'دنیا پاکستان' میں کیسے لکھا جائے؟

سے پڑھنے والوں نے سوال کیا ہے کہ ’دنیا پاکستان‘ میں لکھنے کا کیا طریقہ ہے۔ دنیا پاکستان کے لئے لکھنے اور شائع ہونے کا طریقہ بہت سادہ ہے۔ اردو میں کسی عوامی دلچسپی کے موضوع پر 1000 سے 1200 الفاظ پر مبنی ایک تحریر لکھئے۔ بلاگ کی صورت میں فوری ردعمل دیتے ہوئے آپ مختصر تحریر بھی بھیج سکتے ہیں۔ inpage یا unicode میں اپنی تحریر dunyapakistan@gmail.com پر ای میل کر دیں۔ اگر ممکن ہو تو Dunya Pakistan کے Facebook پر Inbox میں تحریر بھیجنے کا ایک پیغام بھی دے دیں۔ قابل اشاعت ہونے کی صورت میں 48 سے 72 گھنٹے کے اندر شائع ہو جائے گی۔

اگر مناسب سمجھیں تو تحریر کے ساتھ ایک تصویر بھی بھیج دیں۔ زبان سادہ اور سلیس ہو۔ شائستہ لہجے میں دلیل دیں۔ حقائق بیان کریں، شواہد پیش کریں،ذاتی حملوں سے گریز کریں۔ اور سب سے اہم یہ کہ …… اپنے ضمیر کی روشنی میں لکھیں۔

’دنیا پاکستان‘ کی صحافتی پالیسی انسان دوستی، پاکستان دوستی، جمہوریت دوستی، رواداری اور امن پسندی کی ہے۔ ہم کسی سیاسی جماعت ، مذہبی فرقے ، لسانی گروہ یا ثقافتی گروہ کی مخالفت یا حمایت نہیں کرتے۔

عقائد کی بحث سے گریز فرمائیں خواہ ایسی بحث مذہب کے نام پر ہو یا فرقے کے نام پر۔ البتہ اگر کسی مذہبی رہنما نے سیاسی اور معاشرتی معاملات ہر رائے دی ہو تو اسے زیر بحث لانے میں حرج نہیں۔ کسی فرقے اور مذہب کے خلاف رائے دینے نیز مذہبی بحث کو جنم دینے والی اشتعال انگیز تحریروں سے گریز کیجئے۔

مسلم لیگ (ن) کو ’نون لیگ‘ اور تحریک انصاف کو ’انصافی‘ اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کو ’جماعتی ‘ لکھنا سیاسی شائستگی کے منافی ہے۔ سیاسی قائدین کے نام بگاڑ کر لکھنے سے گریز فرمائیں۔

آپ کسی سائنسی ، تاریخی اور عمرانی موضوع پر بھی قلم اٹھا سکتے ہیں تاہم خیال رکھئے کہ ’دنیا پاکستان‘ ایک صحافتی پلیٹ فارم ہے لہٰذا اس پر خالص تحقیقی اور فنی موضوعات کے لئے گنجائش کم ہے۔

ہم اپنی ویب سائٹ پر کسی بھی مذہب سے متعلقہ مقدس کلمات اور دعائیں شائع نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ہر مذہب کے پڑھنے والوں کے لئے یہ آن لائن اخبار نکالتے ہیں۔

اپنی تحریر میں اعراب لگانے سے حتیٰ الوسع گریز فرمائیں۔ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے سے پہلے تحریر کئی مرحلوں سے گزرتی ہے اور آپ کے احتیاط سے لگائے گئے اعراب ہر موقع پر Ligate میں کوئی نئی صورت پیدا کر دیتے ہیں۔

slang یعنی چالو اور بازاری اصطلاحات سے گریز فرمائیں۔ الاّ یہ کہ آپ اردو کے اساتذہ جیسی مہارت سے slangکو اردو کا جامہ پہنانے پر قادر ہوں۔ یقین فرمائیے کہ ’’محترمہ منی صاحبہ کے بدنام ہونے‘‘ اور ’’آنسہ رضیہ بی بی کے غنڈوں میں گھر ‘‘جانے میں کوئی لطافت ہے اور نہ مزاح۔

ٹیلی ویژن پر پیش کیے جانے والے مزاح کو مستند اردو سمجھنے سے گریز فرمائیں۔

ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ہم اردو زبان کی غلطیوں کو لکھنے والے یا لکھنے والی کی عوام دوستی یا زیادہ پڑھا لکھا ہونے کی دلیل نہیں سمجھتے۔ بہت سے نئے لکھنے والے عام طور پر املا کی بہت سی غلطیاں کرتے ہیں۔ ’دنیا پاکستان‘ کے صحافتی کارکن حتیٰ الامکان ایسی غلطیاں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم انسانی ہمدردی کے نام پر نئے لکھنے والوں سے گزارش ہے کہ اگر ممکن ہو تو ذیل میں دی گئی ’جدید اردو‘ کی غلطیوں سے گریز فرمائیں۔

کاروائی غلط ہے …… کارروائی لکھئے۔
حمایتی غلط ہے ……حامی لکھئے۔
مظبوط غلط ہے …… مضبوط لکھئے۔
واضع غلط ہے …… و اضح لکھئے۔
موقعہ غلط ہے …… موقع لکھئے۔
’کہ‘ اور ’کے‘ میں فرق کیجئے۔
’ھے‘ کی بجائے ’ہے ‘ لکھئے۔

آئینگے ، آئینگی ، وغیرہ کی بجائے ’آئیں گے ‘ اور ’آئیں گی ‘ لکھنے کی کوشش فرمائیں۔ اسی طرح جائینگے ،جائینگی ، وغیرہ کی بجائے ’جائیں گے ‘ اور ’جائیں گی‘ لکھا جائے تو بہتر ہے۔

’سہی‘ اور ’صحیح‘ دو مختلف الفاظ ہیں۔ انہیں گڈ مڈ کر کے اردو کو نئے زاویے بخشنے سے گریز فرمائیں۔ انکی، جسکی، انکو، آپکی ، آپکے ، انکے اور جسکے کی بجائے ان کی، جس کی، ان کو، آپ کی ، آپ کے ، ان کے اور جس کے لکھنے کی کوشش کیجئے۔

’عوام ‘ اسم جمع ہے اور مذکر ہے۔ ’عوام کہتی ہے‘ اور ’عوام چاہتی ہے‘ لکھ کے اپنی نجی خواہشات کا بے جا اظہار نہ فرمائیں۔اگر آپ ’عوام چاہتے ہیں‘،’ عوام کہتے ہیں‘ لکھیں گے تو قوی امکان ہے کہ عوام کی امنگیں جلد پوری ہو سکیں گی۔

جہاں اردو لفظ ممکن ہو، وہاں انگریزی لفظ سے گریز فرمائیں۔

ہمیں آپ کی تحریریں شائع کر کے خوشی ہو گی کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ’دنیا پاکستان ‘ ایک ایسے آن لائن پلیٹ فارم کی صورت اختیار کر سکے جہاں پاکستان میں ہر طرح کی سوچ رکھنے والے کھلے دل و دماغ سے ایک پرامن اور مفید اجتماعی مکالمے کا حصہ بن سکیں۔