ایم کیو ایم کاخاتمہ

Haq Nawaz Jillani

دنیا بھر میں شاید پاکستان ہی ایسا ملک ہوگا جس میں ہرکام ممکن ہے جس کی قانون و آئین میں اجازت ہو اور نہ ہی اسلام اور انسانی معاشرے میں لیکن پاکستان میں دہشت گردی سے لیکر کافر ، یہودی ، بھارتی اور ملک دشمن کے سرٹیفکٹ بانٹنے والے اور حقیقی معنوں میں پاکستان کے خلاف غداری کے مرتکب ہمارے مذہنی اور سیاسی رہنماؤں کے علاوہ اسمبلیوں کے ممبرن تک بیٹھے ہیں ۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کئی سالوں سے ملک سے نہ صرف باہر بر طانیہ میں مقیم ہے بلکہ وہاں کی شہریت بھی رکھتے ہیں جبکہ پاکستان میں ایک بڑی سیاسی جماعت کی نہ صرف سربراہی سنبھالی ہوئی ہے بلکہ ان کے حکم پر ہزاروں کی تعداد میں ٹارگٹ کلنگ سمیت قتل وغارت اور دہشت گرد کاررائی ہوتی رہی ہے جس میں بعض اوقات ایم کیو ایم اپنے ہی لوگوں کو بھی ٹارگٹ کانشانہ بناتی ہے ۔کراچی جو بیس ، پچاس سال پہلے روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا آج قتل وغارت ، بھتہ خوری اور دہشت گردوں کا آماجگاہ بنا ہوا ہے جس کوپرامن بنانے کیلئے سکیورٹی اداروں خصوصاً رینجرز اور پولیس مسلسل آپریشنز میں مصروف عمل ہے جس میں اب تک تقر یباًاٹھ ہزار افراد جو ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری اور دہشت گردی میں ملوث تھے ان کو گرفتارکیا جس میں تقر یباً ساڑھے چھ ہزار افراد براہ راست ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ ان میں یقینی طور پربہت سے بے گناہ افراد بھی ہوں گے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایم کیوایم نے کراچی کو وزیرستان بنایا لیکن ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں تھا ۔ جب بھی ان کے خلاف کارروائی شروع ہوتی وہ منتقی انجام کو نہیں پہنچ پاتی جبکہ ایم اکیو ایم اب تک تقریباً تمام حکومتوں کا حصہ بھی رہی ہے اور جب ان کے ٹارگٹ کلر گرفتار ہوتے ہیں تو ایم کیو ایم ممبران شور مچانا شروع کرتے ہیں کہ مہاجروں کو دیوار سے لگایا جارہاہے ان کو سزا دی جارہی ہے ، جس کی وجہ سے مختلف مصلحتوں کے تحت ان کے خلاف ایسی کارروائی نہیں ہوئی جس طرح اب ہورہی ہے۔ اب یہ راز کی بات نہیں رہی کہ ایم کیو ایم قائد الظاف حسین کے بھارت خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ سے تعلقات ہیں جن کے سپورٹ سے ایم کیو ایم نے کراچی میں حالات کو خراب کیا ۔ ایم کیو ایم کی دہشت گردی کے بارے میں ، میں نے اپنی کتاب ’’کیا پاکستان ٹوٹ جائے گا؟‘‘ میں 2012میں ذکر کیا کہ ان کے رابطے کس طرح ٹارگٹ کلر سے ہیں اور ان کی زیادہ تر کارروائیاں افریقہ ممالک سے بھی کنٹرول کی جاتی رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے ایک دہشت گرد اور مافیہ کاروپ دھار لیا ہے جس کاطریقہ کار انڈرورلڈ آرگنائزیشن کی طرح ڈان ،سربراہ الطاف حسین لندن سے چلاتا ہے لیکن بدقسمتی سے کراچی کو تباہ کرنے اور ہزاروں افراد کو نشانہ بنانے کے باوجود ایم کیوایم کی عسکری ونگ اور ایکٹویٹی کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی تھی۔ جب سے الطاف حسین لندن گیا ہے اس وقت سے لے کر آج تک ایم کیو ایم کو ایک شدت پسند اور انڈر ورلڈ تنظیم کے طور پر چلایا گیااور مجبوری کے تحت کراچی میں مقیم مہاجر وں کو نعرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اب جب مسلسل پاکستان کے خلاف تقریر یں کرنے اور کراچی میں شدت پسندی کو ہوا دینے پر ایم کیوایم کے خلاف کارروائی ہونا شروع ہوئی جس میں گزشتہ روز پاکستان کو دنیا میں دہشت گردی کامرکز اور ایک ناسور کہنے کے علاوہ ،پاکستان مردہ باد کے نعرے اورورکرز کو میڈیا ہاؤس پر حملہ کرنے کے احکامات جاری کرنے تک کے عمل پر ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا جس پر ایم کیو ایم کے کراچی قیادت ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کانفرس کی کہ ایم کیو ایم آئندہ لندن سے احکامات نہیں لے گی اور تمام فیصلے کراچی قیادت ہی کریں گی ، یہ دراصل معاملے کو ٹھنڈا کرنے کیلئے ایک بیان جو سوالوں سے بھر ہوا اور کنفیوژن پر مشتمل ہے ،ایک ناکام کوشش کی گئی جب تک ایم کیو ایم حقیقی معنوں میں الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان نہیں کرتی اور ان کو بلیک آوٹ نہیں کرتی اس وقت یہ کنفیوژن قائم رہے گا اور اس سے بڑھ کر جو دہشت گرد اور ٹارگٹ کلر ایم کیو ایم میں موجود ہے اس کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی ، ان لوگوں کی پشت پناہی بند نہیں ہوتی ،ایم کیوایم کے مسائل اور ان کو ایک محب وطن سیاسی جماعت کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا جو بھارت کے حق میں اور پاکستان کے خلاف کارروائی کرتی ہوجس کے لنگ بھارتی خفیہ ایجنسی را سے ہو۔ ایم کیوایم کے موجودہ کارروائیوں کے بارے میں کہا جارہاہے کہ اس کا مقصد بھی کشمیر سے تو جہ ہٹانے اوربھارت کو خوش کرنے کیلئے کی گئی ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ کوئی سازش یا آپریشن کسی پارٹی کو ختم نہیں کر سکتی ۔پارٹی تب ختم ہوتی ہے جب پارٹی قائدین غلط فیصلے کرنا شروع کرے جس طرح ایم کیوایم قائد مسلسل غلطیاں کررہا ہے ۔اب پاکستان کے خلاف نعروں سمیت کارکنوں کو ورغلانے نے ایم کیو ایم کو بند گلی میں دھکیل دیا جس سے نکلنا اب اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے۔ ایم کیو ایم کی حالت بقول پاک سر زمین پارٹی ہیڈ مصطفی کمال کے کہ ایم کیو ایم گرتی ہوئی دیوار ہے جو اس دیوار کو گرنے سے روکے گا وہ خو د اس دیوار کے نیچے آئے گا ۔ بحرکیف حالات وواقعات بتا رہے ہیں کہ ایم کیو ایم کے خاتمے کا وقت قریب آچکا ہے ان کی مزید دہشت گر دی ، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ نہیں چلے گی ، جو جرائم انہوں نے کی ہے ان سب کا حساب ایم کیو ایم کے قائدین کو دینا ہوگا۔ معاملات اب ماضی کی طرح نہیں چلائے جاسکتے ہیں۔ بطور پارٹی ایم کیو ایم کا مستقبل کا درومدار اس میں ہے کہ وہ الطاف حسین کو الوداع کہہ دیں ورنہ اس کا خاتمہ کوئی نہیں روک سکتا۔ ایم کیو ایم کے ان دہشت گرد کارروائیوں اور ملک دشمن کاموں کے باوجود کراچی کے لوگ ایم کیوایم کو ووٹ کیوں دیتی آرہی ہے اس پر زندگی رہی تو آئندہ بات کروں گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *