مجرم ہم بھی تو ہیں

Qazi Nisar

(مصنف کا تعلق بلوچستان سے ہے اور انہوں نے انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں بلوچستان کے مسائل کی نشاندہی کی ہے)

بلوچستان کے ساتھ ہو نے والی زیادتیوں کا جب بھی ذکر ہو تا ہے تو تمام تو پوں کا رخ وفاق کی جانب مو ڑ دیا جاتاہے جیسے کہ بلو چستان کی پسما ندگی میں ہمارا پنا کو ئی قصو ر یا کرددار نہ ہوں ۔ اور شاید ایسا ممکن ہی نہیں کہ ہمارے اپنے لو گوں اور نمائندوں نے ہمارے استحصال اور پسماندگی میں اپنا کردار ادا ہ نہ کیا ہو۔ ماضی قریب کے گورنمنٹ کا جا ئزہ لیا جائے تو ہمارے اپنوں کی بلوچستان کے ساتھ ہو نے والی نا انصافیوں کا پتہ چل جا تا ہے
تقریباایک کروڈ تیس لاکھ کے لگ بھگ آبادی والے اس صوبے کے نمائندوں نے پچھلے سات (7) سالوں میں این ایف سی ایوارڈ اور دیگر مد میں سے تین سو ساٹھ بلین روپے کی کر پشن کی ہے ( بحوالہ دی نیو ز جون 2015 ) جب کہ اس بد قسمت صوبے کی 54 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے اور تقریبااس کی 80 فیصد آبادی غربت اور کسمپری کی زندگی گزاررہی ہیں ۔
چند سال پہلے ہر نائی ،کو ئٹہ اور لسبیلہ میں موجود ٹیکسٹائل ملز جن سے بر اہ راست بیس ہزار لوگوں کو روزگار وابستہ تھا بند کیا گیا اور آج تک ہمارے نام نہاد پشتون اور بلوچ قوم پرست اس خاموش معا شی قتل پرکیو ں خاموش رہے جب کہ بلوچستان میں بے روزگاری شرح 63 فیصد سے زیادہ ہیں اور بلوچستان میں سالانہ پچیس ہزار سے زائد نوجوان کی گریجویشن کرتے ہیں اور محظ تین سے چار ہزار نوجوانوں کوسالانہ روزگارکے مواقع میسر آتے ہیں
ہمارے نمائندے امریکہ کے سیر و تفریح پر 35 ملین روپے خرچ کرتے ہیں جب کہ ہمارے ہسپتالوں میں عام انٹی بائیوٹک اور سرنج تک دستیاب نہیں ، صوبے کے گیارے ملین بچے اپنی عمر کی پانچ سال مکمل ہو نے سے پہلے مر جاتے ہیں ، پیدائش کے وقت ماں اور بچے کی شرح اموات سب سے زیادہ ہیں ، بلوچستان میں صرف 16 فیصد بچے ویکسنیٹڈ ہیں اور ہیپاٹائٹس کے مریض بھی بلوچستان میں سب سے زیادہ ہیں ۔
ہمارے صو بے کے حکمران شاید کرپٹ یا اتنے نالائق ہے کے چالیس بلین روپے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ نہ کرسکے یا شاید ہما رے حکمرانوں کو لگتا ہے کہ ہم اتنے خو شحال ہے کہ ہمیں چالیس بلین کی ضرورت نہیں یا شاید انھیں نہیں پتہ کہ 99 فیصد آبادی کو صاف پینے کا پانی مہیا نہیں اور سب سے زیادہ فوڈ ان سکیورٹی بلوچستان میں پائی جاتی ہے ۔
ہمارے حکمران ہمارے مسائل میں کتنے دلچسپی رکھتے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کے صوبائی اسمبلی میں ارکان کی حاضری او سطا 48 فیصد رہی ہے اور اسمبلی کے پہلے سال تقریبا(16) قراداد پیش کئے گئے ہیں جن میں سے تین قرارداد اسمبلی ارکان کے مراعات میں اضافے حوالے سے تھا جبکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارے مسائل حل کردینگے عوام کے مسائل حل نہ ہو ئے البتہ ہمارے بہت سے نمائندوں کے مسائل ضرور حل ہو ئے ہیں ۔
ہما رے پچھلے وزیراعلیٰ نواب اسلم رسانی صاحب نے امیر صو بے کی فلاح و بہبود کے کاموں کو جلدی سے نبھٹا نے کیلئے Learjet 31Aجہاز کروڑوں روپے میں خریدا اس جہاز کے فی گھنٹہ سفر کا خرچہ تقریبا دو لاکھ روپے بنتا ہے اور اب تک سینکڑوں دوروں پر کروڑوں روپے خرچ ہو چکے ہیں جبکہ صوبے کہ 2.5 ملین بچے سکول نہیں جا رہے ، 54 فیصد پرائمری سکولوں میں ایک ٹیچر ہے ، 26 فیصد سکول ایک کمرے پر مشتمل ہیں ،50 فیصد سکولوں میں چاردیواری موجود نہیں اور 70 فیصد سکولوں میں پینے کا صاف پانی موجو د نہیں ۔
ہمارے نمائندوں نے پاکستان کو سالانہ اربوں روپے دینے والے پروجیکٹس سیندک اور سوئی میں لوگوں کی حالت زار پر کبھی موثر آواز نہیں اٹھائی اور ہمارے نما ئندوں نے گوادر کے آسامیوں کے لئے پنجاب اور سندھ کے لوگوں کی تعیناتی پر آواز نہیں اٹھا ئی ۔
آخر میں بلو چستان کے لوگوں سے میرا سوال ہے کہ کہ کیا صوبے کے پسماندگی میں ہمارا کو ئی کردارنہیں ؟
کرپٹ لوگوں کو خود ہی منتخب کرواتے ہیںیا ان کی حما یت کرتے ہیں یا پھر خا موشی اختیار کر لیتے ہیں ؟
پلڈاپ کے سروے کے مطا بق بلو چستان کے84% سرکاری کاموں میں رشوت لی جاتی ہے کیا وہ رشوت دینے کے ہم ذمہ دار نہیں ؟
میرٹ کی پا مالی میں بھی ہمارا قصور ہیں ہم چا ہیتے ہیں کہ ہمارے لو گ نو کریوں پر لگ جائیں ہما رے لو گوں کے کام ہو جائیں باقی میرٹ کا خیر ہے ۔
ہمیں وفاق یا دیگر اداروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنا قبلہ درست کر لینا چا ہیے بلو چستان کی پسماندگی میں ہمارا بھی کردار ہے اور مجرم ہم بھی تو ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *