پاکستانی عوام اور 15واں شہید؟

رؤف طاہرRauf tahir

ایک دن قبل چوہدری برادران پھر طاہرالقادری کی ’’دربارِ انقلاب‘‘ میں حاضر تھے۔ فرزند لال حویلی بھی آیا اور میٹنگ کے دوران ہی اُٹھ کر چلا گیا۔ میڈیا سے گفتگو میں چھوٹے چوہدری نے وضاحت کی، ناراضی کی کوئی بات نہیں شیخ صاحب اس لئے چلے گئے کہ انہیں پنڈی میں ایک تقریب میں شرکت کی جلدی تھی۔ آج کی مشاورت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا، کل ڈاکٹر صاحب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں میڈیا کو بہت بڑی خبر دیں گے۔ چھوٹے چوہدری کے چہرے سے مسرت چھلک رہی تھی، باچھیں پھیل کر کانوں تک آگئی تھیں جب وہ کہہ رہے تھے، یہ خبر آپ کی سوچوں سے بھی بڑھ کر ہوگی۔ ایک دن قبل’’کپتان‘‘ اور ’’قائدانقلاب‘‘ کی خفیہ ملاقات کی خبر بھی آئی تھی، جس کی بعد میں تردید ہوگئی۔ میڈیا میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری تھا، دونوں میں نوازشریف حکومت کو گرانے کے ’’مشترکہ ہدف‘‘ کی حد تک اتفاق ہوگیا ہے۔ قادری صاحب انقلاب کے لئے ایسی تاریخ دیں گے کہ وہ اور عمران خاں آگے پیچھے اسلام آباد پہنچیں اور وہاں مل کر زور لگائیں۔
اگلے روز ’’مشترکہ پریس کانفرنس‘‘ کا منظر یہ تھا کہ ’’قائدانقلاب‘‘اسٹیج پر تھے اور چوہدری صاحبان قدرے فاصلے پر نیچے کرسیوں پر۔ ان کے ساتھ ڈکٹیٹر کی آل پاکستان مسلم لیگ کی نمائندگی کے لئے احمد رضا قصوری بھی تھے البتہ فرزند لال حویلی موجود نہ تھا۔ ظاہر ہے، کیمروں کا فوکس ’’قائد انقلاب‘‘ تھے، ایک آدھ بار چوہدری صاحبان کو بھی بطور تبرک دکھایا گیا۔ یہ ’’مشترکہ پریس کانفرنس‘‘ پاکستان عوامی تحریک کی ورکرز میٹنگ تھی۔ قادری صاحب نے 17جون کی فائرنگ کے حوالے سے 14شہداء کا نوحہ پڑھا۔ انہوں نے ’’گولیوں سے چھلنی ہونے والے‘‘ 90زخمیوں کی بات بھی کی لیکن ان میں تو کئی پولیس والے بھی تھے جو سانحہ کے وقوع پذیر ہونے سے قبل زخمی ہو کراسپتال پہنچ گئے تھے۔ شب کے آخری پہر دو، ڈھائی بجے ’’تجاوزات ‘‘ہٹانے کے لئے پولیس وہاں پہنچی اور ’’آنکھ مچولی ‘‘ کا آغاز ہوا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے ٹویٹ میسج کے ذریعے’’جانوں پر کھیل جانے‘‘ کی تلقین کرتے اور اِدھر مسجد سے ’’آج کربلا سجے گی‘‘ کے ولولہ انگیز اعلانات ہوتے رہے۔ اس دوران منہاج القرآن یونیورسٹی کے طلبہ بھی پہنچ گئے۔ لاہور کے قریبی شہروں سے بھی کمک پہنچنے لگی۔ اُدھر پولیس کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ اب دوطرفہ مقابلے کی کیفیت تھی۔ ایک طرف سے پتھراؤ،دوسری طرف سے آنسو گیس۔ اس دوران گلوبٹ نے بھی اپنا کام شروع کردیا۔ اِدھر جو شخص بھی ہتھے چڑھا، پولیس کے روایتی تشدد کا نشانہ بن گیا۔ کہا جاتا ہے، ’’المیہ‘‘ دوپہر گیارہ سے ساڑھے گیارہ بجے کے دوران ہوا۔ پہلی گولی کدھر سے آئی اور پھر پولیس کو فائرنگ کا حکم کس نے دیا؟ کیا پولیس والے panic ہوگئے تھے؟ بہت سے سوالات ہیں جن کا جواب لاہور ہائی کورٹ کے جناب جسٹس علی باقر نجفی والے عدالتی کمیشن کی رپورٹ میں مل جائے گا جس کا طاہرالقادری نے بائیکاٹ کئے رکھا۔ اس دوران آئی ایس آئی کے کرنل کی سربراہی میں پاکستان کی اس سپریم انٹیلی جینس ایجنسی، ایم آئی اور آئی بی پر مشتمل جوائنٹ ٹیم نے بھی انویسٹی گیشن کی۔ ایسے کسی بھی کیس میں ’’جائے وقوعہ ‘‘ کا معائنہ بہت اہم ہوتا ہے۔ 27دسمبر 2007 کی شام لیاقت باغ میں محترمہ بے نظیر کے قتل کے فوراً بعد ’’جائے وقوعہ‘‘ کو دھودیا گیا تھا۔ کیس کا آغاز ہوا تو راولپنڈی پولیس کے بعض اعلیٰ افسران اس بناء پر زیرِتفتیش آئے کہ جائے وقوعہ کو دھونے کا حکم کس نے اور کیوں دیا؟(جس کے نتیجے میں بعض اہم شواہد ضائع ہوگئے تھے)
طاہرالقادری صاحب نے نہ صرف منہاج القرآن فائرنگ کیس کے اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن کا بائیکاٹ کیا بلکہ ملک کی اہم ترین انٹیلی جنس ایجنسیوں پر مشتمل انویسٹی گیشن ٹیم کو بھی جائے وقوعہ کے معائنے کی اجازت نہ دی۔ فرانزک ٹیم پہنچی، تو اسے بھی روک دیا گیا۔ بائیس روزبعد جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو معائنے کی اجازت ملی تو منظریہ تھا کہ دیواروں ، دروازوں اور کھڑکیوں کی مرمت ہوچکی تھی (اور یوں اہم شواہد ضائع ہوگئے تھے)۔ بہرحال عدالتی کمیشن اور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔
قادری صاحب کا کہنا تھا، ہم اپنے 14شہداء کا قصاص، ان کے 14سے لیں گے اور پھر انہوں نے اپنے 15ویں ’’شہید ‘‘ کا ذکر کیا جس کی ’’شہادت‘‘ کی خبر آج کے اخبارات میں آئی تھی۔ یہ عوامی تحریک ضلع حافظ آباد کے رہنما میاں اسلم بھٹی تھے، قادری صاحب کے بقول، وہ انقلاب مارچ کی موبلائزیشن کے لئے رابطہ عوامی مہم پر تھے کہ انہیں قتل کردیا گیا۔ لیکن اخبارات کی کہانی اور تھی جس کے مطابق مقتول اسلم بھٹی علاقے کے ایک زمیندار ناصر عباس بھٹی کے قتل کیس میں چشم دید گواہ تھے۔ ملزم پارٹی نے ایک اور چشم دید گواہ کو بھی قتل کردیا تھا۔ کچھ عرصہ قبل اسلم بھٹی پر بھی فائرنگ کی گئی لیکن تب وہ بچ نکلے تھے۔ ’’قائد انقلاب‘‘ نے ’’یوم انقلاب‘‘ کا اعلان کرنے کی بجائے 10اگست کو’’ یومِ شہدا ‘‘منانے کا اعلان کیا (17جون کے شہداء)۔ لیکن یوں لگتا ہے، انہیں کچھ اور ’’شہدا‘‘ بھی درکار ہیں۔ کچھ عرصہ قبل وہ کہہ چکے کہ انقلاب کے لئے چار ، پانچ ہزار کارکنوں کی شہادتیں کوئی مہنگا سودا نہیں ہوگا۔ ان کی تقریر اشتعال سے لبریز تھی۔ حکومتِ پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا، یومِ شہدا پر آنے والے کارکنوں کو روکنے کی کوشش کی گئی تو یہ ماڈل ٹاؤن کی بجائے، جاتی امرا کے محلات میں منایا جائے گا۔ جبکہ اپنے انقلابی کارکنوں کے لئے ان کا فرمانِ امروز تھا کہ کوئی پولیس والا انہیں گرفتار کرنے آئے، تو وہ پانچ ، پانچ سو اور ہزار، ہزار پر مشتمل جتھوں کی صورت میں اس کے گھر میں گھس جائیں۔( صدیق الفاروق کے اس مطالبے میں وزن ہے کہ حکومت اس تقریر کو عدالت میں پیش کر کے اس سے رہنمائی حاصل کرے کہ لوگوں کو تشدد پر اُکسانے والے اس شخص کے خلاف کوئی قانونی کارروائی بنتی ہے یا نہیں ؟)
اِدھر پاکستان میں ’’ضرب عضب‘‘ جاری ہے جس میں پاک فوج کے جوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں(ایک تھری اسٹار اور 2ٹو سٹار جرنیلوں سمیت پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے 5ہزارسے زائد افسراوراہل کار اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرچکے۔)
اِدھر غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں قیامت برپا ہے۔ نہتے فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے۔ معصوم بچے، خواتین اور بوڑھے ، کوئی بھی محفوظ نہیں، اس وحشت و بربریت پر اقوامِ متحدہ کا نمائندہ بھی پھوٹ پھوٹ کر رودیا۔ پاکستان میں مختلف تنظیمیں اس وحشت و سفاکیت کے خلاف مظاہرے کر رہی ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے غزہ کے محصورین و مظلومین کی امداد کے لئے 10لاکھ ڈالر کی امداد کے علاوہ جمعۃ الوداع کوسرکاری سطح پر یومِ سوگ بھی منایاگیا۔ اس موقع پر قومی پرچم بھی سرنگوں رہا۔ شاہ عبداللہ نے غزہ کے المیہ کو انسانیت کے خلاف بدترین جرم قرار دیتے ہوئے عالمی ضمیر کو آواز دی۔
حیرت ہے، ’’شیخ الاسلام‘‘ کی تقاریر اور بیانات میں سانحۂ غزہ کے حوالے سے ایک لفظ تک نہیں ہوتا۔ کینیڈین شہریت کے حصول کے لئے ملکہ سے اول و آخر وفاداری کے اقرار کی شرط تو ہے ، کیا اِسے برقرار رکھنے کے لئے اسرائیل کے بدترین مظالم پر زبان بندی بھی لازم ہے؟ بلکہ اپنے 3اگست کے خطاب میں تو وہ امریکہ اور مغرب کی تہذیبی و اخلاقی برتری کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے ان کے کتوں کو بھی پاکستانیوں سے بہتر قرار دے رہے تھے جنہیں وہ حقوق حاصل ہیں جو پاکستان میں انسانوں کو بھی حاصل نہیں۔
اسی شام ایک ٹاک شو میں چوہدریوں کے ترجمان سے پوچھا گیا، ’’قادری صاحب نے تو یوم انقلاب کی تاریخ دینا تھی‘‘ جس پر اس کا جواب تھا، آپ انتظار کریں، 10اگست کو یوم شہداکے شرکاء لاہور سے جاتی امرا کا رُخ کرتے ہیں یا اسلام آباد کا ۔’’لیکن انقلاب کیسے آئے گا، کون لائے گا‘‘؟ ’’جیسے پہلے آتا رہاہے‘‘۔ چوہدریوں کے کارندے کی زبانی اصل کھیل بے نقاب ہوگیا۔ بلی تھیلے سے باہر آگئی؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *