پاکستان کے ذہنی مر یض

asghar khan askari

پاکستان نے بھی عجیب تقدیر پا ئی ہے۔جس کو بھی حکومت ملی ہے، وہ ذہنی مر یض ہے۔مو جودہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کو لے لیں۔ حکمران وہ پا کستان کے ہیں،لیکن پورا خاندان کاروبار با ہر کر رہا ہے۔مطلب یہ کہ ان کو اپنے ملک پر بھروسہ نہیں ہے۔کسی بھی وقت ان کو حکومت سے نکا لا جا سکتا ہے، اس لئے تمام افراد خانہ کو ملک سے با ہر بسا یا ہے۔اگر ان کو اپنی حکمرانی پر اعتبار ہو تا تو کبھی بھی اپنے بچوں کو ملک سے با ہر کاروبار کر نے نہیں دیتے۔اپنی پا لیسوں پر عدم اعتماد کی بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے، کہ ملک کے وزیر اعظم کے خاندان کے تمام افراد با ہر کے ملکوں میں کا روبار کر رہے ہو ں۔صرف ایک شادی شدہ بیٹی کووزیر اعظم ہا ؤس میں اپنے ساتھ رکھا ہو ا ہے، وہ بھی اس لئے کہ حا لات خراب ہو نے پر ان کو عورت ہو نے کا فا ئد ہ ہو گا۔اس شخص سے بڑا ذہنی مر یض اور کو ئی ہو سکتا ہے کہ جو پوری دنیا سے اپنے ملک میں کا روبارکر نے کے لئے بھیک ما نگ رہا ہو، لیکن خود اس ملک میں کا روبار کر نے کے لئے تیار نہیں ہو۔عجب تقدیر ہے اس ملک کی کہ اس پر حکمرانی کر نے کا مو قع اس کو ملتا ہے جو ذہنی مر یض ہو۔گزشتہ دور کے حکمران آصف علی زردای کو سامنے رکھیں اور فیصلہ کر یں کہ اس سے بڑا اور کوئی ذہنی مر یض ہے۔ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں کھڑے ہو کرایک آئینی ادرے کو اینٹ سے اینٹ بجا نے کی دھمکی دی۔ابھی اس دھمکی کی صدائیں ان کی رہا یش گاہ سے با ہر بھی نہیں نکلی تھی کہ ہو ائی جہاز کا ٹکٹ کٹھا کر با ہر ملک چلے گئے۔ان کو اس ملک میں رہنے کی ضرورت ہی نہیں تھی اس لئے کہ ان کے بچے پا کستان سے با ہر مقیم ہے۔ ان کا کاروبار اس ملک سے باہر ہے۔ اس لئے جب چا ہتے ہیں،کسی کو بھی دھمکی دے کر ملک سے با ہر بھاگ جا تے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ یہ تمام ذہنی مر یض ہیں۔اس لئے ان کا کچھ معلوم نہیں ہو تا ہے ،کہ دن کو کس وقت یہ کس کیفیت میں ہو تے ہیں اور رات میں یہ کس وقت کس کیفیت کو اپنے اوپر طا ری کر تے ہیں۔رات دن سکون ان کو نہیں آتا،جبکہ گا لیا ں پا کستان کو دیتے ہیں۔ان کو پا کستان کا شکر گزار ہو نا چا ہئے تھااگر کسی اور ملک میں ہو تے تو سنیما کے ٹکٹ فروخت کر نے کی نو کری بھی ملنی مشکل تھی۔ ایک ہوا کر تے تھے پر ویز مشرف ایک عشرے تک ہر محفل میں قوم کو مکا لہرلہر کر اپنی بہادری کی دستا نیں سنا یا کر تے تھے۔امر یکی صدر نے ایک ٹیلی فون کی ،محض ایک دھمکی ہر ڈھیر ہو گئے۔ پھر کیا تھا ڈالر وں کے عوض انسانوں کو فروخت کر نے کا دھندا شروع کیا۔ بے شرم اتنے کہ کتاب لکھ ڈالی اور اس میں اس مکروہ دھندے کا ذکر انتہا ئی ڈھٹا ئی کے ساتھ کیا۔ بزدل اتنے کہ جب ایک اور ذہنی مر یض نے ان پر غداری کا مقدمہ درج کیا،تو جب بھی عدالت نے بلا یا یہ عدالت کی بجا ئے ہسپتال میں پناہ گزیں ہو جا تے تھے۔جب معمولی مو قع مل گیا تو ملک سے بھا گ گئے۔ اب پھر وہاں سے بڑکیں ما ررہے ہیں کہ پا کستان کے لئے میرا وجود نا گزیر ہے۔ محترم دوبارہ آنے کی زحمت نہ کر نا ورنہ اس مر تبہ تو تمھارے لئے ایک سو ل جج ہی کا فی ہے۔ پہلے سے خبر دار کر رہے ہیں ،پھر نہ کہنا کہ ہمیں خبر نہ تھی۔حسین حقانی نام کا ایک دانشور بھی ہے۔ ایک ذہنی مر یض حکمران نے ان کو امریکہ میں پاکستان کا سفیر نا مزد کیا تھا۔حسین حقانی اس ذہنی مر یض حکمران سے بھی بڑا پا گل اور مجنوں تھا۔ تنخوا پا کستان سے لیتا تھا، جبکہ سفارتکاری امریکہ اور ہندوستان کے لئے کرتا تھا۔ ایک دن سپریم کورٹ نے بلا یا۔مقدمہ چلا چند دن بعد عدالت سے درخواست کی کہ ملک سے با ہر جا نے کی اجازت دی جا ئے وہ بھی مشروط طور پریعنی جب عدالت بلا ئے گی واپس آجا ؤ ں گا۔ عدالت نے اجازت دی ،سفیر محترم چلے گئے آج کا دن ہے اور وہ دن واپس آنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔ حالانکہ پا کستان میں ان کے فکری دوستوں کی کمی نہیں ہے۔عدالت یا د کر رہے ہیں اور وہی فکری دوست بھی لیکن واپسی سے انکاری ہے۔اس سے بڑا جنونی اور کون ہو سکتا ہے ،کہ تنخوا ایک ملک سے لیں اور سفارتکاری دوسرے ملکوں کے لئے کر یں۔ایم کیو ایم کے قا ئد الطاف حسین گز شتہ کئی عشروں سے لند ن میں مقیم ہیں۔وہاں پارٹی ایک شا ہا نہ دفتر بھی بنا یا ہوا ہے۔ گھر کا خرچہ ان کا الگ ہے۔کہتا ہے کہ میں پا کستانی ہوں۔لیکن جب ہندوستان کا دورہ کر تے ہیں تو وہاں تقریر کر تے ہیں کہ پا کستان کا قیام غلط ہے۔ جب غلط ہے تو پھر واپس کر دیں اس ملک کی شہریت۔ آپ کے پا س تو بر طا نیہ کا پا سپورٹ ہے،پھر اس غلط ملک کے پاسپورٹ کے لئے منت سماجنت کیوں کر تے ہو؟ اگر بر طا نیہ سے بھی نفرت ہے تو پھر جس ہندوستان کو تم درست سمجھتے ہو وہاں کی شہریت اختیار کر و۔ چھوڑ دو بر طا نیہ کو،بس جا ؤ ہندوستان میں۔ لیکن یہ ذہنی مر یض بد معاش بھی ہے۔ملک کے سب سے بڑے شہرکر اچی کے عوام کو یرغمال بنا یا ہو ا ہے۔بھتہ خور ہے۔جو کو ئی نہیں دیتا ان کو قتل کر تا ہے۔ اب جبکہ قانون کے شکنجے میں آنے والے ہیں تو مر دہ باد کا نعرہ بلند کیا۔کیوں ؟ اس لئے کہ آقا ؤں نے جو کام لینا تھا لے لیا۔اب ان کاکوئی بھی نما ئندہ وفاقی اور صوبائی کا بینہ میں نہیں ہیں۔بر طا نیہ اور ہندوستان کے لئے اب وہ جا سوسی نہیں کر سکتا اس لئے اکیلا تھا۔اپنے آقاؤں کو خوش کر نے کے لئے مردہ باد کا نعرہ بلند کیا۔پاکستان کو دہشت گردی کا گڑھ قرار دے دیا۔اس ملک کو نا سور کہا۔ لیکن یہ ذہنی مر یض پر لے درجے کا بے ایمان ہے۔ان کو چا ہئے تھا کہ مر دہ باد کا نعرہ لگا نے سے پہلے ان ملک کی شہریت واپس کرتے۔ پاکستان کو دہشت گر دی کا گڑھ قرار دینے سے پہلے اس ملک کے پا سپورٹ کو سرینڈر کر تے، بلکہ بہتر تھا کہ اس نا سور کو اپنے جسم سے الگ کر تے۔لیکن ایسا وہ نہیں کر ینگے اس لئے کہ کر اچی میں بھتہ خوری ہی سے ان کے لندن کا گھر اور پارٹی کا دفتر چل رہا ہے۔آج ہندوستان اور بر طا نیہ کے لئے الطاف حسین سونے کی چڑیا اس لئے ہے کہ وہ پاکستان کا با شندہ ہے۔آج وہ پاکستان سے تعلق ختم کر دیں کل بر طا نیہ ان کے خلاف منی لا نڈرنگ اور عمران فاروق قتل کا مقدمہ منطقی انجام تک پہنچا دیں گے۔ہندوستان ان کو تمام مالی امداد دینا بند کر دیں گے۔لیکن نہیں کر یں الطاف حسین پاکستان سے تعلق ختم کر نے کا اعلان اس لئے کہ یہ ٹاگٹ کلر اور بھتہ خوراچھی طر ح سے جا نتا ہے،کہ ہندوستان اور بر طا نیہ کی انکھوں کا تارا میں صرف پا کستان ہی کی وجہ سے ہوں۔اس سے بڑا ذہنی مر یض ،پاگل اور دیوانہ اورکون ہو سکتا ہے کہ جس شاخ پہ آشیانہ ہے اسی کو کا ٹ رہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *