کوئٹہ کا دکھ

column kahani.noshi gillani

دھماکے، چیخیں، خون، لاشیں، بربریت، افراتفری ، ظلم ، حساب ، شہید، مُلکی خلفشار، حکمرانوں کی بے حسی، عوام کی بے بسی، عالمی ضمیر ۔۔۔ یہ تمام لفظ یہ تمام اصطلاحیں مَیں نے گزشتہ چند برسوں میں اتنی بار لکھی ہیں کہ لگتا ہے کہ اب بے معنی ہو چکی ہیں ۔۔ بے اثر !

آج جب ایک بار پھر کویٔٹہ میں خود کُش دھماکے سے کم و بیش سو سے زایٔد بے گناہ لوگوں کے وجود ٹکڑے ٹکڑے ہو کر فضا میں بکھر گیٔے ہیں ۔۔ بے شمار بچے یتیم ہو گیٔے ہیں ، بہت سی عورتیں بیوہ ہو گیٔ ہیں، اَن گنت ماؤں کی گودیں اُجڑ گیٔ ہیں ۔۔ تو آج اس صفِ ماتم پر نوحہ کُناں ہوتے ہوۓ دل ہی نہیں مان رہا کہ یہ دھماکے، چیخیں، خون، لاشیں، بربریت، افراتفری ، ظلم ، حساب ، شہید جیسے یہ الفاظ  پھر سے دہراۓ جایٔیں ۔۔ فایٔدہ بھی کیا ہے کہ آج نہ تو یہ دُکھ کا مکمل اظہار بن سکیں گے نہ کسی کے زخموں کا مرہم اور نہ ہی انسانیت پر ٹوٹتے ہوۓ ظلم کا حساب ۔۔ کاش خامُشی بھی لکھی جا سکتی کہ انسان پر انسان کی طرف سے توڑی جانے والی قیامت پر تو بعض اوقات احساسِ بے مایٔگی اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ آواز بھی سُن ہو جاتی ہے ۔ ان روز روز کے المیوں نے تو جیسے پاکستانی قوم کو ’رودالی‘ بنا کر رکھ دیا ہے ۔۔ ’رودالی‘ سیاہ لباس پہنےعورتوں کی وہ ٹولی جو کسی مرگ پر جاتی ہے اوربال کھول کر دہایٔیاں دیتی ماتم کرتی جاتی ہے ۔۔ عجیب آشوب ہے کہ اظہار کی طاقت رکھنا بھی ایک سزا بن گیا ہے ۔۔ لکھتے جاؤ نوحے کرتے جاؤ بین ۔۔ اس عہدِ خون آلود کے ہم جیسے اسیروں کا یہی مقدر ہے۔

سوچا تھا کہ اس مرتبہ مُسکراتا ہوا کالم لکھوں گی کہ جب سے ’ دُنیا پاکستان‘ کے لیٔے لکھنا شروع کیا ہے سیاسی و سماجی سانحات کا ایسا تسلسل رہا ہے کہ سنجیدگی بلکہ رنجیدگی ہی غالب رہی ہے ۔ کئی آدھی ادھوری نرم تحریریں رایٔٹنگ ٹیبل پر چُپ چاپ پڑی رہتی ہیں ۔ دل چاہتا ہے کچھ شگفتہ باتیں بھی ہوں لیکن بات مکمل ہونے سے پہلے ہی کوئی نہ کوئی دلخراش واقعہ سماعت یا بصارت سے آن ٹکراتا ہے اور قلم مُسکرانا بھول جاتا ہے۔ یوں تو ساری دُنیا ہی در بدر نظر آتی ہے مگر مُسلم خطّے تو جیسے تہہ در تہہ عذابوں کے ساۓ میں ہیں کہ ظلم بھی سہتے ہیں اور ظالم بھی پُکارے جاتے ہیں ۔۔ شام ، عراق، لیبیا، فلسطین، پاکستان، کشمیر اورجانے کتنے ہی مُلک اور شہر ہیں جو المناک جنگی و غیر جنگی جبر کی زَد میں ہیں اور غضب تو یہ ہے کہ امن کی بھی کویٔ صورت نظر نہیں آتی ۔۔ شاید کایٔنات کے منظر نامے پر یہ انسانی بقا کی شامِ آخر ہے ۔۔۔۔۔

مجھے یہ بھی خبر ہے کہ میری شاعری سے محبت کرنے والے چند احباب آج کے کالم کے بعد بھی ای میل کریں گے ، فیس بُک پر پیغامات بھیجیں گے کہ ’’آپ تو محبت کے تتلیوں اور جگنوؤں کی شاعرہ تھیں آپ کو کیا ہوا یہ کیا غیر شاعرانہ تحریریں لکھتی رہتی ہیں، آپ کا نام مقام خراب ہو رہا ہے ‘‘ ۔۔ شاید ایسا ہی ہو لیکن کیا کروں کہ الاؤ کے بیچوں بیچ کھڑے ہوکر گلاب لکھنا اب میرے بس میں نہیں ہے ۔ اگر تخلیقی شعور سے لا شعور تک کی دیواریں لہو کے سُرخ چھینٹوں سے بھری پڑی ہوں تو کلیوں سی مہکتی دودھیا تحریریں کسیسے وجود میں آ سکتی ہیں ۔ اگر رات گیٔے تک جان لیوا خوف کی آہٹ نیند کے دریچوں پر دستکیں دیتی رہے تو ملایٔم غزلیں کیسے نکھریں گی ۔۔ عشق کے آنگن میں وصل کا رقص کرتے ہوۓ بھی جب غیرت کے نام پر قتل ہوتی عورت کی پکار ایڑی میں کانٹے کی طرح چبھتی رہے تو ریشمی گیت کیسے جنم لیں گے ۔ جانے یہ کیا کیفیت ہے ۔۔ احتجاج ہے ، بغاوت  یا ملال ! ۔۔ جو بھی ہے یہی آج کا سچ ہے ۔۔ تتلیوں اور جگنوؤن کی شاعرہ کا سچ ۔ انسانوں کی بسایٔ ہویٔ یہ زمین فی زمانہ جن بد دعاؤں کے حصار میں ہے اس پر بستے ہوۓ تو دعا جیسے شعر نہیں لکھے جا سکتے نا ۔۔ کویٔ کیسے لکّھے ۔

آج جب مَیں اور سعید دن بھر کی مشقت سمیٹ کر گھر کی طرف آرہے تھے تو سُریندر کورجی کے زندگی سے بھرپور گیت سُنتے ہوۓ بھی دل بےحد اُداس تھا ، ڈرایٔیو کرتے ہوۓ جب جب بھی آسمان پر نظر پڑی اس پر چمکتی گہری سُرخی دُور تک پھیلتی ہویٔ محسوس ہویٔ ۔۔ تب ہی مجھے اپنی دادی امّاں جنہیں ہم ’بی بی جی‘ کہتے تھے، یاد آ گیٔیں۔ وہ جب بھی آسمان کو سُرخ ہوتا دیکھتیں گھبرا سی جاتیں، دعا کرتیں اور کہتیں ’’ لگدا اے کِتے خون دی ہولی کھیلی گیٔ اے، اَج تے اسمان وی لال ہو گیا اے ‘‘ ۔۔ گھر آتے ہی ٹیلی ویژن آن کیا تو کویٔٹہ میں ہر طرف خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی ۔۔  جی چاہا کہ دادی امّاں سے کہوں کہ ’ بی بی جی چنگا ہویا تُسیں سوہنے رَب کول چلے گیٔے ایتھے تے ہُن آسمان سدا ای لال رہندا اے ‘ ۔۔۔۔۔۔۔

مِرا سارا شہر ہی بہہ گیا

مِرے سارے لوگ اُتر گیٔے

کہیں بے سبب سی منافقانہ فضاؤں کے کسی زہر میں

کسی بدگمان سی رات کے کسی پہر میں

مِرا سارا شہر ہی بہہ گیا

مِرے سارے لوگ اُتر گیٔے

کوئی تہمتوں، کوئی پانیوں

کوئی دلفریب کہانیوں

کوئی خواہشوں کی گرانیوں

کوئی آنسوؤں کی روانیوں

کوئی سبر کایٔیوں کی جھیل میں

کوئی سُرخ و خستہ فصیل میں

کوئی ہوش میں، کوئی خواب میں

کوئی اپنے کردہ عذاب میں

مِرا سارا شہر ہی بہہ گیا

مِرے سارے لوگ اُتر گئے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *