آخری معرکہ اور شام کی مقدس زمین

sajida farheen faree

ایک امریکی ویب سائٹ ورلڈ سوشالسٹ کے مطابق پانچ سالہ شامی بچے امران کی کچھ روز پہلے شائع ہونے والی تصاویر امریکی اور یورپی ذرائع ابلاغ پر چھائی رہیں جو دراصل امریکی حمایت یافتہ باغیوں نے فراہم کی تھیں۔ ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ سی این این نے بچے کی تصاویر کی مارکیٹنگ کی ہے اور سی این این کی نیوز کاسٹر نے رونے کا ڈرامہ کیاکیونکہ یہ بچہ روسی بمباری میں زخمی ہوا تھاشاید اسی لیے امریکہ کی سوئی ہوئی انسانیت جاگ اُٹھی جو عراق اور افغانستان میں امریکہ بمباری کا شکار بچوں پر سوئی رہتی ہے۔نیویارک ٹائمز نے سرخی لگائی (حلب میں مصائب کا نشان) اور برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے تو بچے کی خبر کے ساتھ یہ تحریر کیا کہ شام کے بچوں کی خاطر ہمیں شام کو پھر سے نو فلائی زون قرار دینا چاہیے۔ ورلڈ سوشالسٹ کے تجزئیے کے مطابق روس ،ایران، ترکی اور چین کی قربت امریکہ کے لیے پریشان کن ہے کیونکہ یہ سب کچھ مشرق وسطی اور اس میں موجود توانائی کے ذخائر پر امریکی اجارہ داری کے آگے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ابھی امران کی تصاویرحساس افراد کے ذہنوں میں تازہ تھی کہ حلب میں بمباری کے باعث ملبے میں دبے گیارہ سالہ احمد کو ایک گھنٹے کی کوششوں کے بعد نکال لیا گیا احمد کا پوار خاندان اس بمباری کے دوران شہید ہوچکا ہے۔رواں ماہ اگست کے دوران حلب میں ایک سو چالیس سے زائد بچے جاں بحق ہوچکے ہیں اور اس پانچ سالہ جنگ کے دوران پچاس ہزار بچے مارے جاچکے ہیں۔
بہرحال شامی بچہ امران ایک حقیقت ہے جو اس جنگ میں بمباری سے زخمی ہوا اوراُسکا زخمی بھائی علی دو دن بعد زخموں تاب نہ لاتے ہوئے دار فانی سے کوچ کر گیا ۔علی بھی اب سے کچھ ماہ قبل ترکی کے ساحل پر شامی جنگ سے دور جانے والے خاندان کی ہجرت کے دوران ڈوب جانے والے ایلان کردی کے پاس ہوگا جہاں نہ بمباری ہوگی نہ خانہ جنگی، شامی بچوں کو اب صرف مرنے کے بعد ہی سکون میسر آسکتا ہے، شام میں رہتے ہیں تو امران کی طرح حا ل ہوتا ہے شام سے نکلنے کی کوشش کریں تو ایلان کردی کی طرح موت اُنکی منتظر ہوتی ہے۔شامی بچے کبھی بشار الاسد کی حکمرانی کے بھینٹ چڑھتے ہیں تو کبھی باغیوں کی بغاوتوں کی زد میں آجاتے ہیں۔امران اور ایلان تو صرف ایک علامت بن گئے شامی جنگ کی جنہوں نے تھوڑی دیر کے لیے سہی دنیا کے بے حس ضمیر کو جھنجھوڑا ورنہ اب تک پانچ برسوں سے جاری اس شامی جنگ میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

shamiلاکھوں شامی باشندے شام سے ہجرت کر چکے ہیں مگر اب بھی ایک کروڑ اسی لاکھ شامی اپنے اس جنگ زدہ وطن کے باسی ہیں۔جنگ سے قبل شام کی آبادی دو کروڑ پینتالس لاکھ تھی۔اب تک اس جنگ میں لقمہ اجل بننے والے افراد کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ صرف ان افراد کے نام پڑھنے کے لیے آپکو انیس گھنٹے درکار ہونگے اور یہ نام اکٹھا کیے ہیں شام میں کام کرنے والے نیٹ ورک وائلیشنز ڈاکیو منٹیشن سینٹر نے اس نیٹ ورک نے شام میں ہلاک شدگان افراد کی ہلاکت کی وجوہات کا ڈیٹا بھی جمع کیا ہے۔اگر شام کی تاریخ کی بات کی جائے توشام سریانی زبان کا لفظ ہے جو حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے حضرت سام بن نوح سے منسوب ہے۔طوفان نوح کے بعد حضرت سام اسی علاقے میں آباد ہوئے۔ یہ مبارک سر زمین پہلی جنگ عظیم تک عثمانی حکومت کی سر پرستی میں ایک ہی خطہ تھی جسے بعد میں انگریزوں اورفرانس کی پالیسیوں نے چارملکوں(شام،لبنان،فلسطین اور اردن) میں تقسیم کردیا لیکن قرآن و حدیث میں جہاں بھی ملک شام کا ذکر ہے اس سے مراد یہ پورا خطہ مراد ہے جو عصر حاضر کے ان چار ممالک(شام،لبنان،فلسطین اور اردن) پر مشتمل ہیں۔مسجد حرام اور مسجد بنوی کے بعد سب سے بابرکت و فضیلت کی جگہ مسجد اقصی ہے جیسے قبلہ اول بھی کہتے ہیں۔سورہ الانبیاء آیت 71 ارشاد باری تعالی ہے۔ہم ابراہیم اور لوط کو بچا کر اس زمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے تمام جہاں والوں کے لیے برکت رکھی تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام عراق سے مقدس سر زمین ملک شام ہجرت فرما گئے۔
سورہ الانبیاء آیت 81 ارشاد باری تعالی ہے:ہم نے تند و تیز ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے تابع کردیا، جو ان کے فرمان کے مطابق اسی زمین کی طرف چلتی تھی جہاں ہم نے برکت دے رکھی ہے یعنی ملک شام کی سر زمین۔
ایک دفعہ رسول ﷺ نے صحابہ کرام سے کہا کہ کیا تم جانتے ہو اللہ سبحان تعالیٰ شام کے بارے میں فرماتے ہیں(شام میری زمینوں میں سے وہ منتخب کردہ زمین ہے جہاں میں اپنے بہترین عابدوں کو داخل کرتا ہوں(ابوداؤد،مسند احمد)
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا،شام والوں تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو۔شام والوں تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو۔ تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو۔صحابہ کرام نے سوال کیا کس لیے یا رسول اللہ ﷺ تو آپ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رحمت کے فرشتوں نے خیر و بھلائی کے اپنے بازو اس ملک شام پر پھیلا رکھے ہیں۔(ترمذی،مسند احمد)
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اے اللہ ہمیں برکت عطا فرما ہمارے شام میں، ہمیں برکت دے ہمارے یمن میں۔ آپ ﷺ نے یہی کلمات تین یا چار مرتبہ دوہرے۔(بخاری،ترمذی،مسند احمد،طبرانی)
آخر شام میں ایسی کیا خاص بات ہے جو امریکہ ،اسرائیل، ایران، سعودیہ عرب، ترکی، روس اور چین تمام ممالک اس جنگ کا براہ راست و بالواسطہ حصہ بنے ہوئے ہیں کوئی اپنی پراکسی وار لڑرہا ہے تو کوئی اپنے سپر پاور ہونے کی دھاک بٹھاناچاہتا ہے۔شام کی سر زمین مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کے لیے بھی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ حضرت عیسٰی کا نزول اور حق و باطل کا آخری معرکہ بھی اسی جگہ برپا ہوگا۔احادیث کے مطابق حضرت امام مہدی حجاز مقدس سے ہجرت فرما کر اسی سرزمین پرقیام پذیر ہوکر مسلمانوں کی قیادت کا فریضہ انجام دینگے اور حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول بھی اسی علاقے یعنی دمشق کے مشرق میں واقع سفید مینار پرنماز فجر کے وقت ہوگا اور یہ علاقہ قیامت سے قبل اسلام کا مضبوط قلعہ و مرکز بنے گا۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:میں نے شب معراج میں دیکھا کہ فرشتے موتی کی طرح ایک سفید عمود اٹھائے ہوئے ہیں۔میں نے پوچھا:تم کیا اٹھائے ہوئے ہو؟انہوں نے کہا:یہ اسلام کا ستون ہے،ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اس کو شام میں رکھ دیں۔ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا تو میں نے دیکھا کہ عمود الکتاب(ایمان) میرے تکیہ کے نیچے سے نکالا جارہا ہے۔میں نے سوچا کہ اللہ تعالی نے اس کو زمین سے لے لیا جب میری آنکھ نے اس کا تعاقب کیا تو دیکھا کہ وہ ایک بلند نور کی مانند میرے سامنے ہے یہاں تک کہ اس کو شام میں رکھ دیا گیا(طبرانی)اور کہا جاتا ہے کہ جب بھی شام میں فتنے پھیلیں گے وہاں ایمان میں اضافہ ہوگا۔(مسند احمد، طبرانی)۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اگر اہل شام میں فساد برپا ہوجائے تو پھر تم میں کوئی خیر نہیں میری امت میں ایک جماعت دمشق اور بیت المقدس کے اطراف میں جہاد کرتی رہے گی لیکن اس جماعت کو نیچا دکھانے والے اور اس جماعت کی مخالفت کرنے والے اس جماعت کو نقصان نہیں پہنچا پائیں گے اور قیامت تک حق انہیں کے ساتھ رہے گا۔(ترمذی،ابن ماجہ)
نبی ﷺ نے ایک دفعہ قیامت کی چھ نشانیاں بتائیں جن میں سے ایک نشانی یہ بھی ہوگی کہ تمہارے اور بنی اصفر (صیہونی طاقتوں) کے درمیان جنگ ہوگی۔انکی فوج کی 80 ٹکڑیاں ہوں گی اور ہر ٹکڑی میں1200فوجی ہوں گے۔اس دن مسلمانوں کا خیمہ الغوطہ نامی جگہ میں ہوگا جو دمشق شہر کے قریب واقع ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا، قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک فرات سے سونے کا پہاڑ نہ نکلے، لوگ اس پر جنگ کریں گے اور ہرسو میں سے نناوے مارے جائیں گے۔ہر بچنے والا سمجھے گا کہ شاید میں ہی اکیلا بچا ہوں(مسلم)
عراق کے تیل کے ذخائر کے لیے امریکہ عراق میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ داخل ہوا جسکے بعد عراقیوں پر زندگی تنگ کردی گئی اس سے پہلے عراق پر لگائی گئی معاشی پابندیوں کے باعث پانچ لاکھ سے زائد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہوکر جاں بحق ہوئے تھے۔ ایک سازش کے تحت مصر کی منتخب جمہوری مرسی کی حکومت پر جنرل سسی نے آمریت کا شب خون مار اسی دوران شام کے حالات بھی بگڑتے گئے۔مختلف روایات کے مطابق جب مصر کے حالات خراب ہونگے تو پھر خطے کے مزید علاقوں کے بھی حالات بتدریج خراب ہوتے جائیں گے اور یہ کہا جاتا ہے کہ جب پیلے جھنڈے والے مصر میں داخل ہوجائیں تو اہل شام کو چاہیے کہ وہ زمین دوز سرنگیں کھود لیں۔شام میں آخری جنگ کو رسول ﷺ نے ملحمتہ الکبری کہا ہے۔اس جنگ میں مسلمانوں کی مدد یمن سے کی جائے گی اور مغرب کی طاقتوں سے یہ جنگ اعماق اور دابق کے مقام پر لڑی جائے گی یہ دونوں علاقے حلب سے پنتالیس کلو میٹر کے فاصلے پر اور ترکی سے قریب ہیں۔
ابوہریرہ سے مروی ایک حدیث کے الفاظ ہیں نبی ﷺ نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ لڑتا رہے گا دمشق کے دروازوں اور اسکے اطراف اور بیت المقدس کے دروازوں اور اسکے اطراف،ان کی مخالفت کرنے والے والا ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور وہ حق پر قائم رئیں گے یہاں تک کے قیامت آجائے۔
اسوقت تمام بڑی قوتیں اس ارض مقدس پر صف آراء ہیں ہر قوت خود کو حق پر ظاہر کرتی ہے اور دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ہم ہی حق پر ہیں مگر جیسے
جیسے مزید ممالک اس جنگ میں شامل ہوتے جارہے ہیں حالات مزید خراب ہوتے جارہے ہیں اوراب وقت ثابت کرے گا کہ خدا کی نصرت کس کے ساتھ ہے اور اگر یہی وہ آخری معرکہ ہے تو اللہ کی خوشنودی و رضا کے لیے ہی لڑنے والے فتح سے ہمکنار ہونگے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *