مسلہ کشمیر اور انکل سام کا موقف

anwar abbas anwar

امریکہ وزارت خارجہ کی ذمہ دار اہلکار الزبتھ ٹروڈو نے کہا ہے کہ امریکا کو کشمیر میں پرتشدد کاررئیوں پر تشویش ہے اور ہم نے کشمیر پر اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی ،انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہمسلہ کشمیر کے تمام فریقین مل بیٹھ کرباہمی مذاکرات کے ذریعہ دوستانہ ماحول میں اسکا حل تلاش کریں ، ہم نے اس مسلے کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کی پہلے بھی حمایت کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق الزبتھ ٹروڈو نے کہا کہ ہمیں کشمیر میں بھارتی فوج کی جارحیت پر تشویش ہے۔
الزبتھ ٹروڈو سے کسی نے یہ پوچھنے کی زخمت ہی نہیں کی کہ امریکا پاکستان اور بھارت کو دئیے جانے والے اس مشورہ پر خود کیوں عمل پیرا نہیں ہوتا ؟ اور کیونکر اپنے مخالفین کو اتحادیوں کے زور بازوؤں سے تباہ و برباد کرنے پر تل جاتا ہے؟الزبتھٹروڈو کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اس ( امریکا) نے کبھی بھی اپنے اتحادیوں اوردوستوں کے ساتھ عہدوفا نہیں کیے اگر میں یہ کہوں کہ تو بجا نہ ہوگا کہ امریکا نے ہمیشہ اپنے دوستوں اور اتحادیوں کی پیٹھ میں چھرا ہی گھونپا ہے اور دوستوں کے دشمنوں کے سر پر دست شفقت رکھنے میں ہمیشہ پہل کی ہے مگر پاکستان جیسا دوست اور اتحادی پھر بھی امریکا امریکا کا راگ الاپتا ہے۔ ماسوائے اسرائیل سے دوستی نبھانے میں امریکا نے کبھی غفلت کا مظاہرہ نہیں کیا شائد اسکی وجہ اسرائیلیوں کا امریکا کی معیشت پر قبضہ ہے۔عرب ممالک اور پاکستان کے حکمرانوں جعلی کو جتنی جلد ممکن ہو اس بات کو اپنے بھیجے(دماغ ) میں بٹھا لینی چاہیے کیونکہ یہ ان کے اپنے مفاد میں بہتر ہوگا۔
الزبتھ ٹروڈو کی حثیت تو ایک سرکاری ملازم کی ہے اس نے تو وہی بات کہنی ہے جو اسے امریکا کے منتخب حکمران تعلیم کریں گے ایسے ہی جیسے ہمارے دفتر خارجہ، دفتر داخلہ کے ترجمان ملکی و غیر ملکی صورت حال میں بتاتے ہیں،الزبتھ ٹروڈونے سچ کہا ہے کہ امریکا نے کشمیر پر اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی کیونکہ اسکی پالیسی یہی ہے کہ ’’ ظالم کی سرپرستی و پشت پناہی کرنا ہے اور کمزوروں اور مظلوموں کو دبانا ہے میری بات کی تصدیق فلسطین پر امریکا کی پالیسی سے ہو سکتی ہے،اگر کشمیر پر امریکا کی پالیسی مبنی برحقیقت ہے تو امریکا بتائے کہ اس نے کشمیریوں کے علاج معالجے ،انکی خوراک کے حوالے سے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟ کیونکہ کشمیر میں ہفتوں کے کرفیو کے نفاذ سے وہاں خوراک کی قلت پیدا ہو چکی ہے اور بھارتی فوج کے ظالمانہ تشدد سے سینکڑوں زخمی کشمیریوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں امریکا کو اسکا نوٹس لینا چاہیے۔ مسلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کو بھروسہ حاصل کیے بغیر حل نہیں ہو سکتا یہ بات بھی امریکا کو بھارت کے کانوں تک پہنچا دینی چاہیے۔
میرا سوال امریکا کے رخصت ہونے والے صدر باراک حسین اوبامہ سے ہے کہ ظالم اور مظلوم سے یکساں یارانہ کیسے رکھا جا سکتا ہے؟ صدر امریکا کے لیے ایک نیک مشورہ ہے کہ اگر وہ تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے ہیں تو بھارتی سرکار کو نہ صرف کشمیری عوام کے خلاف برسوں سے روا رکھے جانے والے ظلم و تشدد اور بربریت کو روکنے کے لیے بھارت پر اپنی ’’چودہراہٹ‘‘ کا جادو جگانا چاہیے اور اسے اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوانے میں اپنا کردار ادا کرکے تاریخ میں اپنا اور امریکا کا نام امر کر دینا چاہیے۔
اس حوالے سے پاکستانی حکمرانوں کو بھی جرآت دکھانے کی ضرورت ہے ،اسے اقوام متحدہ سمیت ہر چودہری کو آنکھ دکھانی ہوگی، عالمی فورمز جہاں اسکی بات نہ سنی جائے وہاں سے نکل جانا ہوگا، کیونکہ ہم ان چودہریوں کے ’’کامے اور کمی کمین ‘‘ تو نہیں ہیں ہم ان سے برابری کیبنیاد پر تعلقات استوار کرنے کے خواہاں اور دعویدار ہیں۔امیر جماعتہ الدعوۃ پروفیسر حافظ سعید پہلے ہی مسلم امہ سے یہ درخواست کرچکے ہیں کہ وہ اقوام متھدہ کو خیرباد کہہ دیں اور اپنی اسلامی ممالک پر مشتمل یونائیٹڈ نیشن تشکیل دی جائے کیونکہ بقول حافظ سعید موجودہ اقوام متحدہ اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔امریکا کی پالیسی ویسی ہی تبدیل نہیں ہوئی جیسی ہماری حکومت کا دعوی ہے کہ اس نے کشمیر پر یوں ٹرن نہیں لیا جبکہ حقیقت سب پر واضع اور آشکار ہے ،سب جانتے ہیں کہ ہم نے گھی کے ڈبوں اور کنستروں پر تحریر’’ کشمیر پر سمجھوتہ کبھی نہیں‘‘ حذف کروادیا ہے پھر بھی کہا جاتا ہے کہ کشمیر پر یوں ٹرن نہیں لیا گیا۔
ان سطور کے کے لکھنے کے دوران خبر آئی کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے کشمیر کے مسلہ کے حل کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالث بننے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے ’’ بان کی مون‘‘ نے وزیر اعظم نواز شریف کے نام جوابی خط میں پاکستان کی مسلہ کشمیر کے ھل کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا ہے اور بھارت اور پاکستان دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ حل طلب ایشوز کو مذکرات سے حل کریں، محترم و مکرم بان کی مون نے کشمیر میں بھارتی فورسز کے بڑھتے ہوئے تشدد پر اظہار افسوس اور تشویش کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ اسے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ بھلا بان کی مون سے پوچھا جائے کہ جناب عالی! کشمیر میں جاری کشمیریوں کی خون ریزی روکنے کے لیے اقدامات کرنے سے آپ کو کس نے منع کر رکھا ہے؟ نیکی کے کاموں میں تاخیر ہونے سے نیکی ضائع ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔اسلامی کانفرنس نے بھی مسلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کے موقف کی حمایت وتائید کی ہے اور کہا ہے کہ اس مسلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادون کے مطابق نکلنا چاہیے۔ اسلامی کانفرنس کے سکریٹری ایاد امین مدنی نے زور دیکر کہا ہے کہ عالمی برادری اس مسلہ پر آوازاٹھائے۔
ایک تجویز بان کی مون کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ اگربھارت سرکار کشمیریوں کو حق خودارادیت دیدے تو بے شک اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل طشتری میں رکھ کر پیش کردی جائے تو میرا نہیں خیال کہ اس تجویز سے کسی کو اعتراض ہوگا اس طرح دنیا میں امن قائم ہونے کی توقع پیدا ہوسکتی ہے، یہ خالصتا میری اپنی تجویز ہے اس کے پس پردہ نہ کوئیؓ یرونی ہاتھ ہے اور نہ کوئی اندرونی حلقے ہیں۔a

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *