موت کا معاوضہ

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

کوئی بھی فوجی یا ریاستی اہلکار اپنی جان اس لئے قربان نہیں کرتا کہ اسے جان قربان کرنے کی تنخواہ ملتی ہے، بلکہ وہ اس جذبے سے سرشار ہو کر دشمنوں کے خلاف لڑتا ہے کہ اگر ملک کی حفاظت کے لئے جان بھی دینی پڑے تو پرواہ نہیں ،یہ جذبہ کیسے پیدا ہوتا ہے ،اسے برقرار رکھنے کا کیا طریقہ ہے اور کون سے ایسے اقدامات کئے جائیں کہ یہی جذبہ تمام سیکورٹی اداروںکے ہر اہلکار میں موجزن رہے ، اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ کئی برس ہو گئے ہمیں دہشت گردی کی جنگ لڑتے ہوئے مگر آج تک ہم کوئی جامع اور مربوط پروگرام نہیں بنا سکے جس کے تحت جنگ میں شہید ہونے والوں کے خاندانوں کی کفالت کی جا سکے (لفظ ’’کفالت ‘‘یہا ں کس قدر بے معنی لگ رہا ہے )!فوج میں تو شاید شہدا کے لئے ایسا کوئی پروگرام موجود ہے مگر پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کے اہلکار اگر دہشت گردوں سے نبردآزما ہوتے ہوئے جام شہادت نوش کر جائیں تو ان کے خاندان کو فقط چند لاکھ روپے معاوضہ ملتا ہے ۔اس معاوضے کو بڑھانے کی سمری حال ہی میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کی گئی ہے جس میں شہید کے خاندان کے لئے کم از کم معاوضہ پندرہ لاکھ روپے تجویز کیا گیا ہے،اسی بات سے اندازہ لگائیے کہ اس سے پہلے کیا معاوضہ ہوگا(کیا ہم’’معاوضے‘‘ سے بہتر کوئی لفظ تلاش کر سکتے ہیں)؟کیا جنگیں اس قسم کے ’’معاوضوں‘‘ سے جیتی جاتی ہیں؟
جنگ صرف ٹی وی پر جنگی ترانے چلانے کانام نہیں، یقیناً ان کی اپنی افادیت ہے اور شہدا کی یاد میں چلنے والے ترانے اور پروگرام جنگ میں فوجیوں کا لہو گرمائے رکھتے ہیں ،یہی نہیں بلکہ سیاسی قیاست اور فوجی کمانڈروں کا محاذ جنگ پر جا کر جوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں یقین دلانا کہ یہ قوم ان کی قربانیوں کی دل و جان سے قدر کرتی ہے ،از حد ضروری ہے ،تاہم کافی نہیں ۔ایک لمحے کو فوج، پولیس ،لیویز ،ایف سی یا خاصہ دار فورس کے اس جوان کے بارے میں سوچئے جس نے اپنی جان صرف اس لئے قربان کردی تاکہ آپ اور میں اس ملک میں محفوظ رہ سکیں، لیکن اگر وہ محاذ جنگ یا اپنی فرض کی ادائیگی کے دوران یہ سوچنے لگے کہ اس کے بعد اس کے بیوی بچوں کا کیا بنے گا، کیا اس کی بیٹیاں دوسروں کی محتاج ہو جائیں گی ،کیا گھر بار چلانے کے لئے اس کی پردہ دار بیوی کو در بدر ہونا پڑے گا، کیا اس کے بچوں کی تعلیم مکمل ہو جائے گی ،کیا اس کے والدین کا علاج جاری رہ سکے گا …تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس کا مورال کیسا ہوگا!دہشت گردی کی یہ خونی جنگ ہزاروں بچوں کو یتیم کر چکی ہے ،عورتوں سے ان کے سر کا تاج چھین چکی ہے ،بہنوں سے ان کے ہیرے جیسے بھائی لے چکی ہے اور مائوں سے ان کے جگر کے ٹکڑے لے کر کھا چکی ہے ۔بے شک یہ قیمتی جانیں واپس نہیں لائی جا سکتیں ، کوئی ایسا جادو نہیں جو پھول سے معصوم بچوں کے ذہنوں سے باپ کی یاد بھلا کر ان کا دل بہلا سکے،مگرایک ایسا کام ہم ضرور کر سکتے ہیں جو بطور قوم نہ صرف ہمارا فرض ہے بلکہ اس سے ہمارے جوانوں کے حوصلے بھی بلند رہیں گے اور یہ جنگ بھی جیتی جا سکے گی، او ر وہ کام ہے شہدا کے لئے جنت کی تعمیر،ایک جنت تو وہ ہے جس کا ہمارے ربّ نے شہیدوں سے وعدہ کیا ہے اور ایک جنت وہ ہو جو ہم ان شہدا کے بچوں کے لئے اسی دنیا میں تعمیر کر دیں !
جنت کا استعارہ یہاں استعمال کیا گیا ہے اصل میں اس سے مراد وہ مکمل پیکیج ہے جو شہید کے خاندان کو دیا جانا چاہئے۔کے پی کے کی مثال لیتے ہیں،فرض کریں کہ پچھلے پانچ برسوں کے دوران یہاں دہشت گردی کے نتیجے میں شہیدہونے والے سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں کی تعداد پانچ سو تھی ،اگر ان پانچ سو شہدا پر دو کروڑ روپے فی کس بھی خرچ کیا جائے تو کل رقم دس ارب روپے بنتی ہے یعنی سال کے فقط دو ارب، ذرا سوچئے کہ ان روپوں سے کیا کچھ کیا جا سکتا ہے !سب سے پہلے تو حکومت ایک علاقے میں زمین مخصوص کر سکتی ہے جہاں صرف شہدا کے خاندانوں کے گھر ہوں،اسے ڈی ایچ اے کی طرز پر تعمیر کیا جا سکتا ہے ،اگر حکومت صرف زمین ہی مختص کر دے تو دو چار مخیر کاروباری شخصیات ہی شہدا کے لئے یہ ہائوسنگ سکیم ڈیویلپ کر سکتی ہیں ،اس ہائوسنگ سوسائٹی کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور یہاں خود کار پاور پلانٹ سے لے کر گالف کورس تک وہ تمام پر تعیش سہولیات موجود ہوں جو کسی بھی مہنگی ترین سوسائٹی میں ہوتی ہیں ،اس ہائوسنگ سوسائٹی میں ایک کروڑ روپے سے شاندار گھر تعمیر کیا جائے جو ہر شہید کی فیملی کو الاٹ کیا جائے ۔شہید کے بچوں کے لئے یہ سہولت موجود ہو کہ اگر وہ مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں بھی پڑھنا چاہیں تو اس ضمن میں کوئی مالی رکاوٹ حائل نہ ہو ،پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی طرز پر ایک فنڈ ان بچوں کی تعلیم کے لئے باآسانی بنایا جا سکتا ہے ،جو بچے نوکری کے قابل ہوں انہیں نوکری دی جائے یا باقی ماندہ ایک کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کی جائے جس سے ان کا ماہانہ خرچہ بغیر ذہنی تنائو کے پورا ہوتا رہے ۔اسی ہائوسنگ سکیم میں ایک جدید ترین ہسپتال ہو جہاں شہدا کے لواحقین کا مکمل علاج معالجہ مفت ہو ،انہیں خصوصی کارڈ جاری کئے جائیں جو انہیں مختلف مراعات کے حصول میں مدد دیں جیسے کہ ہوائی اڈے پر وی آئی پی لائونج کی سہولت ،ریل یا جہاز کے ٹکٹ میں ترجیحی سلوک اور رعایت، سرکاری تقریبات میں شمولیت وغیرہ۔یہ تمام کام کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے شہید کے لئے زمین پر جنت بنا دی یا اس کی شہادت کا قرض چکا دیا کیونکہ اصل جنت تو وہی ہے جو خدا نے اس کے لئے تیار کی اور جہاں وہ امر ہو چکا ،تاہم ان اقدامات سے کم از کم اس تاثر کی نفی ہو گی کہ ہماری قوم بالکل بانجھ ہو چکی ہے ۔
دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں کی درست تعداد کا مجھے علم نہیں ،پورے ملک میں یہ تعداد یقیناً ہزاروں میں ہوگی اور ان اقدامات کے لئے اربو ں روپے درکار ہوں گے ، لیکن ان اربوں روپوں کا حصول دو طریقوں سے ممکن ہے۔ایک،اگر حکومت اسے بھی میٹرو کی طرح ایک میگا پراجیکٹ سمجھے تو اربوں روپوں کا بجٹ منٹوں میں مختص ہو سکتا ہے۔ دوسرے ،اندرون ملک و بیرون ملک لا تعداد ایسے پاکستانی ہیں جنہیں اگر اس بات کا یقین ہو کہ ان کا پیسہ شفاف انداز میں صرف شہدا کے خاندانوں پر خرچ کیا جائے گا تو وہ اس کار خیر کو ہفتوں میں نہیں تو مہینوں میں نمٹا دیں گے ۔اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ حکومت زمین الاٹ کرنے اور سالانہ بجٹ مختص کرنے کے بعد اس منصوبے سے علیحدہ ہو جائے اور اس کا انتظام و انصرام دس ایسے افراد کے سپرد کر دیا جائے جن کی نہ صرف دیانت اور اہلیت شک و شبے سے بالاتر ہو بلکہ وہ اس کام کو سرانجام دینے کی مکمل صلاحیت بھی رکھتے ہوں ۔پاکستان کی آبادی ماشاءاللہ اٹھارہ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ،مجھے یقین ہے کہ اٹھارہ کروڑ میں سے دس افراد توضرور ایسے نکل آئیں گے جو اب تک سوشل میڈیا کی لعن طعن سے محفوظ ہوں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *