ایک جز وقتی رہنما

زاہد حسینZahid Hussain

”ایک رہنما کی سب سے اہم صفت یہ ہوتی ہے کہ اسے رہنما سمجھا جا رہا ہو“، آندرے مورِس۔
بدقسمتی سے ہمارے تیسری بار وزیر اعظم بننے والے صاحب اس پیمانے پرپورے نہیں اترتے۔ جس وقت ہماری افواج جنگجوؤں کے خلاف ایک انتہائی نازک جنگ لڑنے میں مصروف ہیں اورشمالی وزیرستان کے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے بیٹھے ہیں، عین اس وقت ہمارے رہنما10روز کے لئے اپنی سالانہ روحانی فراغت منانے کے لئے سعودی عرب چلے گئے ہیں۔
ان کے اس مذہبی جوش پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتالیکن ایک رہنما کے طور پر، ان سے اس کام پر توجہ مرکوز رکھنے کی توقع بھی کی جانی چاہئے ک جس کے لئے انہیں منتخب کیا گیاہے۔ ایک تنازعے اور ایک بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے عین درمیان میں، ملک کے لئے یہ یقیناً کوئی معمولی صورت حال نہیں ہے۔
اس نازک مرحلے میں اس قدر طویل عرصے کے لئے ملک سے دور رہنا اور ایک نجی دورہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ حکمرانی ان کی ترجیحات کی فہرست میں کیا حیثیت رکھتی ہے۔ کیا ہمارے رہنما کو اپنی ذاتی بخشش کی تلاش کی بجائے وطن میں قومی سلامتی کے وسیع مسائل سے نبرد آزما نہیں ہونا چاہئے تھا؟
کسی بھی دوسرے ملک میں، رہنما آزمائش کے اوقات میں اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔لیکن نواز شریف کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے جن کی بہترین تعریف، اس جز وقتی رہنما کے طور پر کی جا سکتی ہے کہ جسے ریاست کے معاملات نمٹانے میں کم سے کم دلچسپی ہے۔ چنانچہ یہ بات حیران کن نہیں ہے کہ ان کی جماعت کے لئے پسندیدگی کی شرح بھی اس قدر مختصر عرصے میں اتنی نیچے گر گئی ہے۔
یقیناً، یہ کسی بھی عہدیدار کے لئے کا فی مشکل ہوتا ہے کہ مقبولیت کی وہی سطح برقرار رکھے جو اسے اقتدار میں لے کر آتی ہے۔تاہم، اگر رائے عامہ کے سرویز پر یقین کیا جائے تواپنے تیسری بار وزیر اعظم بننے کے پہلے برس کے اندر، نواز شریف کی مقبولیت کی ریٹنگ میں یہ گہرا غوطہ، حتیٰ کہ پاکستانی معیارات کے مطابق بھی حیران کن ہے۔
انتخابات میں بہت پیچھے رہ جانے والی پی ٹی آئی اب، عوامی مقبولیت کے جائزے میں حتیٰ کہ پی پی پی کو بھی پیچھے چھوڑ چکی ہے۔ ہیرالڈ اور سسٹین ایبل پالیسی انسٹیٹیوٹ کے سروے کے مطابق، رائے دینے والوں میں سے صرف17فیصد نے کہا کہ اگر انتخابات آج منعقد ہتے ہیں تو وہ پی ایم ایل این کو ووٹ دیں گے۔ جب کہ 33فیصد نے پی ٹی آئی اور 19فیصد نے پی پی پی کو ووٹ دینے کا کہا۔ حالانکہ گزشتہ انتخابات میں یہ دونوں پی ایم ایل این سے بہت پیچھے تھیں۔
اگروزیراعظم کی مایوس کن کارکردگی اور طرز حکمرانی، عوام کو حیران نہ کر دیتی تو پی ایم ایل این اس قدر غیر مقبول مقام پر نہ ہوتی۔ نواز حکومت، ایک فعال اداراجاتی جمہوریت کم اور ایک فیملی لمیٹڈ کمپنی زیادہ ہے۔تمام تر اقتدارخاندان کے چند ارکان کے ہاتھوں میں مرتکز ہے۔اور اب بظاہر، خداداد صلاحیتوں کی مالک صاحبزادی کو وارثہ کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔پارٹی کی کوئی تنظیم نہیں ہے اور تمام فیصلے نواز شریف تنہا کرتے ہیں۔خاندان سے باہر کے افراد کا یوں چپ چاپ بارہ پتھر باہر کر دیا جانا، پارٹی کے سینئر ارکان میں شدید تشویش پیدا کر رہا ہے۔
آصف علی زرداری کا یہ کہنا بالکل درست تھا کہ لوگوں نے نواز شریف کو شہنشاہ نہیں، وزیر اعظم بنانے کے لئے ووٹ دئیے تھے۔ اوریہ شہنشاہیت لاہورسے چلائی جاتی ہے، جہاں وزیر اعظم زیادہ تر قیام کرتے ہیں، اگر وہ ملک میں ہوں تو! باقی ملک تو شایدان کے لئے اپنا وجود ہی نہیں رکھتا۔
ایک بکثرت پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ نواز شریف کی موجودہ حکومت، ان کی گزشتہ حکومتوں سے کس طرح مختلف ہے۔ اس کا جواب بہت سادہ ہے: یہ ان کی گزشتہ حکومتوں سے کہیں بدتر ہے۔ اب وزیراعظم فیصلہ کرنے میں پہلے کی نسبت زیادہ کمزور ہو چکے ہیں اورجیسے کہ ایک سیاسی رہنما نے کہا تھا، ”نواز اپنے نظریات کے لئے لڑنے کیلئے توانائی اور ثابت قدمی سے محروم ہیں۔“
پی ایم ایل این کی مقبولیت کی ریٹنگ میں کمی کی بڑی وجہ توانائی بحران سے نمٹنے میں حکومت کی شدیدناکامی ہے۔ حکومت کے توانائی کی پیداوارمیں دیرپا اضافے کے دعوے کے باوجود لوڈشیڈنگ میں کوئی کمی نہیں ہو سکی۔بتایا جاتا ہے کہ گردشی قرضوں کا ناقابل حل مسئلہ توانائی بحران میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔حکومت نے تقسیم کار کمپنیوں کے کام کی بہتری یا غیرمعمولی بلوں کو جمع کرنے کے سلسلے میں کچھ نہیں کیا۔
بہت زیادہ لرزش کے بعد، وزیراعظم نے بالآخر شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی اجازت دے دی لیکن وہ ابھی بھی اس نازک آپریشن کی مکمل ذمہ داری لینے پر تیار نہیں ہیں۔حتیٰ کہ لاپتہ افراد کی ذمہ داری بھی فوج پر ڈال دی گئی ہے۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ حکومت نے بڑے شہروں میں اہم سرکاری تنصیبات کی حفاظت کے لئے فوج کوبلا لیا ہے۔اب آئین کے آرٹیکل 245کے تحت مسلح افواج کو وسیع تر اختیارات دینے کا منصوبہ بھی بنایا جا رہا ہے۔ یہ سولین حکومت کی ذمہ داری سے مکمل روگردانی کے مترادف ہے۔
فوج کو شہروں میں امن و امان کے قیام میں ملوث کرنے کا مطلب ایک بتدریج فوجی قبضہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ تقریباً1998ء کے اقدامات کا احیائے نو ہے کہ جب شریف حکومت بجلی کے میٹروں کی ریڈنگ لینے سے لے کردیگر چھوٹے بڑے تمام کاموں میں فوج کو استعمال کرتی تھی۔  یہ و اضح ہے کہ ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھے گئے۔ ایک جز وقتی قیادت اس گھمبیر صورت حال سے نہیں نمٹ سکتی کہ جس کا ملک کو اس وقت سامنا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *