دل پھر طواف کُوئے مٙلامت کو جائے ہے۔۔۔۔۔۔!

دُھندلائے ہوئے سیاسی مٙطلع پر دکھائ دینے والا گٙردباد چٙھٹ چکا ہے یا وقتی سکوت کسی بڑے طوفان اور اہم تبدیلی کا پیش خیمہ ہے ؟ مُتجسِس مخلوق کی نگاہیں، معزز عدالت پر مرکُوز اور دو سیاسی جماعتوں کا مستقبل، اسکے فیصلہ پر منحصر ہے۔ بظاہر بحران ٹل چکا ہے…

کِسان دٙھرنے اورشہبازشریف پٙیکیج ۔۔۔۔۔!

جناب محمد شہباز شریف نے سٹیج پر کھڑے کھڑے، کسان پٙیکیج 77 ارب سے بڑھا کر 100 ارب کر دیا، سامنے ہی سیٹوں پر براجمان بینکاروں سے ہاتھ کھڑے کروائے اور تعاون کیلئے تائید حاصل کرلی۔ تالیاں بٙجیں اور واہ واہ کی تحسین سے فضا گونج اٹھی۔ چھوٹے کاشتکاروں کو…

  زلزلہ  بے  سبب  نہیں آتا۔۔۔۔۔۔!

یہ تو عمران خان کو بھی معلوم ہے کہ جلسے جلوسوں سے حکومتیں جاتی ہیں نہ ایوانہائے اقتدار ڈھیر ہو سکتے ہیں اور وہ بھی فقط اتنا اِکٹھ، جو عرصہ بھر کی بھاگ دوڑ اور  کروڑوں روپے بہا دینے کے باوجود ، ملک کے ایک صوبائ حلقہء اسمبلی کے ووٹروں…

پُھول پہ دُھول،ببول پہ شبنم۔۔!

سبک رفتار زمانہ اور زقندیں بھرتی زندگی کی ھمہ ھمی اور غوغا آرائی پر غور کریں تو اپنے ہاں، چہار سمت، بھانت بھانت کی بولیوں، رنگا رنگ رویوں، طرح طرح کی رسموں اور نت نئ قدروں سے مرقع، ایک ایسی تہذیب تشکیل پا رہی ہے جو اعجوبوں اور  بوقلمونیوں کا…

جس کھیت سے دہقاں کومیسرنہ ہو روزی(دوسری اور آخری قسط)

اس کالم کی پہلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں اس مضمون کے ذریعے، زراعت کے ضمن میں، طویل تمہید اور کثیر تفصیل کا مقصد، ماضی کی لغزشوں، حال کے المیوں اور مستقبل کے خدشوں کو شرح صدر کے ساتھ مترشح کرنا مطلوب ہے۔ اگر حکومت اور فیصلے ساز…

جس کھیت سے دہکاں کو میسر نہ ہو روزی!   (پہلی قسط)

جناب اسحاق ڈار نے نئے سال کا میزانہ منظر پر لانے سے پہلے، سالانہ اقتصادی سروے رپورٹ پیش کی تھی اور اپنے بیانئے میں زرعی شعبہ کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا۔ سنا تو مجھے ماضی کے ممتاز سرائیکی شاعر ساحل کا کلام یاد آیا " ساحل ! لوگ…

تلخ نوائی یا کارتریاقی !

خدا وند عالم الغیب کا فرمان ھے کہ " ھم نے اسے (انسان کو) سمیع و بصیر بنایا " یعنی ھوش گوش رکھنے والا وجود، تاکہ اسرار کائنات تک رسائی حاصل کر سکے۔ مشاھدات مظاہر سے بعض اوقات انسان اتنا کچھ کشید کر لیتا ھے جو کسی بڑے مہنت، مدرس،…

تری آواز مکےاورمدینے۔۔۔۔!

وزیر اعلی' پنجاب، جناب شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ " ہسپتالوں کو ٹھیک کر کے دم لونگا جس کے نتائج ایک سال کے اندر عوام دیکھ لیں گے....ہسپتالوں کے غیر اعلانیہ دورے کر کے زمینی حقائق کا جائزہ لے رہا ہوں ...معاملات اب اس طرح نہیں چلیں گے…