جرأت انکار!

Photo Zahida Hina sahiba

زاہدہ حنا

وہ اب سے 30 برس پہلے ہم سے رخصت ہوئے تھے۔ یہ ان کی پیدائش کی صدی ہے۔ اب سے 100 برس پہلے 31 جولائی 1916ء کو مشرقی یوپی کے ایک قصبے میں پیدا ہوئے۔ خاندانی پس منظر جاگیردارانہ اور مذہبی تھا لیکن اس دور کے بہت سے دوسرے ذہین اور متحرک نوجوانوں کی طرح 1917ء کا روسی انقلاب اور کمیونسٹ پارٹی کا مینی فیسٹو ان کے جی کو ایسا بھایا کہ وہ ہمیشہ کے لیے سرخ رنگ میں رنگے گئے۔

پاکستان وجود میں آیا تو وہ امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی میں تھے، جہاں وہ جرنلزم کی تعلیم حاصل کرنے گئے تھے۔ New Age Weekly بمبئی کا ایک  ہفت روزہ تھا جس کے کارسپانڈنٹ کے طور پر وہ یو این کی کارروائیوں کی رپورٹنگ کرتے تھے، لیکن ان کے اشتراکی خیالات امریکی انتظامیہ کے لیے نہایت ناپسندیدہ تھے، وہ گرفتار ہوئے، چند مہینے امریکی جیل میں ’سرکاری مہمان‘ رہے اور پھر امریکا بدر کر دیے گئے۔ وہ ہندوستان گئے لیکن پھر پارٹی کے حکم پر وہ پاکستان آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے، جہاں انھوں نے جیل کاٹی اور ایک مشکل زندگی گزاری۔

یہ تھے ہمارے سبط حسن جنہوں نے پاکستان کی نئی نسل کو تازہ افکار و خیالات سے روشناس کرایا اور جن کی نظری اور فکری کتابیںآج بھی ہاتھوں ہاتھ لی جاتی ہیں۔ ہمارے یہاں 1948ء سے ملک کو جس طرح قدامت پرستی کی روایات سے وابستہ کیا گیا، اس سے ہم آج تک اپنا دامن نہیں چھڑا سکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان بنیاد پرستی اور قدامت پسندی کی بند گلی میں پھنس کر رہ گیا ہے۔

سبط حسن کو اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ پاکستان کی نئی نسل جس فکری دلدل میں دھنس گئی ہے، اس سے نکالنے کا کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جو ترقی پسند روایات سے جڑے ہوئے ہیں۔ انھوں نے یہ کام اپنے سر لیا اور ’ماضی کے مزار‘ ’موسیؑ سے مارکس تک‘ ’نوید فکر‘ ’انقلاب  ایران‘ اور ’پاکستان میں تہذیب کا ارتقا‘ ایسی کتابیں لکھیں۔ ان کی یہ کتابیں ہزاروں کی تعداد میں فروخت ہوئیں۔ لوگوں کے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ سیکولرازم، تھیوکریسی اور جدید اردو ادب میں رجعت پرستی اور ترقی پسند خیالات کے ٹکراؤ ایسے خشک موضوعات کو نوجوان اس دلچسپی سے پڑھتے جیسے وہ کوئی ادبی کتاب پڑھ رہے ہوں۔

بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ان کی تحریروں نے ہزاروں نوجوان ذہنوں کو سیراب کیا اور وہ مشکل اور متنازع فیہ موضوعات پر سوال اٹھانے لگے۔ جنرل یحییٰ خان کے فوجی اقتدار کے دوران ’’یوم شوکت اسلام‘‘ دھوم دھام سے منایا گیا۔ اس میں ’اسلام‘ کا نام تو رسماً لیا گیا تھا، دراصل یہ جنرل یحییٰ کے اقتدار کو طول دینے کی کوششیں تھیں۔ علامہ نیاز فتح پوری پر اپنے ایک مضمون میں انھوں نے لکھا کہ:

’’ملائیت کا تعلق کسی خاص ملک یا مذہب سے نہیں بلکہ وہ ایک عالمگیر ذہنی کیفیت ہے، ایک طرز فکر و عمل ہے جو عقلی دلیلوں سے نہیں بلکہ ڈرا دھمکا کر اپنے عقائد دوسروں سے منوانے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ سادہ لوحوں کے دلوں میں خوف کا زہر گھولتی ہے اور لوگوں کو اطاعت و بندگی پر مجبور کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ علماء اور فقہا نے سیکڑوں برس پہلے جو کچھ لکھ دیا ہے اس کو بے چوں و چرا قبول کر لو، خواہ ان کی باتیں کتنی ہی خلاف عقل کیوں نہ ہوں ۔ رعونت اور خشونت اس کی سرشت ہے۔ اس کا دل محبت اور دردمندی کے جذبات سے خالی ہوتا ہے۔ چارہ سازی اور غمگساری اس کا شیوہ نہیں‘‘۔

سبط صاحب کا ایک بڑا کام یہ ہے کہ انھوں نے ہمیں انکار کی جرأت سے آشنا کیا۔ اپنے مضمون ’انکار کی جرأت‘ میں انھوں نے اس زمانے کے مشہور و معروف مذہبی اکابرین کا ذکر کیا ہے، جو بات اعلائے کلمۂ حق کی کرتے تھے لیکن مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر یا فیلڈ مارشل اگر سفر پر جائے تو اس کے بازؤے شمشیر زن پر امام ضامن باندھتے تھے۔ یہ تصویریں بہت اہتمام سے اخباروں میں شایع ہوتیں اور سادہ لوح عوام اس آمر مطلق کو خدا کا بھیجا ہوا فرشتہ سمجھتے جو ان کو مصائب سے نجات دلانے کے لیے آیا تھا۔

انھوں نے ایک ایسے منافق اور ریاکار سماج میں ہمیں یہ بتانے کی کوشش کی کہ آمروں اور مطلق العنان حکمرانوں کے سامنے جرأت انکار کا اظہار کرنے والے ہی تاریخ کے بڑے ہوئے ہیں۔ انھوں نے لکھا: ’’ہر اقرار پسند معاشرے میں ایسے دیوانے بھی ہوئے ہیں جنہوں نے برائی کو بھلائی کہنے سے ہمیشہ انکار کیا اور سزا پائی۔ سقراط نے ’نہیں‘ کہا اور اسی جرم کی پاداش میں اس کو زہر کا پیالہ پینا پڑا۔ مسیح نے ’نہیں‘ کہا اور مصلوب ہوئے۔ ابوذر غفاری نے ’نہیں‘ کہا اور صحرائے نجد میں تڑپ تڑپ کر جان دی۔ امام حسینؑ نے ’نہیں‘ کہا اور شہید ہوئے۔ امام ابو حنیفہ ؓ نے ’نہیں‘ کہا اور بارہ سال قید رہ کر قید خانے ہی میں وفات پائی۔

برونو نے ’نہیں‘ کہا اور آگ میں جلایا گیا۔ تھامس مور نے ’نہیں‘ کہا اور قتل ہوا۔ سرمد نے ’نہیں‘ کہا اور سر قلم کروایا۔ حسن اور وفا کی پیکر طاہرہ قرۃالعین نے ’نہیں‘ کہا اور ماری گئی۔ کارل مارکس نے ’نہیں‘ کہا اور ملک بدر ہو کر تمام عمر فاقے کرتا رہا۔ سردار بھگت سنگھ نے ’نہیں‘ کہا اور پھانسی پائی۔ جولیس فوچیک اور گیبریل پری نے ’نہیں‘ کہا اور قتل ہوئے۔ حسن ناصر نے ’نہیں ‘ کہا اور قلعہ لاہور میں اس شان سے قربان ہوئے کہ نہ جنازہ اٹھا اور نہ کہیں مزار بنا۔ چلی کے صدر آلندے نے ’نہیں‘ کہا اور زندگی جمہوری قدروں پر نچھاور کر دی۔ یہ وہ خوش قسمت افراد ہیں جن کو شہرت اور بقائے دوام نصیب ہوئی۔‘‘

انھوں نے ابتدا سے ہی اپنا رشتہ قلم سے جوڑا تھا۔ تقسیم سے پہلے وہ اپنے عہد کے ایک بڑے ادیب قاضی عبدالغفار کے پرچے ’پیام‘ سے وابستہ رہے جو حیدر آباد دکن سے نکلتا تھا۔ اس کے بعد ’نیا ادب‘ میں انھوں نے اپنے قلم کے جوہر دکھائے۔ پاکستان میں ’لیل و نہار‘ میں فیض صاحب کے ساتھ شریک مدیر رہے۔ جنرل یحییٰ کے زمانے میں انھوں نے ’فتویٰ جواب فتویٰ‘ نمبر نکالا جو بے حد مقبول ہوا۔ کراچی میں ’پاکستانی ادب‘ شروع کیا۔ لیکن ان کا اصل کارنامہ ان کی وہ کتابیں ہیں جنہوں نے مارکسی فکر کے حوالے سے پاکستان کی کئی نسلوں کی ذہنی تربیت کی۔

’موسیٰ ؑ سے مارکس‘ ’ماضی کے مزار‘ ’پاکستان میں تہذیب کا ارتقا‘ اور ’ نوید فکر‘ ان کی وہ کتابیں ہیں جو آج تک پڑھنے والوں میں مقبول ہیں۔ انھوں نے ایرانی انقلاب کے فوراً بعد ’انقلاب  ایران‘ لکھی۔ اس کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک وژنری دانشور تھے۔ فیض صاحب جب انقلاب ایران کو روسی انقلاب سے بڑا انقلابی واقعہ قرار دے رہے تھے، سبط صاحب یہ لکھ رہے تھے کہ تودہ پارٹی جو انقلاب ایران کی حمایت کر رہی ہے، وہی سب سے پہلے انقلابیوں کا شکار ہو گی۔ واقعات نے انھیں درست ثابت کیا اور ان کی یہ پیش گوئی بھی ٹھیک نکلی کہ ایرانی عوام کو اپنی آزادی کے لیے ایک لمبی لڑائی لڑنی ہو گی۔

وہ ہمارے سماج کے ایک ایسے جی دار دانشور تھے جس نے جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں ترقی پسند تحریک کی گولڈن جوبلی اس شان سے منائی کہ ان کے دشمن ہی نہیں دوست بھی حیرت زدہ رہ گئے۔ یہ آمریت کے جاہ و جلال کا وہ دور تھا جب اچھے اچھوں کو جنرل ضیاء کی ناراضی مول لینے سے خوف آتا تھا۔ ایک ایسے زمانے میں سبط صاحب نے اپنے اردگرد ان لوگوں کو جمع کیا جو مال دار نہیں تھے لیکن سچ کہنے کی دولت سے مالا مال تھے۔ انھوں نے ہمت اور استقامت سے گولڈن جوبلی کی تیاریاں کیں اور اپنی تمام طاقت اسے کامیاب بنانے میں صرف کر دی، اس وقت ہم لوگوں کو جوان کے ارد گرد تھے، اس بات کا گمان بھی نہ تھا کہ وہ اپنے اندر کس قدر تھک چکے ہیں۔

چند مہینوں بعد وہ لکھنؤ میں پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن کی گولڈن جوبلی میں شریک ہوئے، دلی گئے جہاں سے انھیں آگرہ جانا تھا لیکن دل نے اس کی اجازت نہ دی اور وہ دلی میں ہی رخصت ہوئے۔ سفارت کاری کا تقاضہ تھا کہ ان کا تابوت کراچی جانے سے پہلے ہندوستان میں پاکستانی سفارت خانے جائے اور وہاں ان کی نماز جنازہ پڑھائی جائے۔ سبط حسن کا تابوت سفیر محترم کا انتظار کرتا رہا، نماز جنازہ میں دیر ہوتی رہی لیکن چمکتے سورج کی دھوپ ان کے قدم چومتی اور جانے والے کو خراج عقیدت پیش کرتی رہی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *