’’جعلی ‘‘جمہوریت اور’’ حقیقی‘‘ انقلاب

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

ہمیں اس بات پر غصہ ہے (اورجائز ہے) کہ اس ’’جعلی‘‘ جمہوریت میں ایماندار ، سفید پوش ، شریف اور راست باز آدمی کی کامیابی کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے، غریب کے بچے بھو ک سے بلک کر مر جاتے ہیں جبکہ امیر آدمی کے کتے کا کھانا بھی امپورٹڈ ڈبوں میں آتا ہے، معاشرے کا ایک طبقہ نزلے کا علاج کروانے یورپ جاتا ہے جبکہ دوسرے طبقے کی عورتیں سرکاری اسپتالوں میں بے پردگی کے عالم میں بچے جنتی ہیں،یہاں طاقتور کے لئے کوئی قانون نہیں، سیاست پر اشرافیہ کا قبضہ ہے ، حکمرانی صرف چند خاندانوں کی ہے جن کے سامنے کسی قسم کے قانون یاآئین کی کوئی حیثیت نہیں، تمام ادارے اس اشرافیہ کے تابع ہیںلہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نظام کو آئین اور قانون سمیت ہی جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور یہ کام کوئی فوق البشر ،مسیحا یاکرشماتی لیڈر ہی کر سکتا ہے ۔بلاشبہ یہ بیانیہ نہایت خوش کن ہے اور اس میں کافی حد تک سچائی بھی ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ آیا تاریخ میں جب کبھی قوموں پر ایسا وقت آیا تو انہوں نے کس طرح اپنے معاشروں میں ’’انقلاب ‘‘ برپا کیا!
تاریخ میں قوموں نے نظام کی تبدیلی دو طریقوں سے کی ہے ،انقلاب اور ارتقاء۔جن انقلابات کی ہم آئے دن مثالیں سنتے ہیں ان میں انقلاب فرانس، انقلاب ایران، روسی انقلاب اور مائو زے تنگ کا انقلاب شامل ہیں۔ انقلاب ایران بنیادی طور پر شاہ ایران کی طویل آمریت سے نجات کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوا ،اس کے مقابلے میں پاکستانی قوم چار آمروں کو گھر بھیج چکی ہے لہٰذا ہمارا ریکارڈ ان سے کہیں بہتر ہے۔باقی تین انقلابوں میں سے ہمیں انقلاب فرانس بہت پسند ہے سو پہلے اس کی مثال لیتے ہیں، 1789میں برپا ہونے والے اس نام نہاد انقلاب کا صرف ایک ڈائیلاگ ہمیں یاد ہے کہ ’’روٹی نہیں ملتی تو عوام کیک کھا لیں‘‘(حالانکہ اس مکالمے کی کوئی تاریخی سند نہیںملتی) جس کے نتیجے میں بالآخر وہ دن آیا جب بپھرے ہوئے عوام نے Bastileمیں بادشاہ اور اس کے خاندان اورحواریوں کو گلوٹائن کے نیچے رکھ کر سر کاٹ دئیے۔اس کے بعد کی تاریخ زیادہ دلچسپ ہے۔ ’’قادری ڈاکٹرائن ‘‘ کی رو سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ انقلاب کے فوراً بعد فرانس میں لوگوں کو روٹی ملنی شروع ہوجاتی، شیر بکری گینڈا اور لگڑ بگڑ دن میں ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے اور شام کو کسی کلب میں بیئر پیتے ، امیر غریب کا فرق مٹ جاتا ،اہل صفا مردود حرم مسند پر بٹھائے جاتے، لٹیروں کو پھانسیاں دی جاتیں ،بد عنوانی کا قلع قمع کر دیا جاتا اور پھر ایک ایسا نظام وضع کیا جاتا جس کے بعد سب ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے مگر بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ نپولین نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ، فرانس میں خانہ جنگی شرو ع ہوگئی ،کئی ملکوں سے جنگ چھڑ گئی ، لاکھوں بے گناہ افراد مارے گئے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انقلاب لانے والوں کو چُن چُن کر قتل کر دیا گیا ۔
انقلاب روس 1917میں برپا ہوا ،انقلاب لانے والے کمیونسٹوں کے ان داتا جناب لینن صاحب، اس انقلاب کے بعد بھی ملک میں جنگ جاری رہی ،قتل عام ہوا، لاکھوں لوگ مارے گئے اور انقلاب فرانس کی طرح انقلاب لانے والوں کو روس میں بھی چُن چُن کر مارا گیا ‘حتیٰ کہ لینن کی پولٹ بیورو کے تمام ممبران جناب سٹالن صاحب 1936تک قتل فرما چکے تھے ۔شہرہ آفاق لکھاری میکسم گورکی پراسرار حالات میں 1936میں مارا گیا جس کے قتل کا شبہ بھی اسٹالن پر ظاہر کیا جاتا ہے ،یہ اور بات ہے کہ اسٹالن نے گورکی کے جنازے کو کندھا دیا ۔اس کے بعد اسٹالن نے لینن کے دست راست اور ریڈ آرمی کے سربراہ لیون ٹروسکی کا پیچھا کیا اور بالآخر 1940میں برف توڑنے والے آلے سے اس کا قتل کر دیا گیا، قتل کرنے والا اسٹالن کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی NKVDکا ایجنٹ تھا۔یہ بتانا تو مشکل ہے کہ روسی انقلاب کے بعد جوزف اسٹالن کے زمانے میں کتنے لوگ مارے گئے مگر بلاشبہ یہ تعداد کئی ملین سے زیادہ ہے ۔
ایک صاحب مائو زے تنگ بھی ہیں جن کے بے شمار مداح ہمارے ملک میں پائے جاتے ہیں اور ان کے لانگ مارچ اور انقلاب سے متاثر ہو کر آئے دن مارچ کی دہائی دیتے رہتے ہیں ،مائو انقلاب کے بعد چین میں غربت کا جو حال تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حقیقت میں اگر کسی چینی کو دو وقت کی روٹی نصیب ہو جاتی تو اسے ایک خوش قسمت شخص سمجھا جاتا ،اس غربت کو مٹانے کے لئے مائو نے جو انقلاب برپا کیا اس سے غربت تو نہیں مٹی البتہ غریب ضرور مٹ گئے، 1958میں گریٹ لیپ فارورڈ نامی اس انقلابی پروگرام کے نتیجے میں تین کروڑ افراد بھوک اور قحط کا شکار ہو کر مرے ۔یہ ہے انقلابات کی وہ مختصر ترین قیمت جو مختلف قوموں نے مختلف شکلوں میں ادا کی ہے ،کل ملا کر اتنے لوگ دونوں عظیم جنگوں میں نہیں مرے جتنے ان نام نہاد انقلابات کی بھینٹ چڑھ گئے ۔
انقلاب کے مقابلے میں دوسرے ماڈل کو ارتقائی ماڈل کہا جاتا ہے ، اس کی بہترین مثال انگلستان ہے۔ انقلاب فرانس کے بعد فرانسیسیوں کے حصے میں نپولین کی بادشاہت آئی جبکہ انگلستان نے بتدریج بادشاہت سے چھٹکارا حاصل کیا، فرانس اور برطانیہ دونوں استعماری طاقتیں تھیں مگر برطانیہ نے جرمنی کو شکست دی جبکہ فرانس نے ہٹلر کے آگے ہتھیار ڈال دئیے، دونوں ممالک کا ہدف ایک ہی تھا یعنی عوام کی فلاح و بہبود، شخصی آزادی، شہری حقوق، معاشی بدحالی کا خاتمہ اور انصاف پر مبنی قائم ایک معاشرے کا قیام مگر فرانس نے یہ اہداف نپولین کی شہنشاہیت اور لاکھوں لوگوں کے موت کی قیمت ادا کر کے حاصل کئے جبکہ انگلستان نے یہ ہدف بغیر کسی انقلاب کے پر امن طریقے سے زیاد ہ بہتر طریقے سے حاصل کئے ،اس کے باوجود آج بھی دنیا میں فرانس کا نہیں بلکہ انگلستان کا سیاسی جمہوری نظام مثالی سمجھا جاتا ہے ۔اسی طرح چین میں جو کام مائو زے تنگ انقلاب برپا کرکے نہ کر سکا وہ ڈینگ زائو پنگ نے بغیر کسی خونی انقلاب کے مختصر سے عرصے میں کر دکھایا، آج دنیا چین کی جس معاشی ترقی کو دیکھ کر ششدر رہ جاتی ہے وہ مائو کی نہیں ڈینگ زائو پنگ کی دین ہے ۔
دنیا کی کسی فنکشنل ڈیموکریسی میں ایسے تبدیلی کبھی نہیں آئی جیسی انقلابات کے داعی فرماتے ہیں ،عرب بہار کے جن ممالک کی مثالیں یہ لوگ اپنے ذہنوں میں بنائے بیٹھے ہیں ان میں سے ایک بھی ملک ایسا نہیں تھا جہاں جمہوریت تھی ، مصر سے لے کر عراق تک ‘اور لیبیا سے لے کر یمن تک کئی دہائیوں سے ایک ہی آمر وہاں قابض تھا، ایسا ہمارے ملک میں تصور بھی نہیں ۔آج جو لوگ ملک میں انقلاب اور تبدیلی کی د ہائیاں دے رہے ہیں ان کے ذہن میں انقلاب کا کون سا ماڈل ہے ؟ کیا وہی جس میں لاکھوں بے گناہ افراد مارے جاتے ہیں اور ہاتھ کچھ نہیں آتا؟ جمہوریت کو تو وہ ’’جعلی‘‘ کہہ کر ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں ،ٹھیک ہے ، مگر بتائیں بھی تو سہی کہ وہ تاریخ کا رُخ موڑنے کا کون سا پروگرام ذہن میں رکھتے ہیں ۔ہٹلر، سٹالن ،مائو یا نپولین والا؟کتنے لاکھ لوگ مروانے کا ارادہ ہے ،آج تک تو دنیا میں پر امن انقلاب نہیں آیا ،اگر آپ کے پاس کوئی ایسی گیدڑ سنگھی ہے جس سے یہ ممکن ہے تو حضور اس فلسفے سے ہمیں بھی آگاہ فرماکر ثواب دارین حاصل کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *