سیاسی جماعتیں کیا کر رہی ہیں ؟

arshad sulehri.

پاکستان کا مسلہ قیادت کا بحران ہے جبکہ سنگین ترین مسلہ نئی قیادت کے ابھرنے کے خلاف مصنوعی اور جعلی قیادت کی آبیاری ہے۔ کرپٹ نظام کے خلاف عوامی غم و غصے کو بنیاد بنا کر عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ لگا یا تو عوام کا سیلاب تبدیلی کے نعرے پر سونامی بن گیا، تبدیلی کے نعرے کا کرشمہ تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں چالیس سال بعد نوجوانوں نے سیاست کی جانب رخ کیا ، عمران خان کی بطور قومی ہیرو پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقبولیت ،پذیرائی ، اعلیٰ تعلیم ، خوش پوش اور لبرل ازم کو دیکھ کر نوجوان نسل موصوف میں قائداعظم کا عکس تلاش کر رہے تھے ۔ نوجوانوں نے تو قائد کا اقبال ایک بزرگ صحافی ہارون رشید کو بھی تخلیق کر لیا تھا ۔ موصوف نوجوانوں کے تنظیمی پروگراموں میں لیکچر دیا کرتے تھے ۔ٹی وی اینکر مبشر لقمان اپنے تہی شاید زیڈ اے سلہری کا رول ادا کر رہے تھے ۔پاکستان تحریک انصاف کا ابھار تمام سیاسی جماعتوں کیلئے خطرہ بن رہا تھا ۔ آئی آئی ،پی ٹی آئی کے نعرے نے عوام میں ہلچل مچا دی ۔ بچے ، بوڑھے ، خواتین ، کسان ، مزدور پی ٹی آئی کی جانب کھچے چلے آ رہے تھے ۔ملک میں نئی قیادت کے ابھرنے کی امید پیدا ہوئی تھی ۔تاریخی لمحات تھے۔ جب نوجوانوں کاتبدیلی کے ساتھ رومانس بلندیوں کو چھو رہا تھا ۔یہی لمحات تھے۔ جب عمران خان کی اصلیت بے نقاب ہوتی ہے ۔ ۔ عمران خان نے کامیابی اور شوق اقتدار میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سے لیڈر برآمد کیے ۔ نوجوانوں کو بری طرح نظرانداز کر دیا گیا۔نئی قیادت ابھارنے کے بجائے پرانے لوگوں کو پارٹی کے کلیدی عہدوں پر بٹھا کر یہ فریب دیا گیا کہ جب مرکزی لیڈر ٹھیک ہوگا تو کوئی غلط کام نہیں کر سکے گا ۔یہی غلط فہمی ذولفقار علی بھٹو کو تھی ۔پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی اور جب بھٹو صاحب نے اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانا چاہا تو سب دشمنی پر اتر آئے ۔ انقلاب کے نقیب بھٹو کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا ۔بھٹو صاحب نے نئی قیادت ضرور تراشی مگر قیادت کی تربیت نہ کر سکے اور اپنی ذات میں ہی انجمن بنے رہے یعنی ون مین شو ۔ یہی کچھ عمران خان کر رہے ہیں۔عمران خان بھی اپنی ذات میں ہی قیادت دیکھ رہے ہیں ۔وطن عزیز میں سیاسی جماعتوں کا یہ المیہ ہے کہ شخصیات جماعتوں پر بھاری ہیں۔ جماعتی قواعد و ضوابط کو پاؤں تلے روند دیا جاتا ہے۔جماعت کے ممبران اور کارکنان کی کوئی قدر و قیمت نہیں کی جاتی ہے۔ دولت اور اثرو رسوخ معیار بن چکاہے۔ جماعتی عہدے سماجی حیثیت دیکھ کر تقسیم کیے جاتے ہیں۔ حال ہی میں نیشنل پارٹی بلوچستان سے نکل کر پنجاب میں داخل ہوئی ہے ۔ شور سنا کہ نیشنل پارٹی میں دیگر جماعتوں سے منفرد کلچر ہے ۔ دریا میں اترے تو حقیقت مختلف دیکھی ۔ پارٹی صدر جو وفاقی وزیر ہیں ۔ ملکی دستور کے مطابق ان تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ فون وہ سنتے نہیں ہیں ۔ پنجاب کے عہدیدار وں کی اپنی خواہشات ہیں۔ ممبران اور مقامی تنظیمیں خود رو ہیں ۔ سیاست میں نووارد پاکستان عوامی تحریک میں بھی طاہرالقادری ہی سب کچھ ہیں بلکہ ان کی حیثیت آقا کی ہے۔ عہد کی سیاست میں پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول کے پاس مواقع ہیں۔ بلاول کے پاس وقت ہے، توانائی ہے۔ جذبے جوان ہیں۔ بلاول بیانات کی بجائے وہ پارٹی کو منظم کریں اور تنظیم سازی کے ذریعے نئی قیادت سامنے لیکر آئیں۔ بلاول سیاسی صورتحال کا بغور جائزہ لیں کہ آج کے پاکستان میں سیاسی قوتیں انتشار کا شکار ہیں ۔ کوئی ایک سیاسی جماعت بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتی ہے ملک بھر میں پذیرائی رکھتی ہے ۔ ایسے حالات میں پیپلز پارٹی ہی واحد جماعت ہے کہ جیسے بحال کیا جا سکتا ہے ۔ ایسا تب ہی ممکن ہے کہ بلاول بہتر حکمت عملی اپنائے اور کارکنوں کا اعتماد حاصل کرے ۔ پارٹی نوجوان طبقے کو زیادہ نمائندگی دی جائے ۔عوام سے رابطہ بڑھایا جائے۔ حاصل بحث یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ آج یہ ہم نے دیکھا کہ پاکستان کی چوتھی بڑی جماعت متحدہ قومی مومنٹ کس صوتحال سے دوچار ہے۔ اگر قائد متحدہ اپنا قبلہ درست رکھتے اور دیگر قوقوں کی جانب دیکھنے کی بجائے عوام کی طاقت کی طرف دیکھتے تو آج انہیں پاکستان کے خلاف بولنے کی ضرورت نہ پڑتی اور نہ ہی متحدہ کے کارکن مشکلات کا شکار ہوتے بلکہ متحدہ پر ایسا وقت بھی آیا کہ جب متحدہ اپنا وزیراعظم لانے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی اور پاکستان کے کونے کونے میں متحدہ کے دفاتر بن چکے تھے۔ مندرجہ بالا سطور میں جن سیاسی جماعتوں کی بات کی ہے ۔ انہیں اپنی سیاسی فلاسفی ، حکمت عملیاں سمیت تمام امور کا نئے سرے سے جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے ۔ تعلیمی ادارے تعلیم دیتے ہیں جبکہ سیاسی جماعتیں تربیت کا فریضہ انجام دیتی ہیں ۔ جماعت اسلامی کی مثال ہمارے سامنے ہے جو تعلیم و تربیت دونوں پہلوں پر کام کر رہی ہے ۔ باقی جماعتوں کو بھی اپنا سیاسی و سماجی فریضہ ادا کر نا چاہیے محض الیکشن لڑنا اور اقتدار کا حصول مقصد نہیں ہونا چاہیے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *