فارن کرنسی اکا ؤنٹس کا درکھلا ہےکھلا ہی رہےگا

khalid mehmood rasool

بھلے وقتوں کی بات ہے جب فلم انڈسٹری حال سے بے حال نہ ہوئی تھی۔ اشرافیہ کے لیے مخصوص مہنگے اور آسودہ سینی پلیکس کے لیے سال بھر میں چار چھ فلموں کی پیش کاری پر جشن برپا نہیں ہوتا تھا۔ ساٹھ اور ستر کی دِہائی کے اس سنہرے دور میں درجنوں فلمیں بنتیں، سلوراور گولڈن جوبلی کرتیں۔ اور کچھ پلاٹینم جوبلی بھی کر لیتیں۔ سینما ہال میں امیر غریب کی جیب کے مطابق نشستوں کی درجہ بندی ضرور ہوتی تھی لیکن ایک ہی ہال ( جس کے اشتہار میں اہتمام سے ائیر کنڈیشنڈ ضرور لکھا جاتا ) میں سبھی فلمیں دیکھتے۔ ان فلموں کی ایک خاصیت ان کی موسیقی کی کشش تھی۔ ایسی ہی ایک فلم کا گانا بڑا مشہور ہوا جسے غالباٌ محمد علی اور زیبا پر فلمایا گیا۔
ِلیے آنکھوں میں غرور ایسے بیٹھے ہیں حضور
جیسے جانتے نہیں پہچانتے نہیں
بیٹھے ِ بٹھائے یہ گیت ہمیں کچھ یوں یاد آیا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس نے گذشتہ روز اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے حکام کو بلا رکھا تھا۔ مقصود یہ جاننا تھا کہ گذشتہ تین سالوں میں پاکستانیوں نے بیرون ملک کتنی سرمایہ کاری کی ہے۔ جواب کچھ ایسا ملا کہ کمیٹی کے کچھ ارکان تو چکرا کر رہ گئے۔ بنک دولت پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق گذشتہ تین سالوں میں سرکاری طور پرفقط 601 ملین ڈالرز بیرون ملک سرمایہ کاری کی غرض سے بھجوائے گئے البتہ اسی دوران میں انفرادی طور پر5.7 ارب ڈالر ملک سے بیرون ملک بھجوائے گئے ۔( حال ہی میں مکمل ہونے والے آئی ایم ایف پروگرام کی مالیت بھی اتفاق سے اتنی ہی ہے!!! )۔ پانچ سال کے دورانیے میں بیرون ملک ٹرانسفر فارن کرنسی کا حجم 7.9 ارب ڈالر رہا۔ مرکزی بنک حکام سے براہ راست یہ اعداد و شمار سن کر کمیٹی کے کئی ارکان نے ان پر سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔ سوالات اور پوچھنے کے انداز سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ حضور بیٹھے تو ایسے ہیں جیسے جانتے نہیں، پہچانتے نہیں لیکن ہوشیارایسے کہ فرزانے بھی چکرا جائیں۔
کمیٹی کے چیرمین نے سوال کیا کہ کیا فارن کرنسی اکاؤنٹس ہولڈر اوپن مارکیٹ سے ڈالر خرید کر بنک میں اپنے فارن کرنسی اکاؤنٹ سے ٹرانسفر کر سکتا ہے ؟ سوال کیا تھا، ایک خوبصورت کہہ مکرنی تھی۔ نہیں معلوم اپنی ایسی ہی کِسی ٹرانزیکشن کی قانونی حیثیت پوچھ رہے تھے یا یہ راستہ اپنانے والوں کے لیے وضاحت کا بندو بست کر رہے تھے۔ مرکزی بنک کے حکام نے بھی ایسی ہی کمال وضاحت سے معاملہ نمٹا دیا، ضوابط کی کچھ رکاوٹیں ضرور ہیں لیکن اکاؤنٹ ہولڈر قانونی طور پر ایسا کر سکتا ہے۔ اس پر پی ٹی آئی کے اسد عمر بھنّائے ، کمال ہے یوں تو بیرون ملک کہیں بھی سرمایہ کاری کے لیے آپ کا خاصہ مشکل طریقہ کار ہے لیکن ایسے افراد پر بیرون ملک پراپرٹی خریدنے پر کوئی قدغن نہیں اگر ان کے پاس فارن کرنسی اکاؤنٹ ہے۔ایم کیو ایم کے رشید گوڈیل نے معاملے کاِ سرا پکڑنے کے لیے سوال کیا کہ جس وقت یہ ناقص قانون بنایا گیا اس وقت حکومت ِ کن کی تھی۔ اس سے پہلے کہ بنک حکام کچھ کہتے اسد عمر نے انکشاف کیا کہ پہلی آف شور کمپنی 1992 میں قائم ہوئی اور اسی سال ہی فارن کرنسی اکاؤنٹس رکھنے والوں کو قانونی تحفظ دیا گیا۔جسے اندازہ لگانا ہو کہ حکومت میں کون تھا، وہ اس سے اندازہ لگا لے۔ معاملہ بگڑتے دیکھ کر مسلم لیگ کے میاں عبدالمنان اور ملک پرویز نے مرکزی بنک کی بریفنگ کویہ کہتے ہوئے لپیٹنے کی کوشش کہ فارن کرنسی اکاؤنٹس کا قانون بڑ ا واضح ہے لہذا اس پر مزید بحث کی ضرورت ہی کیا ہے!
اس تجویز پر کہ ان قوانین پر نظرِ ثانی کی جائے، کمیٹی کے چیرمین قیصر شیخ نے خیال ظاہر کیا کہ ایسی کوئی بھی نطر ثانی فارن کرنسی ہولڈرز کے لیے تشویش کا باعث ہوگی، لہذا بہتر یہی ہے کہ انہیں نہ چھیڑا جائے۔ اسد عمر نے اس سے قبل یہ تجویز دی کہ ان قوانین کا جائزہ لینے کے لیے ایک سب کمیٹی قائم کی جائے لیکن قائمہ کمیٹی کے دیگر ارکان کی مخالف رائے دیکھ کر وہ بھی اپنی تجویز سے دستبردار ہو گئے۔ اس دوران یہ بات بھی بحثا بحثی میں کہیں گم ہو گئی کہ پاکستانیوں نے دوبئی پراپرٹی مارکیٹ میں 2013 سے لے کر اب تک 6.6 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے، کیا قانون اجازت دیتا ہے؟ کیا حکومت ایسی سرمایہ کاری یا ٹرانسفر پر کوئی تادیبی کاروائی کر سکتی ہے ؟ البتہ مرکزی بنک کے ایک ڈائریکٹر نے ان کی تسلی کروا دی کہ قانون فارن کرنسی اکاؤنٹ ہولڈرز کو مکمل رازداری کا تحفظ دیتا ہے۔ اللہ اللہ خیر صلّا۔
فارن کرنسی اکاؤنٹس رکھنے کا قانون کیا ہے؟ کب کب یہ قانون نافذ یا ترمیم ہوا؟ ٹاک شوز اور جلسوں میں پانامہ لیکس کے حوالے سے ان قوانین کا خوب شہرہ رہا۔ اینکرز اور تجزیہ کاروں نے بال کی کھال اتار دی ، سیا ست دانوں نے ایک دوسرے پر ریفرنس دائر کر دیے ، جماعت اسلامی نے سپریم کورٹ کا دروازہ بھی جا کھٹکھٹایا ہے۔ خورشید شاہ اور چوہدری اعتزاز احسن نے پانامہ لیکس پر انصاف کے لیے تحریک انصاف کے ساتھ سڑکوں پر جانے کا عزم ظاہر کیا ہے البتہ اس سارے عمل میں نہ پیپلز پارٹی نے اور نہ تحریک انصاف نے اسمبلی فلور پر ان قوانین میں تبدیلی کا بل یا تجویز پیش کی۔ شاید اس لیے کہ پانامہ لیکس کے سیاسی شکار پر تو دونوں بڑی پارٹیاں راضی ہیں لیکن فارن کرنسی اکاؤنٹس کو حاصل قانونی تحفظ کو قربان کرنے پر راضی نہیں۔ شاید اس لیے کہ یہ قانون موجودہ سسٹم کے تمام سٹیک ہولڈرز کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں۔
فارن کرنسی اکاؤنٹس کے تحفظ کے لیے دو قوانین اہم ہیں۔ اول: پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ 1992 ۔ یہ قانون نومبر 1990 کے بعد اٹھائے گئے معاشی اصلاحات کے اقدام کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ۔ اس قانون کی شق نمبر چار کے مطابق پاکستان کے تمام ریذیڈنٹ اور نان ریذیڈنٹ شہری فارن اکاؤنٹس کھولنے، فارن کرنسی رکھنے، خریدو ٖ فروخت کرنے اور ٹرانسفر کرنے کے مجاز اور مختار ہیں۔ کسی بھی مرحلے پر انہیں ڈیکلیریشن کی ضرورت ہوگی اور نہ ان سے کوئی پوچھ گچھ ہوگی۔شق نمبر پانچ کے مطابق ایسے تمام اکاؤنٹ ہولڈرز انکم ٹیکس یا کسی بھی اور ٹیکس اتھارٹی کی طرف سے فارن کرنسی اکاؤنٹس کے ذرائع کی پوچھ گچھ سے آزاد ہوں گے۔ مزید یہ کہ ان فارن کرنسی اکاؤنٹس میں موجود رقوم دولت ٹیکس، انکم ٹیکس اور ذکوٰۃ سے مستثنیٰ ہوں گی۔
ایٹمی دھماکوں کے بعد حکومت نے فارن کرنسی اکاؤنٹس کو منجمد کیا تو ہاؤ ہو کا ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔ بعد ازاں 2001 میں اس وقت کی حکومت نے ایک اور قانون نافذ کیا جسے فارن کرنسی اکاؤنٹس پروٹیکشن آرڈی نینس 2001 کا نام دیا گیا۔ اس قانون کی شق تین کے مطابق کسی بھی فرد کو فارن کرنسی اکاؤنٹ کھولنے ، فارن کرنسی رکھنے، نکلوانے یا بھجوانے کے لیے پاکستان کے اندر یا پاکستان کے باہر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔ شق نمبر چار کے مطابق فارن کرنسی اکاؤنٹ ہولڈرز اس سلسلے میں حکومت یا اس کے کسی ادارے کی طرف سے کسی بھی مقدمے یا قانونی کاروائی سے مستثنیٰ ہو ں گے۔
اپنے تمام تر حسن ظن کے باوجود ہمیں یقین نہیں آرہا کہ اس قدر ہمہ گیر، واضح اور سادہ قانون کے بعد مرکزی بنک کے حکام سے قائمہ کمیٹی کے ارکان کیا پوچھنے چلے تھے۔ یہ سب حقائق اگر ہم ایسے ہما شما کو معلوم ہیں تو یقیناً انہیں بھی پتہ ہوں گے۔ بلکہ ہوں گے کا کیا مطلب، انہیں تو یہ بھی معلوم تھا کہ ان قوانین پر نظر ثانی سے فارن کرنسی ہولڈرز میں غیر ضروری تشویش پھیلے گی۔ ابتداء میں ہم نے جس فلم کا ذکر کیا، اس فلم میں زیبا بھی کچھ ایسی ہی ادا سے بیٹھی تھیں کہ محمد علی کو کہنا پڑا ۔۔۔ایسے بیٹھے ہیں حضور، جیسے جانتے نہیں پہچانتے نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *