نمبر بنانے کی بے کار کوششیں

abbas nasirعباس ناصر

مفرور ملزم عدنان رشید کے دوبارہ پکڑے جانے کی خبر سن کر ، اس کو ایک خط لکھنے کی واضح رغبت محسوس ہوئی تاکہ اس سے یہ سن سکیں کہ کیوں وہ اور اس کی قبیل کے دوسرے لوگ ایک قابل نفرت نظریے سے چپکے ہوئے ہیں اور یہ کہ وہ لوگ آزادی کی نسبت سلاخوں کے پیچھے زیادہ محفوظ کیوں ہوتے ہیں؟
لیکن وہاں ایک محض فانی کالم نگار کی جانب سے لکھے جانے والے خط کا بمشکل ہی کوئی اثر ہوتاجہاں شاندار اور باصلاحیت علماء پہلے ہی متعدد کوششیں کر چکے ہیں، اور بظاہر ناکام ہو چکے ہیں۔ خود کو حق پر سمجھنے کا یقین رکھنے والے، قتل کی کوششیں کرنے والے بدمعاش، اصلاح سے بالاتر ہوتے ہیں۔
اس لئے، عدنان کے نام خط،محض نمبر بنانے کی ایک کوشش ہوگا۔ ۔۔اور جیسا کہ یہاں بہت سے ، بلکہ بہت ہی زیادہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے اس طرح یہ کھیل اختیار کر رکھا ہے کہ آپ ایسی مہارت کی صرف خواہش ہی کر سکتے ۔ہوشمندی یہ حقیقت تسلیم کرنے پر زوردیتی ہے کہ محض نمبر بنانے کا کھیل ہی ان لوگوں کے کرنے کے لئے بچ جانے والا بہترین کام ہے۔
ہاں، عمران خان سے لے کر حکمران پی ایم ایل این کی نمائندگی کرنے والی ستاروں کی کہکشاں تک، گزشتہ دور کی شاہانہ پی پی پی اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں تک، اگر کوئی ایک چیز ہے کہ جس میں ہر ایک دوسرے پر سبقت لے جا رہا ہے تو وہ’’ نمبر بنانا‘‘ ہے۔ آئیے،بلاشبہ، بیان دینے کا یہی وقت ہے۔۔۔ اب کی بار کوئی مختلف کہانی کہیے!
اس ہفتے کے شروع میں کسی نے لندن کے ایک موقع کی عمران خان کی ایک تصویر ٹویٹ کی اور کہا’جب اس وقت کے صدر آصف زرداری اپنے بچوں کے ساتھ چھٹی منانے کے لئے عین اس وقت پرواز کر گئے تھے کہ جب سیلاب ملک کے وسیع خطوں کو تباہ کر رہے تھے، اس وقت عمران خان کی زیر قیادت مچایا جانے والا شور شرابہ کان پھاڑنوعیت کا تھا۔
لیکن بلاشبہ اب، جب کہ اندرونی طور پر دربدر تقریباً 10لاکھ افرادمیں سے زیادہ تر پاکستان تحریک انصاف کے زیر انتظام چلنے والے خیبر پختونخواہ میں مدد کے طاپب ہیں تو اب پی ٹی آئی کے قائدیہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت بیرون ملک جانے میں کوئیی مذائقہ نہیں۔ جب کہ میں اس تنقید سے مکمل طور پر غیر متفق ہوں، کیونکہ سرکاری مشینری کوہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے قابل ہونا چاہیے۔ ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ یہ دورہ خوفناک مقاصد کے تحت کیا گیا ہے۔
یوں لگتا ہے کہ اس مقصد نے عمران کواپنے دس لاکھ ہم وطنوں کی بے چارگی سے تقریباً بے حس اور غضبناک حد تک لاعلم یا لاپروا کر دیا ہے۔ کوئی بھی شخص کہ جس نے عمران خان کے سماجی کام دیکھے ہیں، تصدیق کرسکتا ہے کہ درحقیقت وہ ایسے نہیں ہیں، جیسے وہ اب دکھ رہے ہیں۔لیکن جب تاثراس قدر غیر موزوں ہوتو حقیقت اکثر ایک قدم پیچھے چلی جاتی ہے۔
دراصل، یہ عمران خان اسلام آباد میں اپنے 14اگست کے احتجاجی مارچ /دھرنے پر نظرثانی نہ کرنے پر ثابت قدم ہیں تاکہ گزشتہ سال کے انتخابات میں ڈالے گئے تمام ووٹوں کے آڈٹ کے لئے دباؤ ڈال سکیں، خواہ ان کے ناقدین مسلح ہی کیوں نہ ہو جائیں۔
ناقدین کہتے ہوں گے کہ پی ٹی آئی کا قائد طاقت کا بھوکا ہے، اور یہ کہ دراصل وہ وسط مدتی انتخابات چاہتا ہے اور صبر کرنے پر تیار نہیں ہے باوجود اس کے کہ ہمارے سپاہی ملک کے سارے شمال مغربی حصوں میں مر رہے ہیں کیونکہ وہ سالوں کے جمود کی وجہ سے دہشتگردوں کے پاس چلی جانے والی زمین واپس لینے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
یہ سب کچھ ہمیشہ نمبر بنانے کی کوششوں میں مصروف پی ٹی آئی کے رہنما کے لئے بہت ہے۔ان کوششوں کی عدم موجودگی میں پاکستانی سیاست کی مستثنیات نہایت پر کشش ہیں۔یادکریں، کس طرح بدعنوانی اورتوانائی بحران نے پی پی پی کی گزشتہ حکومت کو برباد کر دیا۔پی ایم ایل این نے ان مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
اب جب کہ ایک برس سے زائد عرصے سے وہ خود تمام طاقتوں کے مالک ہیں(اتحاد حکومت کی نتائج دینے کی صلاحیت کو محدود کر دیتے ہیں)تو کیا انہوں نے ان کلیدی شعبوں میں کوئی کام کیا ہے؟وہ نمبر بنانے میں اتنے اچھے تھے کہ زیادہ تر لوگ بھول گئے تھے کہ اگر نتائج نہیں آرہے تھے تو اس وقت بھی ان کی جماعت، ملک کے 50فیصد سے زائد حصے کی حاکم تھی۔
وہ اکثر نہایت پرسکون انداز میں اور نہایت باخبر انداز میں نمبر بناتے رہتے اور یوں لگتا کہ وہ نہایت باخبر اور دو ٹوک ہیں لیکن گزشتہ ایک برس سے وہ مقتدر ہیں۔ کیا اس عرصے میں ہم نے ان منصوبوں اور ٹھوس اقدامات کو دیکھا ہے جو ہمیں یہ اعتماد دے سکتے ہوں کہ معاملات ترقی پذیر ہیں اور ایک بہتر مستقبل ہمیں پکار رہا ہے؟
ہمیں صرف بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے معاملے میں ہونے والی شدید ناکامی کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جیسے جیسے پارہ چڑھتا جا رہا ہے، ویسے ویسے ہمیں ان تمام وزیروں اور رہنماؤں سے، جو اپنی چھاتی ٹھونک کر کہا کرتے تھے کہ یہ مسئلہ پی ایم ایل این کے حکومت میں آتے ہی چند مہینوں میں ختم ہو جائے گا، معذرتیں اور توانائی کی کمی کے متعلق طویل وضاحتیں سننے کو مل رہی ہیں۔
آج اگر ہم حکمران جماعت کے مرکزی رہنماؤں کو سنیں تو یوں معلوم ہو گا کہ ملک کو درپیش سب سے بڑا خطرہ نہ تو دہشتگردی اور اس کا سبب بننے والامہلک نظریہ ہیں اور نہ ہی معاشی ترقی کی وہ شرح ہے جو نچلے سنگل ڈیجٹ میں بے جان پڑی ہے اور غیر مؤثر ہو چکی ہے اور نہ ہی یہ توانائی بحران ہے ۔۔۔ بلکہ یہ خطرہ عمران خان اور ان کی جماعت ہیں۔
اب، ممکن ہے کہ عمران اور ان کی جماعت پی ایم ایل این کو ان کی مسند اقتدار سے بے دخل کرنے کی راہ ڈھونڈ رہی ہولیکن کیا وہ واقعی ملک اور اس کے جمہوری اداروں کے لئے ایک خطرہ ہیں؟ اگر ہر وہ شخص جوایک جمہوری انداز میں، خود اپنے برتاؤ کا حصہ رہنے والی جمہوریت پر یقین رکھنے کا دعویٰ کرتاہے تو پھر اس کو جواب نفی میں دینا ہوگا۔
تاہم جب کوئی نہایت معروف تحریک چلنا شروع کرتی ہے تو باہر بیٹھے لوگ بھی فوائد حاصل کرنے کی کوششوں میں لگ جاتے ہیں۔ کسے یاد نہیں ہو گا کہ جب پی پی پی کے سربراہ آصف زرداری، نومنتخب وزیر اعظم کے ساتھ ناقابل یقین حد تک فیاضانہ خراج ہائے تحسین کا تبادلہ کر رہے تھے اور حکومت کی مدت کے آخری سال تک نواز شریف کی مدد کا عہد کر رہے تھے۔
اور اب وہ چار حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے تحریک انصاف کے مطالبے کی حمایت کر رہے ہیں اور جب ان کی جماعت 14اگست کے مارچ میں شمولیت نہیں کرے گی تو یہ پھر ن لیگ کی مدد کرے گی۔دل کی اس تبدیلی کا کوئی نہ کوئی لازمی تعلق، سندھ پولیس کے تنظیمی ڈھانچے میں مستقل تبدیلیوں پر وزیر اعظم کے ظاہر کردہ تحفظات سے بھی ہونا چاہئے تھا، جیسا کہ کراچی میں دہشتگردی کے خلاف ایک فرضی آپریشن بھی جاری ہے۔
جب ہم اس سب کو ہضم کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو ٹویٹر پر موجو، کچھ ایم کیو ایم کے دفتر کے مالکان اور منتظمین جو عموماً اپنی جماعت کے مؤقف سے جڑے رہتے ہیں، نے پی پی پی پر باہر سے زور لگانا شروع کر دیااور ہمیں یہ تاثر دینا شرو ع کر دیا کہ اس ہفتے۔۔۔ یا ۔۔۔ چلو، اس مہینے، شاید سندھ کے شہری علاقوں کی یہ جماعت صوبے میں اپوزیشن میں تھی۔لیکن فوری تحقیق نے ہمیں یقین دلا دیا کہ ایم کیو ایم کے 6ارکان ابھی تک سندھ کابینہ کا حصہ تھے۔
حقیقی مسائل کے وسیع سلسلے کو مد نظر رکھتے ہوئے ، ہمیں اس وقت خاصی حیرت ہوتی ہے جب نمبر بنانا، معقول، تعمیری اور پارلیمانی تنقید کی جگہ لے لیتا ہے۔ واقعی یہاں کافی شعبے موجود ہیں کہ جہاں قانونی، حق بجانب اور تعمیری تنقید ، بہتر حکمرانی میں حصہ ملا سکتی ہے۔ لیکن کیا ہمارے رہنمابھی کبھی ان مسائل پر توجہ مرکوز کریں گے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *