نیاآبلہ۔۔۔!

akhtar saeed madan.

پیرہن کہا کرتی تھی۔ کبھی ہم کسی کو پہلی بار ملتے ہیں مگر لگتا ہے ہم ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہیں اورکسی کے پاس ہم برسوں رہتے ہیں مگر ہر بار لگتا ہے ہم ابھی بھی اجنبی ہیں۔چاہے وہ ہماری بیوی ہی کیوں نہ ہو۔ ابراہیم سے میں پہلی بار ملا تھا۔لیکن احساس ہوا کہ ہم ایک دوسرے کو بچپن سے جاتے ہیں۔اُس روزہم مجلس میں موجود سبھی لوگ کھل کر ہنسے۔ہم نے اتنے قہقہے لگائے کہ پیٹ میں بل پر گئے۔ہر لمحے بعد ہر ایک کوایک نیا شگوفہ سوجھتا رہا۔نان سٹاپ جگت بازی اور لطائف چلتے رہے۔مجلس بر خاست ہوئی تو ابراہیم نے سب کورات کھانے کی دعوت دی ۔شائد ابراہیم نے میرے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگا لیا تھا کہ میں نہیں آؤں گا۔اُس نے خصوصی طور پرصرف مجھ ہی سے کہا:آپ بھی آئیے گا! میں نے قدرے تکلفاً کہا:شائد میں نہ آ سکوں!وہ جیسے بپھر گیا:کیوں ۔۔۔!کیا آپ رات کا کھانا نہیں کھاتے؟میری طرف سے سہیل نے جواب دیا :آئیں گے ۔۔سر آئیں گے ۔میں انہیں لے کر آؤں گا۔
اُس رات ابراہیم نے ایک پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا تھا۔وہ ایک مال دار اور صاحب مروت انسان تھا۔آسٹریلیا میں رہتا تھا۔پاکستان میں سال دو سال بعد آتا تھا۔آسٹریلیا کے ایک اچھے شہر میں اُس کا ہوٹل تھا۔سڈنی کا کوئی مضافاتی شہر تھا ۔دوسرے پاکستانیوں کی طرح وہ سرمایہ کاری پاکستان میں کررہا تھا۔پاکستان میں اُس کی جڑیں تھیں۔اُس کے بیوی بچے بھی آسٹریلیا میں رہائش پذیر تھے ۔مگر وہ سمجھتا تھا کہ ایک نہ ایک دن اُسے بیوی بچوں سمیت پاکستان میں لوٹ آنا ہے ۔پاکستان کے بڑے شہر لاہور میں اُس نے کافی پراپرٹی خریدی ہوئی تھی۔ اُس نے ایک ملازم رکھا ہوا تھا جو اُس کی کوٹھیوں کا کرایہ اگرہتا تھا اور ماہ بہ ماہ اُس کے اوکاؤنٹ میں جمع کروا دیتا تھا۔لاہور کے پوش علاقے میں اُس نے اپنے لئے کوٹھی کا ایک پورشن سپیئر رکھا ہوا تھا۔اُس کی عدم موجودی میں پوریشن کی صفائی ستھرائی ہوتی رہتی تھی۔وہ جب بھی پاکستان آتا اُس کے لئے رہائش گاہ تیار ہوتی۔ گاڑی لش پش ملتی۔ایک ڈرائیور بھی ہمہ وقت تیار ملتا ،مگر وہ گاڑی خود ڈرائیو کرنا پسند کرتا تھا۔
اُس سے اگلے دن سہیل نے دعوت کا اہتمام کیا تھا۔کھانا کھا چکنے کے بعد ڈھیر ساری گپ شپ ہوئی۔جاتے جاتے میں نے بھی سبھی کو اگلے دن کی دعوت دے دی ۔ابراہیم نے کہا:نہیں بھئی ۔۔۔!آپ کی طرف کھانا ادھار رہا۔میں نے استفسار کیا :کیوں ۔۔۔؟ابراہیم کی بجائے سہیل نے جواب دیا:کیوں نہیں ۔۔۔!پھر اُس نے ابراہیم کی طرف رُخ کیا:سر جی گھبرایئے نہیں یہ بھی شہید ہیں۔میں سمجھ گیا تھا سہیل کیا کہنا چاہتا ہے ۔شہید سے اُس کا مطلب صاحب حیثیت ہونا تھا۔ابراہیم خوش ہو کر چہکا :یار آپ نے ہمیں بتایا ہی نہیں۔۔۔ابراہیم تھا ہی ایسا ۔وہ دوستوں کو خوشحال دیکھ کر خوش ہو تا تھا۔اُس دن ابراہیم نے آسٹریلیا سے لائی ہوئی ایک نفیس شرٹ میر ے لئے تحفے میں لایا۔
اُن دنوں میرے پاس بہت سا فارغ وقت تھا۔میں عموماً اپنے کاروباری سودے موبائل پر ہی کر لیتا تھا۔گھر میں بھی مجھے کوئی خاص مصروفیت نہیں تھی۔ابراہیم صرف ایک فون کر کے آدھمکتا۔گاڑی میں بٹھاتا۔بلکہ حکم دیتا اور پھر گاڑی لاہور کی سڑکیں ناپنے لگتی۔ ایک دن مجھے کہنے لگا :آج کوئی مصروفیت تو نہیں ہے ؟میں مسکراپڑا :اگر ہو بھی تو تم کون سا لحاظ کرنے والے ہو۔۔۔! وہ اونچا قہقہہ لگا کر ہنسا۔ابراہیم قہقہہ بہت گلا پھاڑ کر لگاتا تھاکہ پاس سے گزرتے ہوئے لوگ بھی رک کر دیکھنے لگتے۔کار موٹر وے پر کوٹ عبدالمالک انٹر چینج سے فیصل آباد روڈ پر اتر گئی تو میں نے پوچھا : سر جی کہاں کا پروگرام ہے؟وہ چہکا :چلو چلو ننکانہ چلو۔۔۔! مجھے اُچنبھا ہوا:ننکانہ خریت ہے ؟اُس نے بتایا کہ ننکانہ صاحب اس کا آبائی شہر ہے ۔وہ بس یونہی ننکانہ جانا چاہتا ہے۔اپنے عہد رفتہ کو آواز دنیے کی خاطر ۔اُس روزابراہیم بہت خوش تھا۔اُس نے گاڑی کا ڈیک آن کر دیا ۔۔۔جا مہ کدے سے میری جوانی اُٹھا کے لا۔۔۔کوئی ڈیڑھ کھنٹے بعد ہم ننکانہ پہنچ گئے تھے۔
یہ ایک اُداس سا شہر تھا۔ضلع ہونے کے باوجود شہر میں رونق نہیں تھی،نہ گہما گہمی تھی۔لوگوں کے چہروں پر خوشی نہیں تھی یا یہ مجھی کو محسوس ہو رہا تھا۔میں نے اس کا تذکرہ ابراہیم سے کیا۔ وہ بتانے لگا:دراصل ننکانہ صاحب کسی مین شاہراہ پر واقع نہیں ہے ۔لاہور سے بسیں آنا سر شام ہی بند ہو جاتی ہیں۔شام کے بعد اس شہر کا رابطہ بڑے شہروں سے کٹ جا تا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ننکانہ کی ترقی نہیں ہو سکی۔حالانکہ پاکستان بننے سے قبل یہ شہر خاصہ کاروباری تھا۔چار پانچ کپاس کے بڑے بڑے کارخانے تھے۔غلہ منڈی میں اتنی زیادہ گندم اور دھان آتی تھی کہ اُن دنوں ٹریفک بند ہو جاتی تھی۔اُن دنوں لوگ آنے جانے کے لئے ٹرین کا استعمال زیادہ کرتے تھے۔صرف مانگٹانوالہ کی طرف پختہ سڑک تھی۔ جو کہ لاہور لائل پور کی واحد رابطہ سڑک کے ساتھ مل جاتی تھی۔آج کل ارد گرد کے دیہات میں چودھراہٹیں زیادہ ہو گئی ہیں۔طالب علم پڑھنے سے زیادہ بس ڈرائیو روں اور کنڈکڑروں پر رعب جما کر تعلیمی سر گرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ٹرین پر سفر وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔
ابراہیم نے انڈہ تالاب والی مسجد کے پاس ایک آلو چنے بیچنے والے کے سامنے کار روک دی۔ہم دونوں باہر آ گئے۔ابراہیم نے چنے والے سے دس دس روپے کے چنے دینے کو کہا تو مجھے عجیب سا لگا۔مجھ سے رہا نہ گیا:استاد خریت تو ہے !اتنی کنجوسی ۔۔۔؟ابراہیم مسکرا پڑا :یہاں پاس ہی میرا سکول تھا۔اُن دنوں میں کبھی کبھار یہاں سے ایک ٹکے کے چنے خریدتا تھا،جو آج کے دس روپے کے برابر ہیں۔میں ان چنوں میں وہی ذائقہ محسوس کرنا چاہتا ہوں۔میں ہنس دیا :یا اللہ خیر۔۔۔مگر ابراہیم نہایت سنجیدہ تھا۔وہ چنوں کا چھوٹا چمچ منہ میں رکھتا اور بار بار ادھر ادھر دیکھنے لگتا ۔ہم محلہ شیخاں میں گئے ۔وہاں سے اُس نے ایک حلوائی کی دکان سے پاؤ بھر دہی لے کر کھایا۔بازار میں ایک دکان سے من پسند لیا ۔لسی بنوائی اورلسی میں بن بھگو بھگو کر کھایا۔ابراہیم نے ایک چوک کی طرف اشارہ کیا :یہ بیری والا چوک ہے ۔کبھی یہاں بیری ہوتی تھی۔اُن دنوں آگے بازار میں ایک گونگا پہلوان سہ پہر کو دہی بھلے کی ریڑھی لگاتا تھا۔تنگ بازار میں گرمیوں کے دنوں میں دکان دار خوب چھڑکاؤ کرتے تھے۔
اس بعد ابراہیم مجھے پرانے ننکانے لے گیا ۔یہاں اُس نے گورودوارہ دکھایا۔ریلوے لائین پار کر کے اُس نے اپنا سکول دکھایا جہاں سے اس نے میٹرک کیا تھا۔میرے لئے ان چیزوں میں چنداں دلچسپی نہیں تھی۔وہ بتاتا رہا ان دنوں شہر میں ایک ہی سینما ہوتا تھا۔میلے کے دنوں میں ایک ساتھ بہت سے سینما اور سرکس لگتے تھے۔بہت سے بازی گر اور مداری اپنے تماشے دکھاتے تھے۔بہت سے مجمع باز اپنی ادویات بیچتے تھے۔ریلوے اسٹیشن کی طرف جاتے ہوئے ابراہیم نے بلا وجہ یکدم بیچ سڑک کے گاڑی کے بریک اس زور سے لگائے کہ ٹائر چیخ اُٹھے۔ میرا سر ڈیش بورڈ سے ٹکراتے ٹکراتے بچا۔میں نے حیرت سے ابراہیم کی طرف دیکھا کہ سامنے سڑک پرکوئی چیز نہیں تھی۔اس سے قبل کہ میں استفسار کرتا ابراہیم گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔کچھ نہ سمجھتے ہوئے میں نے بھی اس کی پیروی کی۔سٹرک کے فٹ پاتھ پر ایک سلگتی ہوئی سگریٹ پڑی تھی ۔ابراہیم نے سگریٹ اپنے جوتے کے ساتھ اتنی زیادہ مسلی کہ وہ ریزہ ریزہ ہو گئی۔پھر وہ جوتے جھاڑتا ہوا واپس ہوا اور گاڑی میں واپس آ گیا۔میں بھی اُس کے ساتھ گاڑی میں آ بیٹھا اور بڑ بڑایا:سگریٹ بجھانا اتنا بھی اہم نہیں تھا کہ بیچ سٹرک میں اتنی زور سے بریک لگا دی جاتی۔ابراہیم نے کوئی جواب نہیں دیا ۔اُس کے چہرے کے تاثرات جیسے منجمد ہو گئے تھے۔وہ عین سڑک کی سیدھ میں دیکھ رہا تھا۔چند لمحے وہ یونہی بیٹھا رہا ،پھر دھیرے سے گاڑی بڑھا دی ۔
ریلوے اسٹیشن تک وہ اسی طرح خاموش رہا۔اُس نے گاڑی ایک جگہ پارک اور ہم اجڑے ہوئے سے ریلوے اسٹیشن کی ایک بینچ پر آ بیٹھے۔وہ ابھی تک چپ تھا۔میں نے پھر بات شروع کی :استادخریت تو ہے ناں۔۔۔؟اُس نے میری بات کا جواب نہیں دیا،بلکہ الٹا مجھ سے استفسار کیا: کبھی تمہارا ننگا پاؤں سلگتی ہوئی سگریٹ پر آیا ہے ۔میں نے قدرے تلخی سے کہا:وہ کیوں۔۔۔!ابراہیم ریلوے لائین کو گھورتا ہوا بولا:مگر میرا پاؤں بہت دفعہ آیا ہے ۔جب جلتے ہوئے سگریٹ پر کسی بچے کا ننگا تلوا آتا ہے تو یہ جلن سیدھی دماغ تک پہنچتی ہے۔تلوے پر نہ سہی مگر دماغ میں ایک چھالا بن جاتا ہے ۔بچپن میں میرے ماں باپ کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کہ وہ مجھے ہر چھے مہنیے بعد نیا جوتا لے کر دیتے۔میں جوتے کے بغیراس شہر کی گلیوں میں بہت گھوما ہوں۔میرے ذہن میں بہت چھالے ہیں۔میں جب بھی راستے میں پڑی ،سلگتی ہوئی سگریٹ دیکھتا ہوں تو میرے دماغ میں بہت سے آبلوں کے ساتھ ایک نیا آبلہ ابھر آتا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *