پیرہن

akhtar saeed madan.

کیا آپ اُس شخص کی حالت کا اندازہ لگا سکتے ہیں،جو برف کابلاک لئے کڑی دھوپ میں کھڑا ہو اور اپنے جسم کا سایہ کر کے برف کو پگھلنے سے بچا نا چاہتا ہو!برف کی طرح میری نگاہوں کے سامنے میری زندگی کی جمع پونجی رفتہ رفتہ برف سے پانی ہوتی جارہی تھی اور میں کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ چچچچبب
اُس روز موسم بھی زندگی کی طرح بہت بے رحم ہو رہا تھا۔ شدیدگرمی ، چلچلاتی ہوئی دھوپ ، جھلسا دینے والی لو کے تھپیڑے،کچی سڑک کی باریک پسی ہوئی مٹی بھوبھل کی طرح سلگ رہی تھی۔آسمان نتھرا ہوا تھا، جس پر شِکر دوپہر کاسورج اپنے پورے قہر کے ساتھ جل رہا تھا۔میںیک وتنہا دھول سے بھری کچی سڑک پر اپنی کھٹارہ موٹر سائیکل پر گاؤں جا رہا تھا۔اس قیامت خیزگرمی میں میں نے سر پر ایک ناکافی سا صافا لپیٹ رکھا تھا۔سڑک کی دونوں جانب کہیں کہیں ببول کے جھلسے ہوئے کوتاہ پودے کانٹوں بھری ٹہنیوں کے ساتھ بے چارگی کے عالم میں دم بخود کسی بدلی کے انتظار میں کھڑے تھے۔ چہار سو تھور زدہ ننگی زمین تھی،جس پر جا بجا خار دار جھاڑیاں اُگی ہوئی تھیں۔ذرا دور تک دیکھنے کی کوشش کریں تولگتا تھا تھوڑی دور پانی کا کوئی جوہڑ ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔مگر میں جانتا تھا وہ پانی نہیں ،ایک سراب تھا۔ یکدم خار دار جھاڑیوں کے عقب میں سے آوارہ کتوں کا ایک غول نکل آیا۔چند ایک آگے بڑھ گئے جبکہ دو تین خونخوار کتے مجھے دیکھ کر درندگی سے دانت نکوسنے لگے۔مجھ پر وحشت سی طاری ہوگئی۔گھبراہٹ میں موٹر سائیکل بے قابو ہو ئی اور میں سڑک کے بیچوں بیچ دھول میں لوٹ پوٹ ہو گیا۔میرے گرنے سے گرد کا ایک ببولا سا اُٹھا ، کتے یکدم بد حواس ہوئے اور دم دبا کر بھاگ نکلے۔بہت سی مٹی میرے منہ میں چلی گئی تھی۔میرے چہرے پر آئے ہوئے پسینے پر خاک کی ایک تہ جم گئی ہو گی۔ میں نے اُٹھ کر جلدی سے موٹر سائیکل سیدھی کی ۔مجھے ڈر تھا کہ کہیں پٹرول نہ گر جائے۔ اپنے کپڑے جھاڑے۔موٹر سائیکل ابھی سٹارٹ ہی تھی۔میں نے اپنے آپ پر بہت ضبط کیا ورنہ اس ذلت پر میرا دل بھر آیا تھا۔میں دوبارہ بائیک پر بیٹھ گیا۔ابھی بائیک چند قدم چلی ہو گی کہ دفعتہ مجھے محسوس ہوا کہ موٹر سائیکل بے قابو ہو رہی ہے۔میں نے بائیک روک دی ۔یہ دیکھ کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی کہ موٹر سائیکل کا پچھلا ٹائر پنکچر ہو گیا تھا۔
