نگر میں ہوا چراغاں
یہ مائوں، بہنوں کی، بیٹیوں کی سروں سے، اتری ردا کا صدقہ!
یہ روشنی سیب جیسے گالوں، گلوں میں
نیزوں کو زیوروں کی طرح پرونے سے
ہر دریچے سے آرہی ہے
عجیب منظر دکھا رہی ہے
کہ نقد جاں ہاتھ میں ہے اور بے شمار راہی بقا کے رستے پہ
گامزن ہیں!
میں دیکھتا ہوں کہ ایک عورت کہ جس کے چہرےپر مامتاہے
کہ جس کی آنکھوں سے آنسوئوں کی لڑی رواں ہے
وہ اپنے بچے کی لاش پلکوں کی رہگزر پہ لئے کھڑی ہے
میں پوچھتا ہوں تمہیں ضرورت ہے میرے لفظوں کی
میں لاکھوں لوگوں کے آنسوئوں کی
سسکتی دم توڑتی رتوں کو
فضا میں پھیلے ہوئے دکھوں کو
میں اپنے لفظوں کے زیروبم سے
اداس چہروں پہ مسکراہٹ بکھیرتا ہوں
تم ضرورت ہو میرے لفظوں کی تو بتائو
یہ سن کے اس نے گلاب بچے کا ماتھا چوما
پھر اس کے بہتے لہو میں انگلی ڈبو کے اس نے
یہ حرف لکھے
’’خدا کرے میرے دکھ سلامت رہیں کہ ان سے
ہمارے رستوں میں روشنی ہے
تمہارے رستوں میں ایک عرصے سے راحتوں اور سہولتوں نے
گھنے اندھیروں کا روپ دھارا
سہولتوں کا غبار جس نے تمہارے رستے چھپا دیئے ہیں
وفا کے تارے بجھا دیئے ہیں
یہ مات کھائے کچھ اس طرح سے کہ جتنے منظر ہیں تابہ منزل
وہ جگمگائیں، تمہاری آنکھوں میں مسکرائیں!
یہ دکھ وہ شعلہ بنے کہ جس سے کہیں نہ امکان تیرگی ہو
تمہارے رستے میں روشنی ہو!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *