ایک جمہوریت اور ایک’ شہنشاہ‘

Asha’ar Rehmanاشعر رحمٰن

ایک طویل عرصہ تک قومے میں رہنے کے بعد آصف علی زرداری کسی نتیجے پر پہنچ گئے ہیں اور کچھ پرامید لوگ ان سے چاہتے ہیں کہ وہ حزب مخالف کے ایک ایسے گرینڈ الائنس کی طرف بڑھیں جس میں اس قدر تنوع ہو جتنا کہ ہمیشہ ہوتا رہا ہے۔
یہ دنیا بہت زیادہ غیرمتوقع اتحاد دیکھ چکی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم یہیں سے نتائج پر چھلانگ لگا دیں۔ ن لیگ کی حکومت کے لئے ایک حقیقی خطرہ کہلانے کے لئے سابق صدر کو بہت کچھ کرنا پڑے گا۔
اس لمحے، وہ سب کچھ جو زرداری نے کر دیا ہے، یہ ہے کہ انہوں نے اپنا وزن عمران خان کے چار حلقوں میں پولنگ کی تحقیقات کے مطالبے والے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ پی پی پی کے رہنما کی جانب سے اس تازہ ترین ’’رجوع‘‘ یا ’’ہلا کر رکھ دینے والی بات‘‘ پر تاحال ن لیگ کے بیان بازوں کی جانب سے کسی فوری ناراضگی بھرے رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا ۔ یہ غیر متوقع ہے کہ جلد ہی کسی وقت ن لیگی حکومت کی جانب سے کوئی شدید مخالفانہ ردعمل نظر آئے۔ دیکھنا یہ ہے کہ زرداری صاحب اپنی معروف ترجیح یعنی کہ خطرے پر قابو پانے والے کے طور پرکام کرتے ہیں یا قدیم پاکستانی مزاج میں صاف صاف مخالفت پر اتر آتے ہیں۔
یہ خبریں آتی رہی ہیں کہ پی پی پی کے رہنما عمران خان کی تحریک انصاف اور ن لیگ کے درمیان الیکشن کے تنازعے پرسمجھوتہ کرانا چاہتے تھے۔ کم از کم اب تک، یہی مقصد ہو سکتا تھا۔ حتیٰ کہ چند تشویشناک جملے، جن میں زرداری یوں لگتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کو ترغیب دے رہے ہیں کہ وہ ایک شہنشاہ کی طرح کام کریں، ایسے جملے ہیں جنہیں ایک ملے جلے اثر کے لئے اچھالا گیا ہے۔
سابق صدر یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ اگر حکومت، پی ٹی آئی کو 2013ء کے انتخابات کے دوران قومی اسمبلی کی چار سیٹوں پر دھاندلی کے الزامات کی چھان بین کی رعایت دے دیتی تو آسمان نہ گر جاتا۔یہ الفاظ اس بات کا ایک نپا تلا اشارہ ہیں کہ زرداری صاحب نے ن لیگ اور پی ٹی آئی میں جاری ٹسل میں خاموش تماشائی کے اپنے اب تک کے کردار کو ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔بلا شبہ، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ عمران خان کے چار نشستوں والے معاملے پراپنی عقلمندانہ رائے دے کر کچھ نہیں کھوئیں گے۔ کسی بھی صورت میں، بظاہر وہ یہی چاہتے ہیں کہ کوئی فائدہ اٹھانے کے لئے ایک اچھی پوزیشن پر رہیں۔
اس دن، جب عمران خان نے سارے عام انتخابات کے آڈٹ کا مطالبہ کیا، سابق صدر وہ بنیاد رکھتے ہوئے دکھائی دئیے کہ جس سے پی ٹی آئی اور ن لیگ کے درمیان ایک سمجھوتے پر پہنچا جا سکتا۔ 14اگست کو پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کے اعلان کا احاطہ کرنے والی تمام آوازوں کو سنتے ہوئے اور اس بے چینی کو دیکھتے ہوئے کہ جو اس اعلان سے پی ایم ایل این کی صفوں میں پیدا ہو گئی ہے، وفاقی حکومت پر اس اعلان کو ایک قرارداد کے طور پر قبول کرنے کے لئے دباؤ لازماً موجود ہوگا۔اس کے برخلاف، پی ٹی آئی کے لئے یہ خاصا مشکل ہو گا وہ ممنٹم جو اس تخلیق کیا ہے، اس کے بعد محض چار نشستوں پر سمجھوتہ قبول کر لے۔
یہ ایک انتہائی غیرمتوقع صورتحال ہے جو عمران سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ زرداری کی سوچ سے اتفاق کر لیں کیونکہ سابق صدرایک ایسے آدمی کی ساکھ رکھتے ہیں جو مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھنے کے فن سے واقف ہیں۔تاہم امکانات اس بات کے ہیں کہ زرداری صاحب کے مذاکراتی عمل میں کردار کوپی ٹی آئی کے اس رہنماکی جانب سے مسترد کر دیا جائے گاجو پی پی پی کو مسئلے کے حل کی ایک ممکنہ شروعات قرار دینے کی بجائے اسے مسئلے کا حصہ قرار دینے سے متعلق اپنے الفاظ واپس نہیں لیں گے۔ یہاں ایسے دوسرے لوگ بھی موجود ہیں۔۔۔۔ جن میں پی پی پی نہایت نمایاں ہے۔۔۔۔۔ جو موجودہ صورتحال سے فوائد اٹھانے والے ہیں۔کچھ عرصہ سے پی پی پی یہ کوشش کرتی رہی ہے کہ وہ عمران اور ڈاکٹر قادری کی جانب سے تخلیق کردہ اس تندوتیز صورتحال کو اسلام آباد میں نواز حکومت کے ساتھ اپنے ذاتی مسائل کو حل کرنے کے لئے استعمال کر لے۔حالیہ دنوں میں، سندھ حکومت صوبائی معاملات میں اسلام آباد کی مداخلت کے خلاف اپنے غصے کے اظہار کے لئے کافی شور مچاتی رہی ہے۔اس کے علاوہ، اندرونی طور پر، اس بارے میں کافی شور مچتا رہا ہے کہ پی پی پی نے کس طرح خود کو بالارادہ ایک ایسی پارٹی کے طور پر محدود کرلیا ہے کہ جو واضح قومی مقاصد کو لے کر میدان میں آنے والی جماعت بننے کی بجائے، اپنی باری کے انتظار میں متبادل بنچ سنبھالے ہوئے ہے ۔
پی پی پی کے اندر مشرف کے مقدمے پر توجہ مرکوز رکھنے والی بحث، پارٹی کے اندر موجود سوچ کے متعدد مؤقفوں جھٹلا دیتی ہے۔ بالکل واضح طور پر،پارٹی میں کچھ لوگ موجود ہیں جواس انداز سے اکتا چکے ہیں جو آصف زرداری نے اختیار کیا ہے، کچھ کہتے ہیں کہ حکومت کو سہارا دینے کا کردار زرداری کے کیمپ کو کچھ دلانے کا وعدہ نہیں کرتا۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پی پی پی کی انتظار کرو اوردیکھو کی حکمت عملی پر اپنی بے چینی کا اظہار کر چکے ہیں، اور یہ دیکھنا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ وہ کہاں سے بول رہے ہیں!
اس حقیقت سے قطع نظر کہ کچھ دیگر پی پی پی رہنماؤں کی طرح، انہیں عدالتی کارروائی کا سامنا ہے، لیکن گیلانی پنجاب سے بولتے ہیں، اور پنجاب میں بھی ایسی جگہ سے جہاں زیادہ تر لوگ یہ کہتے ہیں کہ پی پی پی ابھی بھی کچھ حمایت حاصل کر سکتی ہے۔ وہاں کے لوگوں میں احساس یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو ن لیگ کی اکلوتی اپوزیشن کے طور پر کام کرنے کے لئے کھلا میدان دے کر، پی پی پی خود کو بے معنی کر رہی ہے اور تباہی سے دوچارکر رہی ہے۔ اس نازک لمحے میں پی پی پی کو حکومت یا پی ٹی آئی میں سے کسی کا بھی ساتھی نہیں بننا چاہئے۔۔۔ یہ وہ بات ہے جس کا پی پی پی کے کچھ کٹر جیالے اپنی قیادت سے مطالبہ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔بعض اوقات سرگوشیوں میں، اور بعض اوقات بلند بانگ بڑبڑاہٹ کے ساتھ۔۔۔۔ اور یہی وہ حکمتِ عملی ہے جو پارٹی کو اپنی منفرد شناخت کو دوبارہ حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
اپنی پارٹی کے لئے منفرد شناخت کے حصول کے مقصد کو آصف علی زرداری اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ وہ عمران خان اور نواز شریف کے درمیان ایک ثالث کا چوغہ پہننے کی کوشش کرتے رہیں گے۔پی پی پی میں کئی لوگ ایسے بھی موجود ہیں جو انہیں یہ بتا سکتے ہیں کہ انہیں محض شہنشاہ اور اس کے افعال پر توجہ مرکوزرکھنے والی جمہوریت کے از خود متعین شدہ نجات دہندہ کے اپنے کردار سے اپنی توجہ اب کسی اور جانب پھیر لینی چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *