داعش کے بہاؤ کا اثر

aamirمحمد عامر رانا

پاکستان کے ایک جنگجو گروہ، تحریکِ خلافت کے دولت اسلامی عراق و شام، جو اب اپنے آپ کو اسلامی ریاست قرار دے رہی ہے، کی تابعداری کے اعلان نے ہم میں سے متعددکو حیران کر دیا ہے۔ ہرچند کہ زیادہ تر تجزیہ کار اس اعلان کے متعلق مشکوک ہیں اور اسے غیر اہم قرار دیتے ہیں کیونکہ ہم لوگ اس گروہ کے متعلق نہ ہونے کے برابر معلومات رکھتے ہیں، مگر یہ ظاہر کرتا ہے کہ داعش نے پاکستان میں اپنے ہی جیسے عزائم رکھنے والے کچھ افراداور گروہوں کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے ۔
1990ء کی دہائی میں افغان طالبان کے ابھرنے نے بھی دنیا بھر میں موجود کئی اسلامی سیاسی اور جنگجو تحریکوں کو متاثر کیا تھا۔افغانستان دنیا کے مختلف علاقوں سے آنے والے ہزاروں مسلمان انقلابیوں کی ایک دلکش منزل بن گیا۔ آج داعش تقریباً اسی انداز میں اسلامی جنگجوؤں اور مالی ذرائع کو اپنی جانب کھینچ رہی ہے۔ جیسا کہ پاکستانی جنگجواور مذہبی تنظیمیں تنہاء کام نہیں کرتیں ، لہٰذا ان کے لئے داعش سے تحریک پانا فطری ہے۔
دراصل، پاکستانی جنگجوؤں اور داعش میں نظریاتی اور عملی تعلق نیا نہیں ہے۔ پاکستانی جنگجو آغاز ہی سے اس گروہ کاحصہ تھے۔لشکر جھنگوی بلوچستان اور اس کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے دھڑے ، داعش کی بہترین لڑاکا قوت پر بنی ہیں۔یہ لشکر جھنگوی ہی کے جنگجو تھے جنہوں نے 2013ء کے اپریل میں ایک عراقی شہرمیں غازی عبدالرشید تربیتی کیمپ قائم کیا تھا۔اس کیمپ میں تربیت پانے والے جنگجوؤں نے غازی فورس بنائی۔
مغربی اقوام اپنے ان اہل قوم کے متعلق پریشان ہیں جنہوں نے داعش اور شام اور عراق کے دیگر جنگجو گروہوں کو مختلف عہدوں پر اختیار کیا ہے۔لیکن جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، ایسا خطرہ بڑی نوعیت کا ہے کیونکہ اگر کبھی شام اور عراق میں لڑنے والے لشکر جھنگوی اور دیگر مسلح گروہ واپس پاکستان آتے ہیں تووہ اپنے اپنے جنگجو گروہوں کو مزید مضبوط کرنے کے علاوہ فرقہ ورانہ تشدد میں بھی اضافہ کریں گے۔
جہاں تک تحریک خلافت کا تعلق ہے، عمر میڈیا،تحریک طالبان پاکستان کا میڈیا ونگ، اس گروہ کو کراچی میں موجود ٹی ٹی پی کا ایک ذیلی گروہ قرار دیتا ہے اور باقاعدگی سے اس کی دہشتگرد کارروائیوں پر ایک رپورٹ بھی شائع کرتا ہے۔تحریک خلافت کی آن لائن موجودگی بھی دیکھی جا سکتی ہے،جہاں وہ کراچی میں پولیس اور رینجرز پر کچھ حملوں کی ذمہ داری لینے کا دعویٰ کرتی ہے۔
عمر میڈیا رپورٹس کے مطابق، تحریک خلافت نامی یہ گروہ 2012ء میں وجود میں آیا۔ ابوجندل خراسانی اس گروہ کا نام نہاد ترجمان ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے گروہ کا مقصد سامراجی قوتوں کی مقامی کٹھ پتلیوں سے مسلم علاقوں کا قبضہ واپس لینا اور پاکستان میں خلافت قائم کرنا ہے۔یہ گروہ ، ٹی ٹی پی کی طرح جمہوریت کا شدید نقاد ہے اور یقین رکھتا ہے کہ جمہوریت غیر اسلامی شے ہے۔
تحریک خلافت کا اختیار کردہ نظریہ پاکستان کے لئے نیا نہیں ہے۔ پاکستان میں موجود زیادہ تر متشدد اور غیر متشدد اسلامی گروہ اسی نظرئیے پر یقین رکھتے ہیں اور حتیٰ کہ اس سب کو بھی مسترد کر دیتے ہیں جو مذہبی قوتوں نے پاکستان میں اب تک جمہوریت کے ذریعے حاصل کیا ہے۔ پاکستان مذہبی سرگرمیوں کا ایک منفرد اور پیچیدہ معاملہ پیش کرتا ہے جن کا کسی دوسرے ملک کی مذہبی سرگرمیوں سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ مختلف مقاصد کی حامل متعدد مذہبی تنظیمیں ملک میں کام کر رہی ہیں اور وہ کامیابیوں اور ناکامیوں کی ملی جلی تاریخ کی حامل ہیں۔
شریعت کے نفاذ کے لئے مذہبی تنظیموں اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اختیار کردہ متعدد نظریات کے باوجود، زیادہ تر انتہاء پسند گروہ یقین رکھتے ہیں کہ موجودہ آئین اور نظام کے اندر رہتے ہوئے تبدیلی ناممکن ہے۔نہ ہی وہ تبدیلی لانے کے لئے عظیم جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔وہ ریاست اور اس کی دفاعی مشینری کے خلاف مسلح بغاوت میں یقین رکھتے ہیں۔ ٹی ٹی پی، لشکر جھنگوی اورتحریک خلافت جیسے چھوٹے گروہ اسی درجے میں آتے ہیں۔
ان کے پیغام کی اپیل اس وقت بڑھ جاتی ہے جب دنیا میں کسی جگہ کوئی اسلامی گروہ کامیاب ہوتا ہے۔لیکن یہ اپیل غیر متشدد اسلامی تحریکوں اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر دباؤ بڑھا دیتی ہے کیونکہ ان کے پیروکار اور اہلکاراپنی قیادت کی کامیابیوں کا کسی دوسری جگہ کامیاب ہونے والی اسلامی تحریکوں کی قیادتوں کی کامیابیوں سے موازنہ شروع کر دیتے ہیں۔
افغانستان میں افغان طالبان کے ابھرنے کے زمانے میں، غیر متشدد مذہبی گروہوں اور مذہبی سیاسی جماعتوں نے خودکو یہ سوچ کر طالبان کے ساتھ منسوب کر لیا تھاکہ یوں وہ طالبان کی کامیابیوں میں ان کی حصہ دار بن جائیں گی لیکن ان کے لئے اب یہ کافی مشکل ہوگا کہ خود کو داعش کے ساتھ منسوب کریں۔
محدودتر مدت میں کسی منزل کا حصول ، ہمیشہ نظریاتی تحریکوں کو اپنی جانب کھینچا اور انتہاء پسندوں کی متشدد طریقے اختیار کرنے پر حوصلہ افزائی کیا کرتا ہے ۔ اگر داعش اپنی رفتار کو برقرار رکھتی ہے اور حاصل کردہ علاقوں پر اپنے قبضے کو برقرار رکھتی ہے تو یہ حزب التحریراور ان مذہبی سیاسی جماعتوں کے طلباء ونگزوغیرہ جیسے گروہوں کے قائدین میں مایوسی یا بے چینی پیدا کر سکتی ہے جو خلافت کے قیام کے لئے غیر متشدد جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *