بچوں میں جھوٹ بولنے کی عادت کیسے پیدا ہوتی ہے۔۔۔۔۔ تازہ رپورٹ

28

بعض والدین پرتشدد قسم کے ہوتے ہیں جو ڈنڈے کے زور سے اولاد کو سدھارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں پر چیخنا چلانا اور تشدد کرنا ان کی تربیت کے حوالے سے انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق سائیکوتھراپسٹ فلپاپیری کا کہنا ہے کہ ”جو والدین سخت گیر ہوتے ہیں ان کے بچے جھوٹ بولنا سیکھ جاتے ہیں اور بڑے ہو کر انتہائی ماہر اور موثر جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔“ فلپا کا مزید کہنا تھا کہ ”جن والدین کے بچے جھوٹ بولتے ہیں اور دھوکہ دیتے ہیں انہیں بچوں کو نہیں بلکہ خود کو اس کا الزام دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان بچوں کو شروع سے وہ ماحول ہی مہیا نہیں کرتے جن میں بچے سچ بولنے کی جرا¿ت کر سکیں۔ ان کے تشدد کے خوف سے بچے شروع سے ہی جھوٹ بولنا سیکھ جاتے ہیں اور عمر کے ساتھ ساتھ اس میں مہارت حاصل کرتے جاتے ہیں۔“ رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے کینیڈا کی ماہر نفسیات وکٹوریہ ٹیلور نے ایک تحقیق بھی کر رکھی ہے۔ وکٹوریہ نے اس تحقیق کے لیے مغربی افریقہ کے دوسکولوں کا انتخاب کیا جن میں سے ایک میں بچوں کے لیے نرم قوانین لاگو تھے جبکہ دوسرے میں بچوں کو سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔وکٹوریہ نے ان سکولوں کے بچوں کو آنکھیں بند کرنے کو کہا اور پھر ایک کھلونا فٹ بال کو زمین پر پھینکا اس فٹ بال سے ایسی آواز نکلتی تھی جو بالکل مختلف تھی اور پتا نہیں چلتا تھا کہ یہ فٹ بال کی آواز ہے۔ بعد میں اس نے بچوں کو آنکھیں کھولنے کو کہا اور پوچھا کہ یہ آواز کس چیز کی تھی اور آیا انہوں نے کن اکھیوں سے آواز نکالنے والی چیز کو دیکھا تو نہیں؟ رپورٹ میں وکٹوریہ نے بتایا ہے جس سکول میں نرم قوانین لاگو تھے اس کے بچوں میں سے بہت کم نے جھوٹ بولا جبکہ دوسرے سکول کے بچوں کی اکثریت نے کن اکھیوں سے فٹ بال کو دیکھ کر درست جواب دیا اور جھوٹ بولا کہ انہوں نے چیٹنگ نہیں کی تھی:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *