فطرت کے پجاری

مسافر کو پہنچنا تو تحمل نگر تھا مگر راستہ بھول کر گھومتا پھرتا ایک ایسی بستی میں پہنچ گیا کہ ماحول جہاں کا دنیا جہان سے…

دو آنے 

(معروف سرائیکی ادیب پروفیسر حبیب موہانا کے سرائیکی افسانہ کا ترجمہ، عنایت عادل کے قلم سے) بگا ابھی پہلی جماعت میں تھا،وہ گرم مفلر میں لپٹا…

ادھوری نیند (افسانہ)

حبیب موہانا ہر سال گرمیوں کی چھٹیاں میں کرم ایجنسی میں گزارتا تھا۔ایک دفعہ میں پارا چنار میں تھا کہ مجھے تحصیل داری کے امتحان کا…

ڈنر سے پہلے

نظم  یسریٰ وصال میز پر رات کی پلیٹ رکھی ہے اور بارش کا پیالہ اور ہم دونوں ایک برقی چاند کی لَو میں آمنے سامنے بیٹھے…