مقدر انسان کو کبھی کبھی اس طرح بھی زچ کر تا ہے۔قرب و جوار میں کسی آبادی کا نشان نہیں تھا۔کوئی شجر سایہ دار اور نہ کہیں کوئی پانی کا گھونٹ۔۔۔!میرے حلق میں کانٹے سے پڑ رہے تھے ۔میں نے بائیک بڑے سٹینڈ پر کھڑی کی اور ٹائر میں کوئی کانٹا، کیل دیکھنے لگا۔ میرے پسینے سے ترہاتھ دھول سے اٹ گئے۔لمحوں میں میرے جسم کے روئیں روئیں سے پسینہ بہنے لگا۔تلاش کے باوجود مجھے ٹائر میں کوئی کانٹا نہیں ملا۔میں نے اُٹھ کر ایک بار پھر صافے سے ہاتھ اور منہ صاف کیا اور بائیک دھکیلنے لگا۔میری چپلوں میں جلتی ہوئی دھول بھر گئی۔مجھے اپنی بے بسی اوراذیت پر رونے کے بجائے شدید غصہ آنے لگا تھا۔کچھ ہی دور گیا ہوں گا کہ مجھے لگا میں چکرا کر گر پڑوں گا۔میں نے بائیک روک دی اور ببول کے ایک پیڑ کی براے نام چھاؤں میں کھڑا ہو گیا۔پیڑ کے تنے کے ساتھ ایک جھینگر چمٹا ہو ا گرمی کی شدت بھلانے کے لئے لمبی سُر میں گیت الاپ رہا تھا۔ میں شکست خوردگی کے عالم میں درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر ڈھے گیا۔
میری نگاہوں کے سامنے بھنورے سے اُڑنے لگے۔مجھے لگا میں تھوڑی دیر میں بے ہوش ہو جاؤں گا۔مجھے محسوس ہوا میں یونہی بلا وجہ ضدکر رہا ہوں۔کائنات کا ہرپرزہ مجھ سے مقابلے پر اتر آیا ہے۔ جس سے جو ہو پڑتا ہے ،کر گزر رہا ہے۔میں بے مقصد ایسے راستے پر بھاگا جا رہا ہوں،جس کی کوئی منزل نہیں ۔میں آج اُس مقام پر پہنچ چکا تھا ،جہاں کوئی بھی میری مدد کو نہیں پہنچ سکتا تھا۔زندگی کے سارے راستے مسدود ہو گئے تھے۔ہر منزل دھندلا گئی تھی۔کیا آپ اُس شخص کی حالت کا اندازہ لگا سکتے ہیں،جو برف کابلاک لئے کڑی دھوپ میں کھڑا ہو اور اپنے جسم کا سایہ کر کے برف کو پگھلنے سے بچا نا چاہتا ہو!برف کی طرح میری نگاہوں کے سامنے میری زندگی کی جمع پونجی رفتہ رفتہ برف سے پانی ہوتی جارہی تھی اور میں کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ میرے سر پر پہلے ہی بہت بوجھ تھا۔مگر مہاجن بنک ہر روز ایک اور اینٹ مجھ پر لاد دیتے تھے۔ اوپر سے میں جتنا ہاتھ پاؤں مارتا تھا،دلدل میں اترتا جاتاتھا۔
میں نے غربت میں آنکھ کھولی تھی۔بہت محنت سے تھوڑی تھوڑی کر کے رقم پس انداز کی اور اپنا کاروبار چلایا۔لوگوں کی دیکھا دیکھی اپنا مکان گروی رکھ کر بنکوں سے قرض لیا۔ابتدا میں معقول منافع ہوا ۔میں نے سمجھا کاروبار یونہی چلتا رہے گا۔منافع کے مقابلے میں بنک کا سود کیا حیثیت رکھتا ہے!بنکوں نے بھی خاصی فراخ دلی کا ثبوت دیا۔وہ ہر سال میرے قرض کی حد بڑھا دیتے اور میں خوشی سے نہال قرض سے اپنا کاروبار بڑھاتا گیا۔پھر ایک دن میں ایک غلط سودے میں پھنس گیا۔مجھ میں ضرورت سے زیادہ اعتماد تھا۔میں سمجھا یہ ایک عارضی کساد بازاری ہے ۔ میرے بہت سے ساتھیوں نے اپنا سرمایہ نکال لیا۔مگر میں احمقانہ خود اعتمادی میں مارا گیا۔جب مجھے ہوش آیا تو میں نہ صرف تہی دامن تھا بلکہ الٹا مقروض ہو گیا تھا۔بنکوں کا قرض الگ اور بازار کے پیسے علیحدہ دینے تھے۔اپنا بھرم قائم رکھنے کے لئے میں نے میں نے اپنے شب وروز میں کچھ فرق نہیں آنے دیا بلکہ پہلے سے کچھ سوا بن کر دکھایا۔گھر بار میں رکھ رکھاؤ برقرار رکھنے کے لئے مجھ سے جو ہو سکا کیا ۔انعامی بانڈ خریدے ،اللہ سے بہت دعائیں مانگیں کہ وہ میری عزت بحال رکھے ۔مگر میری کوئی دعا ،کوئی التجاء،کوئی سجدہ قبول نہیں ہوا ۔ہر روز کوئی انہونی میری منتظر ہوتی۔آسمان نے میری جھولی میں لاتعداد پتھر بھر دیئے ۔میں جو کچھ کماتا وہ بنک مجھ سے مارک اپ کے خوش کن نام کے ساتھ اینٹھ لیتے۔ بلکہ میرے سر پر مارک اپ کے ضمن میں قرض دن بدن بڑھتا جارہا تھا۔میرے سامنے برف کا بلاک پگھل کر پانی میں تبدیل ہوتا جا رہا تھا ،مگر میں کچھ بھی کر نہیں سکتا تھا۔
آج بھی گاؤں میں مجھے ایک بہت سستا سودا ملا تھا جس سے اچھی آمدنی متوقع تھی مگر وہ سستا سودا نہیں تھا بلکہ ایک چارہ تھا جس سے مجھے پھانسنا مقصود تھا۔اب مجھے یقین ہو چکا تھا کہ رقم لے کر مکرنے والا شخص مجھے کچھ بھی دینے والا نہیں تھا۔میں اپنی زندگی کی آخری پائیاں بچانے کے لئے بھا گم بھاگ، اس شکر دوپہر میں گاؤں جا رہا تھا۔پہلے اس بیاباں میں کتوں کے ڈر سے تپتی ہوئی دھول میں نہا گیا تھا۔پھر میری موٹر سائیکل پنکچر ہو گئی تھی۔میرے دل میں مایوسی کا ایک چھوٹاسا ذرا پہاڑ بن گیا۔میں ہا رگیا تھا۔زندگی میں مجھے شکست ہو گئی تھی اور میں نے شکست کو قبول کر لیا تھا۔مجھے معلوم تھا ابھی تھوڑی دور یہ سیم اور تھور کا علاقہ ختم ہو جانا ہے۔پھر گھنے درختوں والی ایک ٹھنڈی سڑک آنی ہے ،جہاں درختوں کی شاخیں آپس میں اس طرح پیوست ہو چکی ہیں کہ روش پر ایک چھتری سی بن گئی ہے ۔مگر اب مجھے کسی چھتر چھاؤں سے کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔میری منزل اس گھنیری چھاؤں کے پار اُس بڑی نہر میں تھی جس میں کودکر میں نے زندگی کے سارے مارک اپ چکا دینے تھے۔ پھر بچوں کی چبھتی ہوئی نگاہیں ہوں گی اور نہ بیوی کے طنزیہ سوال ہوں گے۔پھر تو کسی کے رقم واپسی کے تقاضے بھی نہیں ہوں گے۔ اس آخری فیصلے کے بعد میرے دل میں ایک اطمینان کی لہر جاگ اُٹھی۔عجیب بات تھی اب مجھے گرمی بھی اس شدت سے محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
میں نے نظر اُٹھا کر دیکھا۔وہ ایک سائیکل سوار تھا جو سامنے کھڑا عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔وہ دھیرے سے بولا:اس گرمی میں بیٹھے ہو !لگتا ہے موٹر سائیکل پنکچر ہو گئی ہے۔
میں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔اُس نے اپنی سائیکل کھڑی کی اور اُس کے ہینڈل سے لٹکے ہوئے تھیلے کو اتارتے ہوئے بولا:میرے پاس کچے پنکچر کا سامان ہے ۔میں تمہاری موٹر سائیکل کو اس قابل کردوں گا کہ تم آسانی سے شہر تک پہنچ جاؤگے۔میں اب بھی کچھ نہیں بولا ۔وہ خود ہی پنکچر لگانے لگا۔پنکچر لگا کر اُس نے پاؤں والے پمپ سے ہوا بھری اور اپنا سامان سمیٹ کر تھیلے میں ڈال لیا،بولا:لو جی اب تمہاری موٹرسائیکل اس قابل ہوگئی ہے کہ تم بہ آسانی شہر پہنچ سکتے ہو۔میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو وہ ہنس دیا:کیا میں نے یہ کام پیسوں کے لئے کیا ہے؟اگر زیادہ ہی شوق ہے تو یہ پیسے کسی حاجت مند کو دے دینا۔میرا ہاتھ وہیں کا وہیں رک گیا۔میری خاموشی بر قرار رہی ۔ وہ چلا گیاتومیں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور موٹر سائیکل سٹارٹ کر کے عازم سفر ہوا۔اب میری رفتار بہت سست ہو گئی تھی۔قرض خواہوں کے سامنا کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے،کتنی ندامتں کتنی ہزیمت اُٹھانی پڑتی ہے ،یہ صرف میں ہی جانتا ہوں یا میرا اللہ جانتا ہے۔لیکن اب مجھے یک گونہ سکون محسوس ہو رہا تھا۔وہ سارے لوگوں کے چہرے ،اُن کی چبھتی ہوئی نگاہیں مجھے یاد آ رہی تھیں۔جب نہر سے میری لاش نکالی جائے گی تو اُن سب کی بے بسی دیدنی ہو گی۔سبھی ایک ایک کر کے مجھے یاد آنے لگے۔میری بیوی کو بھی اُس وقت شائد پچھتاوا ہو؟شائد اُسے اپنے طعنے یاد آئیں،اپنی طنزیہ گفت گو پر کوئی ندامت ہو۔کاش میں خود اپنی آنکھوں سے یہ سب دیکھ سکتا۔مگر میرے بچے ۔۔۔؟جب اُن کا باپ ہی اُن کے لئے کچھ نہیں کر سکا تو ممکن ہے ،وہ مسبب الاسباب کوئی اوراچھا سبب پیدا کر دے!مجھے فکر جہاں کیوں ہو ،یہ جہاں تیرا ہے یا میرا۔۔۔۔!
سیم اور تھور والاننگا رقبہ ختم ہو گیا تھا۔سامنے گھنے درختوں والی سڑک آ گئی تھی۔اب کوئی آدھے گھنٹے کا سفر باقی تھا۔صرف آدھا گھنٹہ اور۔۔۔تیس منٹ۔۔۔زندگی میں تیس منٹ کی کیا حیثیت ہوتی ؟تیس منٹ کے بعد میرے احساس کو سکون آ جائے گا۔اچانک مجھے بائیک کی بریک لگانی پڑی۔وہ بہت ہی نازک سی،نفیس سی،نکلتے ہوئے قد کی لڑکی تھی۔وہ سپید پیراہن ملبوس تھی۔اُس نے سفید چادر کی بُکل ماری ہوئی تھی۔صرف اُس کی دھلی ہوئی نتھری آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔اُس کی آنکھیں مسکراتی ہوئی معلوم ہو رہی تھیں۔اُس نے ایک ہاتھ سے چہرے کا پردہ سنبھال رکھا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ میں کسی چیز کی پوٹلی تھام رکھی تھی۔وہ اچانک ہی درختوں کے جھنڈ سے نکل کر سامنے آ گئی تھی۔وہ پاکیزہ مترنم آواز میں دھیرے سے گویا ہوئی:تھوڑی دور تک مجھے ساتھ لے چلئے۔۔۔
میرے جواب دینے سے قبل ہی وہ میرے عقب میں موٹر سائیکل پر بیٹھ گئی۔اُس کے وجود سے کوئی ملکوتی سی مہک اُٹھ رہی تھی۔اُس نے کندھے پر ہاتھ رکھا تومیرے جسم میں کوئی لہر سی دوڑ گئی۔بہت سبک ہاتھ تھا اُس کا۔۔۔بہت گداز تھا اُس کے لمس میں ۔۔۔ایک لپک اور اپنائیت تھی اُس کی انگلیوں میں۔۔۔ایک بالیدگی کا عجیب احساس میرے رگ وپے میں اتر گیا،میری وحشت ختم ہو گئی۔،میری شوریدہ سری کو قرار سا آ گیا تھا۔وہ میرے کندھوں کی گرد کو اپنے پن سے جھاڑنے لگی۔ تھوڑی دیر بعدوہ اپنی تقدیس سے لبریز آواز میں بولی:آپ گر پڑے ہیں شائد۔۔۔آدمی زندگی میں کئی بار گرتا ہے۔۔۔گر کر اُٹھ جانا ہی زندگی ہے!
میں خاموش رہا۔شائد اُس کی آواز ہی ایسی تھی ،جس کاجواب دینا ممکن ہی نہیں تھا۔وہ چند ثانیے چپ رہی ۔پھر خود ہی بولی:میرا نام پیرہن ہے۔آگے ایک مسجد آئے گی ،میں اُس کے پیش امام کی بیٹی ہوں۔میں ہر روز اِس وقت اپنے ابا کے لئے روٹی لے کر جاتی ہوں۔ہر روز مجھے کوئی نہ کوئی سواری مل ہی جاتی ہے۔میرے اللہ نے مجھے کبھی مایوس نہیں کیا۔وہ کسی کو نا اُمید نہیں کرتا ۔ہماری نگاہیں بہت محدود تک دیکھ سکتی ہیں ۔منزل دور نہیں ہوتی ،بس ہمیں نظر نہیں آتی۔
اُس کی باتیں میری روح میں پیوست ہوتی جارہی تھیں۔میں بولنا بھی نہیں چاہتا تھااور بولنے کی صلاحیت بھی جیسے سلب ہو گئی تھی۔ وہ کہہ رہی تھی:جو لوگ اللہ کو نہیں مانتے ،وہ بہت بے چارے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ پتہ نہیں زندہ کیسے رہتے ہیں؟اللہ کے بغیر زندگی بتانا کتنا مشکل ہے ۔۔۔؟اُس کی ضرورت تو لمحہ بہ لمحہ ہمیں پڑتی ہے۔۔۔ایک دن ،ایک دن تو بہت ہوتا ہے۔ایک دن میں ہزاروں بار ہم اُس کا نام لیتے ہیں ،اُس سے مدد طلب کرتے ہیں۔وہ مدد کرتا بھی ہے لیکن ہماری کوتاہ نظری ہمیں دیکھنے نہیں دیتی۔
وہ رکی تو لگا کسی الوہی جھرنے کی روانی رُک گئی ہو۔جیسے ایک لطافت ،ایک چھاؤں سر سے ہٹ گئی ہو۔اس سے قبل کہ میں اُسے بولنے کے لئے کہتا ، وہ خود ہی بول اُٹھی:کچھ لوگ خود ہی اُس کی عنائت سے منہ موڑ لیتے ہیں۔خود کو ہلاک کر لیتے ہیں۔اُس کی صریحاً نا فرمانی کرتے ہیں ۔جب وہ ذرا سا جھٹکا دیتا ہے تو اُس سے ناراض ہو جاتے ہیں۔اُس کا گلہ کرنے لگتے ہیں۔
وہ سانس لینے کے لئے رکی،پھر زیادہ سی ہوا پھیپھڑوں میں بھر کر بولی:آدمی اللہ کی بہترین تخلیق ہے۔جس کی تخلیق اتنی خوبصورت ہو،وہ خود کتنا خوبصورت ہو گا۔۔۔؟ابا جی کہا کرتے ہیں اگر کوئی بشر ایک بار اُسے دیکھ لے تو وہ دنیا کی ہر چیز کو بھول جائے۔ دراصل ہم ہلکان زدہ انسان ہیں۔۔۔اس چیز کے لئے باؤلے ہوئے پھرتے ہیں جو ہماری کبھی نہیں ہو سکتی۔ ابا جی کہا کرتے ہیں ہم آرام و آسائش نہیں چاہتے ،فقط اپنی دکھاوے کی حس کی تسکین چاہتے ہیں۔ کبھی آیئے گا۔میں آپ کو اپنا کچا گھردکھاؤں گی۔کتنا سکون ہے اُس میں۔۔۔!بہت آسائش ،بہت اپنائیت ہے اُس میں۔میرا کچا گھر میرا جسم ہے ۔میں گھر سے نکلتی ہوں تو لگتا ہے ،روح جسم سے نکل گئی ہے۔میرے گھر کا پانی پی کر دیکھیں۔اُس میں اپنی مٹی کی سوندھی سوندھی خوش بُو رچی ہوئی ہے۔اُس کی ہوا جاتے ہی مجھے محبت سے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے ۔۔۔۔بس ،بس مجھے یہاں اُتار دیجئے میرے ابا کی مسجد آ گئی ہے۔
میں نے موٹر سائیکل روک دی۔وہ بائیک سے اتر گئی۔ایک لمحے بعد وہ دا ہنی طرف چل دی۔میں نے گردن موڑ کر دیکھا۔ درختوں ذخیرے میں گھری ہوئی مسجد کے مٹی سے بنے ہوئے مینار نظر آ رہے تھے۔ وہ دفعتہ رکی اور واپس آئی ۔اُس نے اپنا سپیدنازک سا ہاتھ میری طرف بڑھایا۔اُس کی مٹھی میں کوئی چیز دبی تھی۔میں نے اپنی ہتھیلی آگے کر دی۔اُس نے سرخ رنگ کا ایک منکا میرے ہاتھ پر رکھ دیا۔پھراپنی ملکوتی اور مترنم آواز میں بولی:اُسے اپنے پاس رکھئے گا۔۔۔بہت کام آئے گا۔
پیرہن نے مجھے بہ غور دیکھتے ہوئے اللہ کا ایک صفاتی نام بتا یا کہ فارغ وقت میں اس کا وظیفہ کرتا رہوں۔وہ مسکراتی ہو ئی نظروں دیکھتے ہوئے چل دی ۔درختوں کے میں داخل ہونے سے قبل اُس نے پلٹ کر مجھے دیکھا ۔اس یقین کے ساتھ کہ میں ابھی تک وہیں کھڑا ہوں گا۔
وہ چلی گئی ۔میں چند لمحے وہیں کھڑا رہا ۔اُس کے ساتھ ہی وہ مقدس سی نکہت بھی روٹھ گئی۔میں نے نا معلوم سے جذبے کے تحت پیرہن کے منکے کو سونگھا ، اُس میں وہی خوش بو تھی جو پیرہن کے وجود سے اُٹھ رہی تھی۔میں نے منکا احتیاط سے جیب میں ڈال لیا اور ایک نظر مسجد کے کچے میناروں کو دیکھا اور آہستہ سے موٹر سائیکل آگے بڑھا دی۔
اس کے بعد کی کہانی بہت مختصر ہے۔وہ نہر جس میں کود کر میں نے جان دینی تھی۔اُس کے پار والے کنارے پر ایک چھوٹی سی مسجد تھی جس کے سامنے ایک ہینڈ پمپ لگا ہوا تھا۔میں نے جیبوں سے ضروری چیزیں نکال کر ایک طرف رکھیں اوربمعہ کپڑوں کے اُس ہیند پمپ کے نیچے بیٹھ گیا ۔پمپ کا پانی بہت ٹھنڈا تھا۔ بالکل برف کی مانند۔۔۔میں خوب مل مل کر نہایا۔پمپ کے نیچے سے اُٹھنے کو میرا جی نہیں چاہ رہا تھا۔نہانے کے بعد ایک نامعلوم سے جذبے کے تحت میں نے مسجد میں ایک طویل سجدہ کیا۔وہ نماز نہیں تھی۔۔۔بس ایک ٹوٹے ہو ئے انسان کا سجدہ تھا۔ریزہ ریزہ آدمی کا اشکوں کے ساتھ ایک شکوہ تھا۔سجدے میں میں نے کچھ بھی نہیں پڑھا ،مجھے کچھ آتا بھی نہیں تھا ۔سجدے کے بعد میں مسجد کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔چند لمحوں میں جیسے صدیاں بیت گئیں۔میں آنکھیں پونچھتا ہوا باہر نکل آیا۔
مجھے پتا نہیں اِس کے بعد کیوں میر اہر کام خود ہی سیدھا ہوتا چلا گیا۔میں جب بھی اُداس ہوتا ،جیب سے پیرہن کا منکا نکال سونگھتا،میرے دل میں ایک نیا ولولہ، ایک نئی اُمنگ جاگ اُٹھتی۔میں بار بار منکے کو ٹٹول کر دیکھتا ۔ دن میں کئی بار منکے کو سونگھتا ۔کوئی دو سال بعد میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی کار میں پیرہن کے گاؤں گیا۔میں نے بہت سے لوگوں سے پیرہن کے بارے میں دریافت کیا۔لیکن کسی نے پیرہن کے متعلق کچھ نہیں بتایا۔میں اُس کے باپ کی مسجد میں گیا۔دیر تک انتظار کرتا رہا۔بار بار منک کو ٹٹولتا رہا۔پھر عصر کے وقت ایک ضیف آدمی نماز پڑھنے آیا۔میں نے بڑی بے تابی سے اُس سے پیرہن کے بارے میں پوچھا۔وہ تھوڑی دیر تک چندھیائی ہوئی آنکھوں سے مجھے دیکھتا رہا۔پھر بولا:پتر مولوی صاحب اور اُن کی بیٹی کو تم کیسے جانتے ہو۔۔۔؟پُتر اُن کو فوت ہوئے تو چالیس سال ہو چکے ہیں۔۔۔۔!
:ہائیں ۔۔۔چالیس سال ۔۔۔مگر بابا میرے پاس پیرہن کا دیا ہوا منکا موجود ہے جو اُس نے مجھے دو سال قبل دیا تھا۔
میں نے جلدی سے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا۔۔ ۔منکا غائب تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *