من پسند انصاف سے گریز کیجئے‎

imad zafar

کراچی شہر کی سیاست کا ایک مسئلہ ہے جو پاکستان کے دیگر علاقوں میں بسنے والے اکثر تجزیہ نگاروں اور اینکرز  حضرات کی فہم سے بالاتر ہے.وطن عزیز کے دیگر علاقوں کے برعکس  کراچی شہر میں سیاست لسانی بنیادوں پر ہوتی ہے اور اردو بولنے والا پڑھا لکھا ووٹر متحدہ قومی مومنٹ کو آج کی تاریخ تک اپنی نمائندہ سیاسی جماعت تصور کرتا ہے. گزشتہ چند دنوں کی سیاسی صورتحال نے یقینا تمام پاکستانیوں کے جزبات مجروح کیے جب متحدہ کے قائد نے وطن عزیز کے خلاف نعرے بلند کیے اور ریاست اور ریاستی اداروں دوارے انتہای لغو اور گرے ہوئے الفاظ استعمال کئیے .اس کے بعد ریاست پاکستان نے جس طرح سے متحدہ قومی مومنٹ پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے اس کے کارکنوں کو گرفتار کر کے دفاتر کو مسمار کرنا شروع کیا وہ ایک فطری عمل تھا. کوئی بھی شخص یا جماعت پاکستان مردہ باد کے نعرے مارنے کے بعد ریاستی اداروں سے کسی بھی کسم کی رعایت کی مستحق نہیں ہو سکتی. خیر اس سارے عمل کے بعد اب کراچی اور متحدہ کی سیاست کے بارے میں کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیںِ. الطاف حسین نے جو زہر پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف اگلا اس کے نتیجے میں جو خطرات درپیش تھے یقینا الطاف حسین اور ان کی لندن کابینہ ان سے خوب اچھی طرح واقف تھی. الطاف حسین نے اہنے بیانات اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے نتیجے میں انتہائ کامیابی سے کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کی جدوجہد کو دنیا کی توجہ سے ہٹا کر بھارت کی مدد کی. اس واقعے کے بعد ایک چیز تو طے ہو گئی ہے کہ اب الطاف حسین کی پاکستان میں سیاسی زندگی ختم ہو چکی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ الطاف حسین نے اتنا بڑا اقدام جو کہ ان کی جماعت اور ان کی اپنی سیاسی موت تھا اس کو کس قیمت پر اٹھایاِ. یہ نہیں ہو سکتا کہ الطاف حسین اور لندن کابینہ اس اقدام کے سنگین نتائج سے واقف نہ تھےِ. اس اقدام کی قیمت انہیں برطامیہ میں کیسز سے رہائیکی صورت میں ملتی ہے یا دیگر مالی فوائد کی صورت میں یہ دیکھنا ابھی باقی ہے. جو ایک مثبت اقدام اس کے بعد فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں نے اٹھایا وہ قابل تعریف ہے. فاروق ستار نے جس طرح سے الطاف حسین کو ہٹا کر اپنے آپ کو متحدہ کا ڈی فیکٹو چئرمین بنا دیا وہ ایک احسن سیاسی فیصلہ تھا. اکثر تجزیہ نگار اور حوالدار اینکرز فاروق ستار کے اس فیصلے کو بھی ایک ڈھونگ اور الطاف کی سیاسی چال قرار دے رہے ہیں. اب کیا کیجئے کہ سیاست کی ڈاینامکس ٹی وی پروگراموں یا تجزیوں کی مانند نہیں ہوتیں. فاروق ستار سے وفادار کارکن متحدہ کے پاس شاید ہی کوئ اور ہوِ ِاگر فاروق ستار نے الطاف حسین کے خلاف ایک نرم بغاوت کی تو اسے کراچی شہر کی سیاست کے تناظر میں بھی دیکھنا چائیے. آپ اور میں اس واقعے کے بعد الطاف حسین کو جتنا مرضی ناپسند کر لیں لیکن کراچی میں بسنے والے مہاجر بھائیوں کی اکثریت ابھی بھی الطاف حسین کے ساتھ ہے. اس اکثریت کی سوچ کو بدلنے کیلئے فاروق ستار کو وقت درکار ہے اور آہستہ آہستہ وہ ایسا کر دکھانے کی پوزیشن میں آتے جا رہے ہیں.  لیکن اس کے لئے فاروو ستار کو وقت درکار ہے جو انہیں ملنا چایے.دوسری جانب جس انداز سے متحدہ کے دفاتر مسمار کئیے جا رہے ہیں وہ ہرگز بھی پاکستانی سیاست کے مستقبل اور خود پاکستان کیلئے بھی اچھے نہیں ہیںِ دفاتر کو سیل کیا جانا ایک مناسب قدم تھا اور اگر دفاتر مسمار ہی کرنے تھے تو کم سے کم متحدہ کے پاکستانی رہنماوں کو ضرور قانونی نوٹس بھیجے جانے چاہئیے تھے. یاد رہے وطن عزئز میں لاتعداد شدت پسند جماعتوں کے دفاتر آج بھی موجود ہیں جنہیں کالعدم قرار دیا جا چکا ہے .متحدہ کے دفاتر کا یوں مسمار کیا جانا کم سے کم کراچی اور حیدر آباد میں مہاجر طبقے کو پھر سے احساس محرومی کا شکار کر دے گا. الطاف حسین نے جو الفاظ وطن عزیز دوارے کہے وہ یقینا قابل مزمت بھی ہیں اور ناقابل برداشت بھی لیکن سوال یہ ہی کہ الطاف حسین کو. سیاست میں جنم کس. نے دیا اور کونسی سیاسی اور پس پشت قوتیں الطاف حسین کی سرہرستی کر رہیں. جہاں تک میڈیا کے دفاتر پر حملے کاتعلق ہے تو یہ ہر لحاظ سے قابل مزمت ہے لیکن دو برس قبل سرکاری ٹی وی پر بھی حملہ کیا گیا تھا وطن عزیز کی پارلیمان پر بلڈوزر لے کر چڑھائی کی گئیتھی . لیکن ایسا مکروہ عمل کرنے والے رہنماوں اور کارکنوں کے خلاف کوئی خاص اقدام نہیں کیا گیا. اب یہ نہیں ہو سکتا کہ انصاف کے تقاضے تحریک انصاف کیلیے کچھ اور ہوں اور متحدہ کیلیے کچھ اور. ہماری سیاسی تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ ہم ایک شخص یا ایک جماعت کو اپنے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں اور پھر جب وہ شخص یا جماعت درد سر بن جاتا ہے تو اسے پوری ریاستی طاقت کے ساتھ کچلنے نکل پڑتے ہیں .لیکن اس دوران جو نظریات اور آذہان اس سارے عمل میں تیار ہوتے ہیں انہیں نہ تو زور زبردستی کچلا جا سکتا ہے اور نہ ہی دبایا جا سکتا ہےِ مشرقی پاکستان میں بھی زور زبردستی کا نتیجہ سب کے سامنے ہے اور بلوچستان میں لگی آگ بھی سب کے سامنے ہےِ.  الطاف حسین نے تو 1979 میں پاکستان کا پرچم بھی نزر آتش کیا تھا لیکن اس کے باوجود انہیں ایسٹیبلیشمنٹ نے سر آنکھوں پر بٹھا کر رکھا. خیر اب وقت کا تقاضہ ہے کہ اس وقت متحدہ کےوہ عناصر جو پاکستان میں ہیں اور جرائم سے پاک ہیں انہیں فاروق ستار کی سربراہی میں سیاست کرنے کا بھرپور موقع دیا جائے.دوسری جانب الطاف حسین کو برطانیہ سے پاکستان حوالگی کا مطالبہ کیا جائےِ تا کہ الطاف حسین کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے لیکن اس سارے عمل میں بھی ایک پیچیدگی ہے جب جب الطاف حسین پر غداری کا مقدمہ قائم ہونے کی بات ہوتی ہے تو مشرف یاد آتا ہے جس نے اس ملک کے آئین کا بار بار بلاتکار کیا اور اکبر بگٹی سے لیکر لاتعداد افراد مرواے اور لاپتہ کرواے.میرا نہیں خیال کہ جب تک مشرف برطانیہ اور امریکہ کی فضاوں میں سگار پیتا اس وطن کے آئین کا مزاق اڑاتا رہے گا تب تک کسی بھی اور شخص کو غداری کے مقدمے میں سزا ہو سکتی ہے. انصاف کبھی بھی من پسند نہیں ہوا کرتا اور نہ ہی اس کے معیار دہرے ہو سکتے ہیںِ. دوسری جانب متحدہ کے ووٹرز کو ملکی سیاسی دھارے میں شامل رکھنے کیلئے ازحد ضروری ہے کہ انصاف اور قانون کا اطلاق عمران خان طاہر القادری نواز شریف اور آصف زرداری پر بھی اسی طرح ہو جیسے متحدہ قومی مومنٹ کے رہنماوں کے ساتھ ہو رہا ہے . بصورت دیگر کم سے کم بیلٹ بکس کے زریعے کراچی میں بسنے والے مہاجر کمیونٹی کے بھای متحدہ کو بار بار اکثریت دلواتے رہیں گے اور بیلٹ کو بلٹ یعنی گولی یا زبردستی سے کچلنے کا نتیجہ ہم 1971 میں مشرقی پاکستان میں دیکھ بھی چکے ہیں اور بھگت بھی چکے ہیں.امید غالب ہے کہ اس دفعہ ارباب اختیار پرانی غلطی نہیں دہرائیں گے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *