کیا خاوند بیوی کے رشتہ داروں کو گھر آنے سے روک سکتا ہے؟؟؟

l-bathak

بیوی کے حقوق:  اسلام نے بیوی کو درج ذیل حقوق عطا کیے ہیں:

(0)    حسن معاشرت: اس میں ہر وہ برتاو شامل ہے جو ایک عورت کے لیے ذہنی سکون کا باعث ہے۔ اسلام شوہر کو یہ حکم دیتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کا برتاو کرے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:﴾وعاشروھن بالمعروف فان کرھتموھن فعسی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا﴿ (ترجمہ) ”ان کے ساتھ معروف کے مطابق زندگی گزارو۔ اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہو تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ نے اس میں بڑی بھلائی رکھی ہو۔ “

حسن معاشرت کے لیے ضروری ہے کہ بیوی کے احترام انسانیت کو ملحوظ رکھا جائے، ان کے لیے لباس ، رہائش ، کھانے پینے ،علاج ومعالجہ میں ، دوستوں اور رشتہ داروں سے تعلقات قائم رکھنے میں وہی پسند کیا جائے جو شوہر اپنے لیے پسند کرے۔ حسن معاشرت کا مفہوم بڑ اوسیع ہے۔مولانا جلال الدین عمری اپنی کتاب اسلام کا عائلی نظام میں لکھتے ہیں: ”….بیوی کے ساتھ اس کی معاشرت ’معروف ‘ کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے حقوق ٹھیک ٹھیک ادا کیے جائیں اور اس کی جائز اور معقول ضروریات پوری کی جائیں۔ اس کے ساتھ ناروا سلوک نہ کیا جائے، بلکہ پیار اور محبت کا برتاو کیا جائے۔ ترش روئی اور سخت کلامی سے اجتناب کیا جائے۔ یہ سب باتیں معروف میں آتی ہیں۔ اس کے خلاف جو رویہ اختیار کیا جائے گا وہ غیر معروف اور منکر ہوگا۔“

حسن معاشرت میں یہ بھی داخل ہے کہ بیوی اپنے والدین کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھے، ان سے ملنا جلنا باقی رکھے ، اس کے لیے شوہر کی جانب سے اسے حق ہے کہ وہ ان فرائض کو بجا لائے،نیز اپنی ملکیت سے بااختیار طور پراور شوہر کی ملکیت سے اجازت لے کر والدین کی مالی امداد بھی کر سکتی ہے اور اگر والدین محتاج ہوں تو اس کی ہمدردی کے سب سے زیادہ حقدار خود اس کے والدین ہی ہیں۔

(۲) تر بیت: اسلام ہر مرد پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ جس طرح وہ اپنی بیوی کے مصالح دنیوی کا خیال رکھے اسی طرح اس کے اخروی مصالح کا بھی پورا پورا انتظام کرے۔ اگر اس کی تربیت میں کسی طرح کی کمی رہ گئی ہے تو مرد اس کی تربیت کرے تاکہ وہ دنیا میں ایک اچھی زندگی گزار سکے۔

(۳) عدل ومساوات:اسلام نے ایک مرد کو چار شادی تک کرنے کی اجازت دی ہے۔ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان کے درمیان عدل ومساوات سے کام لے۔ ہر ایک کے حقوق برابر ادا کرے۔ اخراجات اور دیگر ضروریات کی ادائیگی اور تعلق میں کسی قسم کے امتیازی سلوک سے کام نہ لے۔ اگر شوہر ان کے درمیان عدل سے کام نہیں لیتا ہے تو بیوی کو حق ہے کہ وہ اس حق کی پامالی کے خلاف دعوی دائر کرے۔

(۴) مالی حقوق: اسلام عورت کو بیوی کی حیثیت سے کئی ذرائع سے مالی حق عطا کرتا ہے۔ اس کا سب سے پہلا مالی حق مہر ہے ۔ جو شادی کے بعد اسے سب سے پہلے حاصل ہوتا ہے۔ مہر کی مقدار متعین نہیں ہے۔ یہ عورت اور اس کے ولی کا اختیار ہے کہ وہ شادی کے لیے جتنے پر رضامند ہوجائےں۔ البتہ یہ ملکیت ولی کو حاصل نہیں ہوگی۔ نہ شوہر کو یہ حق ہے کہ اس کی اس ملکیت یا کسی اور ملکیت میں دست درازی کرکے اسے بے اختیار کردے ۔

اسلام نے عورت کو معاشی تگ ودو سے آزاد رکھا ہے۔ یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ اس کا نان و نفقہ، رہائش اور دیگر لازمی ضروریات کو پوری کرے۔ بلکہ مرد کو عورت پر جو ایک درجہ فضیلت ہے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ مرد اس جوکھم کو بر داشت کرتا ہے۔

شوہر کی زندگی میں اسے جہاں مہر نفقہ اور رہائش کی شکل میں مالی حق حاصل ہے اسی طرح اسلام شوہر کی وفات کے بعد بھی اس کی زندگی کو غیر محفوظ صورت حال میں نہیں رکھتا ہے بلکہ شوہر کی چھوڑی ہوئی جائیداد سے اسے ترکہ کی شکل میں مالی حق عطا کرتا ہے اس کے علاوہ اولاد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ والدین کے نفقہ کو واجبی طور پر پورا کرےں۔

(۵)خلع:    اسلام پر اکثر یہ اعتراض عائد ہوتا ہے کہ اسلام مردوں کو تو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ جب تک چاہیں عورت کو اپنی زوجیت میں رکھیں اور جب چاہیں اسے طلاق دے دیں۔ حالانکہ یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ مرد جب چاہے طلاق دیدے ۔ لیکن جس طرح اسلام مرد کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ عورت سے نباہ نہ ہونے کی صورت میں اسے طلاق دیدے ، اسی طرح عورت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ اگر نباہ کی صورت نہیں ہے اور مرد اسے چھوڑنے کے لیے راضی بھی نہیں ہے تو عدالت میں دعوی کرکے قاضی کے ذریعہ نکاح کو فسخ کرالے:۔

Source : http://www.misbahmagazine.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *