عمران خان کاآل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے انکار

karachi-liyari_400
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی پر ایک مشترکہ پالیسی کی تشکیل کے لیے منعقد کی جانے والی کل جماعتی کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔

لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں خبردار کیا کہ اگر حالیہ عام انتخابات میں چار انتخابی حلقوں میں دھاندلی کی  تفتیش کے ہمارے مطالبے کو قبول نہ کیا گیا تو سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا جائے گا۔

عمران خان نے اشارہ دیا کہ وہ کم سے کم ایجنڈے پر اپوزیشن کے اتحاد میں شامل ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ” اے پی سی میں شرکت  کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، اس طرح کی کانفرنسز پہلے بھی ہوچکی ہیں اور وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے پر بھی پہنچیں، لیکن میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کیوں نہیں ہوسکے؟”

صدارتی الیکشن میں حصہ لینے والےتحریک انصاف کے امیدوار ریٹائرڈ جسٹس وجہیہ الدین احمد اور اپنی پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ  وہ شدت پسندی کے معاملے پر وزیراعظم اور آرمی چیف سے سچ سننا چاہتے ہیں اور بند کمرے کے اجلاس میں اندرونی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہیں کیونکہ سابق فوجی صدر نے یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے ڈرون حملوں کی اجازت دی تھی۔

انہوں اے پی سی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بہت سے حساس معاملات ہیں جن پر کھل کر بات نہیں کرسکتے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ حکومت میں شامل اسٹیک ہولڈرز میں سے ایک اہم اسٹیک ہولڈرز ہونے کی حیثیت سے وہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم اور فوج کی طرف سے ایک خصوصی بریفنگ دی جائے۔

عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت تیس جولائی کو منعقد ہونے والے صدارتی الیکشن میں احتجاجاً حصہ لے رہی ہے تبدیل شدہ شیڈیول میں الیکشن کمیشن نے امیدواروں کی انتخابی مہم کے لیے مناسب وقت نہیں دیا۔

انہوں نے صدارتی انتخاب کو متنازع بنانے پر الیکشن کمیشن پر تنقید کی۔

ان کا کہنا تھا ہم بھی دوسری جماعتوں کی طرح صدارتی الیکشن کے بائیکاٹ کے حق میں تھے، لیکن جسٹس وجہیہ الدین کی درخواست پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، کیونکہ مسلم لیگ نون کو میدان میں کھلا نہیں چھوڑنا چاہتے۔

عمران خان نے کہا کہ تحریکِ انصاف اراکینِ اسمبلی سے ان کی فیملیز کے ذریعے رابطہ کرے گی اور جسٹس وجہیہ الدین کے لیے ووٹ ڈالنے پر قائل کرے گی۔

گیارہ مئی کے عام انتخابات میں دھندلی کے الزامات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، انہیں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے امید ہے جن کی بحالی کے لیے ہماری جماعت نے آواز اٹھائی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کے کافی امکانات تھے کہ اپوزیشن کے ساتھ کم از کم ایجنڈے پر اتحاد کیا جائے، خاص طور پر آنے والے ضمنی انتخابات میں حکومت کی ممکنہ مبینہ دھاندلی کے حوالے سے۔

اس موقع پر جسٹس وجہیہ الدین کا کہنا تھا  کہ الیکشن کمیشن نے الیکشن کے شیڈیول کے اعلان میں بہت زیادہ تاخیر سے کام لیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *