بھوک

افسانہ ؂ اچُھو بھوک سے نڈھال ہو رہا تھا، اس نے کولہوں پر ہاتھ رکھے اور خالی پیٹ کو دبایا۔لیکن پیٹ دبانے سے بھی کبھی بھوک ختم ہوئی ہے۔ہاں! ایک لمحے کے لیے بھوک کی شدت قدرے کم ہوئی اور پھر وہی کلیجہ نگھرنے لگا۔ اچُھو بے دلی سے چلتا…

اُف یہ موبائل فون

مجھے اکثر کاروباری سلسلے میں بٹ خیلہ کا سفر کرنا پڑتا ہے ۔یہ سفر کوئی ساڑھے سات آٹھ گھنٹے کا ہوتا ہے ۔اس دوران میں کئی مسافر ایسے ہوتے ہیں جو سارا وقت موبائل پر گفت گو کر کے سفر بتاتے ہیں۔پھر گفت گو بھی کچھ اتنی اونچی آواز میں…

آخر میں ہی کیوں۔۔۔!

امجد نے شکوہ کیا :ابا آخر میں ہی کیوں بیمار ہوا ۔۔۔۔۔! باپ ہنس دیا ۔: تم دونوں پاگل ہو ۔۔۔۔خدا پتہ نہیں کس بات پر ہم سے خوش ہوگیا ہے اور اُس نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے ۔ وہ چھ دوست رات کو ایک پان سگریٹ والے کھوکھے…

غریب کی جورو اورفیلڈ مارشل راحیل شریف

کسی بھی پاکستانی کی اس میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ موجودہ چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف اس وقت سب سے زیادہ محب وطن شخصیت ہیں ۔جنر ل صاحب دن رات چوبیس گھنٹے اپنے کام میں مگن رہنے والے انسان ہیں ۔یہ عید کا دن بھی…

بد بو(افسانہ)

اکبر پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑے چار چھ لمحے یونہی بیٹھا رہا ،پھر ایک لمبے گھونٹ سے سارا گلاس خالی کر دیااورگھمبیر لہجے میں بولا:میری اماں اور اباکی کبھی نہیں بنی۔ابا نے کہا ہے کہ اس وقت دن ہے تو اماں نے انکار کردیا کہ نہیں،اس وقت رات ہے۔ابا…

دوسری بار

میرے ایک دوست نے گذشتہ دنوں میری تحریروں کے بارے میں فرمایا ہے کہ تم یہ کیا ماتم کرتے رہتے ہو!ہر وقت شام غریباں بپا کئے رہتے ہو۔یہ سلسلہ بند کر دو۔ زندگی رونے دھونے کا نام نہیں ہے۔کون انسان ہو گا جو غم کی بھٹی سے ہو کر نہیں…

نیاآبلہ۔۔۔!

پیرہن کہا کرتی تھی۔ کبھی ہم کسی کو پہلی بار ملتے ہیں مگر لگتا ہے ہم ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہیں اورکسی کے پاس ہم برسوں رہتے ہیں مگر ہر بار لگتا ہے ہم ابھی بھی اجنبی ہیں۔چاہے وہ ہماری بیوی ہی کیوں نہ ہو۔ ابراہیم سے میں…

ہسپتال یا بوچڑ خانے۔۔۔(دوسرا اور آخری حصہ)

(اس کالم کا پہلا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجئے) ڈاکٹر صاحب خلاف معمول واقعی ایک زندہ دل آدمی تھے۔فرمایا:تو پھر آپ نے شکل کیوں مریضوں جیسی بنائی ہوئی ہے؟میں نے عرض کی :اس کا جواب میں اپنی بیٹی کے سامنے نہیں دے سکتا۔ڈاکٹر صاحب کھل کر ہنسے،پھر استفہامیہ…

ہسپتال یا بوچڑ خانے ۔۔۔۔(پہلا حصہ )

دو سال قبل میری بیگم کو اچانک ہارٹ کی پرابلم ہو گئی۔میں فوری طور پر اُسے پنجاب انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی لے گیا۔ایمر جنسی میں میلہ لگا ہوا تھا۔کمروں کے ماتھوں پر نمبر درج تھے۔ایک کے بعد دوسرا کمرہ اورر دوسرے کے بعد تیسرا کمرہ۔ہر کمرے کے سامنے قطاریں تھیں۔لگتا تھا…

مکی ماؤس(افسانہ)

اِس بار مُودی کو جو نوکری ملی تھی ،وہ اُس کی اَفتاد طبع کے عین مطابق تھی ۔اُسے کسی غلط جگہ پر سچ بولنے کا ڈر تھا اور نہ ہی اُس کی فطری صلا حیتوں کے اظہار پر کوئی قدغن تھی۔ سوائے مُودی کی بہن حِنا کے، سبھی گھر والوں…
123