داڑھی کی لمبائی اور مولانا مودودی کا فتویٰ اور فلم’ خدا کے لیے‘!

bin qasimکیا داڑھی رکھنا مسلمان مرد پر فرض ہے اور نہ رکھنے والے کو کتنا گناہ ہوگا؟
جواب:امام شافعی کے سوا تمام آئمۂ کرام داڑھی منڈوانا گناہ سمجھتے ہیں البتہ اس کی لمبائی کے بارے میں شدید اختلاف ہے۔احناف کے نزدیک ایک مٹھ سے کم داڑھی شرعی نہیں۔ اس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جب حضرت موسی علیہ السلام کوہِ طور سے واپس آئے تو بنی اسرائیل بچھڑے کی پوجا میں ملوث ہو چکے تھے ۔تب انہوں نے حضرت ہارون علیہ السلام کی داڑھی کھینچی تھی کہ انھوں نے وم کیا خیال کیوں نہ رکھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ داڑھی کم از کم اتنی ضرور ہونی چاہیے کہ مٹھ میں آ سکے اور کھینچی جا ۔ لیکن مولانا مودودی سے جب داڑھی کی لمبائی کے معاملے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا یہ بدترین بدعتوں میں سے ایک ہے ، کیونکہ اسلام میں ڈاڑھی ہے لیکن ڈاڑھی میں اسلام نہیں ۔ یاد رہے یہی ڈائیلاگ فلم’ خدا کے لیے‘ میں نصیر الدین شاہ نے بولے تھے جو اصل میں مولانا مودودی کے الفاظ ہیں ۔اہل حدیث علماء کے نزدیک لازم ہے کہ ڈاڑھی کو چھیڑا ہی نہ جائے اور اسے خوب پھلنے پھولنے دیا جائے ۔جامعہ ازہر اور متعدد جدید علما ء امام شافعی کے فتوے کو سب سے قرین اسلام سمجھتے ہیں ۔ آپ کی جس رائے پر تسلی ہے ، اس پر عمل کر لیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *