وزیراعظم کی خاموشی

Haq Nawaz Jillani

جب حالات ملک کے ایسے ہو اور ملک کا وزیراعظم اس پر خاموش ہو تو سوال اٹھائے جائیں گے کہ آخر وزیراعظم میاں نواز شریف کی ایسی کیامجبوری ہے کہ وہ ملک کو درپیش اہم معاملات ہو یا ملک کے اندر رونما ہونے والے اہم واقعات  پر خاموش بیٹھے ہوں-یہ سوالات میڈیا اٹھائے یا تحر یک انصاف کے سربراہ عمران خان کہ وزیراعظم میاں نواز شریف کی ملک کو درپیش چیلنجز پر خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔ملک میں بم دھماکے ہو دہشت گردی کے اہم واقعات اور ٹارگٹ کلنگ اس میں بھارت کی سپورٹ دہشت گردوں کوحاصل رہی ہے۔بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا اہم کمانڈر کلبوشن یادوکی گرفتاری نے ثابت کر دیا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی منصوبندی نہ صرف کررہاہے بلکہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک بھی چلا رہاہے ۔ بھارتی ایجنٹ کے اقرار نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ بھارت پاکستان میں خصوصاً بلوچستان اور کراچی میں دہشت گرد نیٹ ورک رکھتا ہے ، کلبھوشن یادو سے تفتیش پر بہت سے بھارتی خفیہ ایجنٹ گرفتار ہوئے ۔ بھارت پہلے اپنے خفیہ جاسوس سے لاتعلقی کا اظہار کر رہا تھا لیکن جب ان کو معلوم ہوا کہ اب لاتعلقی کا کوئی فائدہ نہیں تو انہوں نے بہت کوشش کی کہ پاکستان کو کسی طور پر راضی کرے کہ ہمیں اپنے ایجنٹ کمانڈر تک راسائی دی جائے لیکن اس سے بھی بڑھ کر جو اقرار اور سچ سامنے آیا وہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی زبان پر آیا کہ بھارت بلوچستان میں نہ صرف حالات کو خراب کررہاہے بلکہ بلوچستان میں شدت پسندوں کی مدد بھی کرتا ہے اور بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کی پلاننگ بھی کررہاہے ، صرف یہ نہیں کراچی سمیت پورے پاکستان میں ان کے جاسوس اور ایجنٹ کام کررہے ہیں۔بھارت کی طرف سے اس طرح کے اقرار کے باوجود پاکستان کا وزیراعظم میاں نواز شریف ان تمام اہم واقعات اور ایشوز پر خاموش ہےْ وزیراعظم کی جانب سے بھارتی وزیراعظم کے اقرار پر ایک لفظ تک نہیں کہا گیا۔پہلے تو بھارتی جاسوس اور کمانڈر کے بیان پرشک کرنے کی گنجائش تھی کہ انہوں نے اپنا بیان یا اقرار دباؤ میں دیاہولیکن بھارتی وزیراعظم مودی کا حقائق کو قبول کرنے نے تمام سوالوں کے جواب دے دیے ، اس طرح بھارت سرکار سے محبت کرنے والے ہمارے محمود خان اچکزئی ہو یا دوسرے رہنما ان کے بیانات پر تو وزیراعظم اور اس کے ممبران خاموش ہوتے ہیں کہ جب وہ دہشت گردی کی تمام ذمہ داری اپنے ملک کی ایجنسیوں خاص کر آئی ایس آئی پرڈالتے ہیں لیکن عمران خان کی حکومت پر ایک تنقید کی وجہ سے وزیراعظم سمیت تمام اہم ممبران پریس کانفرنسوں اور بیانات کا میڈیا پر یلغار شروع کردیتے ہیں۔عمران خان کے سوالوں کا جواب تو نہیں دیتے البتہ ان کی ذات ، شوکت خانم ہسپتال پر تنقید ضرور کرتے ہیں ۔اس طرح دیکھا جائے تو کراچی میں پیش ہونے والے واقعات اور ایم کیو ایم قائدالطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر ،جو بیانات بھارتی وزیراعظم یا ایجنٹ دے رہے ہیں اسی طرح بیان الطاف حسین نے دیا اور یہ پہلے دفعہ نہیں دیا بلکہ ان کے ایسے بیانات جس میں پاکستان کو دہشت گردوں کا اسٹیٹ یاپاکستان کو ناسور اور سکیورٹی اداروں اور شخصیات کے بارے میں کیا کچھ خرافات نہیں کہہ گئے،یہ سب ریکارڈ پر موجود ہے لیکن وزاعظم ان بیانات پر خاموش ہے کوئی ایکشن بھی خاص نظر نہیں آیا صرف ایک عام سا بیانات دیا گیا کہ پاکستان کے خلاف بولنے والوں کو ایک ایک لفظ کا حساب دینا ہوگا۔ اس سے بڑھ کر کوئی پریس کانفرنس دانیال عزیز، عابد شیر علی، خواجہ آصف،سعد رفیق یا پرویز رشید وغیرہ کی جانب سے نہیں کی گئی ہے جس طرح عمران خان کا وزیراعظم سے پانامالیکس پر سوال کرنے سے یہ ممبران یک دم سے غصے میں آجاتے ہیں اور وزیراعظم کا دفاع کرتے ہیں کہ وزیراعظم سے کرپشن پر سوال عمران خان نہیں بلکہ قوم کرے گی جنہوں نے میاں نواز شریف کوووٹ دیا ہے۔ عمران خان ملک کے حالات خراب کررہاہے لیکن جو حقیقت میں کررہے ہیں ان پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف اور اس کی کابینہ شاید یہ بھول گئی ہے کہ سکیورٹی ادارے یعنی آئی ایس آئی ، فوج ، پولیس اور دوسرے ادارے سب اس ملک کا حصہ ہے اور وزیراعظم ان کا سربراہ ہے لیکن ان پر تنقید کرنے والوں کے خلاف وزیراعظم اور ان کے وزرا کی مسلسل خاموش نے کئی سوال اٹھا دیے ہیں کہ وزیراعظم اور اداروں کے درمیان تعلقات نہ صرف خراب ہے بلکہ وزیراعظم سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا بھی پسند نہیں کرتے۔ ناقدین یہ سوال بھی اٹھارہے ہیں کہ وزیراعظم کی بھارت نواز پالیسی ، دوستی اور اپنے ذاتی مفاد کی وجہ سے وزیراعظم بھارت کے خلاف بیان نہیں دیتے تاکہ بھارت سرکارخفا نہ ہوجائے ۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پاکستان مخالف بیانات اور پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا جواب نہ دینے پر وزیراعظم میاں نواز شریف کے ذات پر کئی سوال اٹھا دیے ہیں جس کاجواب بہر کیف وزیراعظم کو دینا چاہیے ، اب تک تو ایم کیوایم کی ملک دشمن کارروائیوں اور الطاف حسین کی بھارتی ایجنسی را سے تعلقات اور ان کے کہنے پر ملک کے حالات خراب کرنے اور ٹارگٹ کلنگ سمیت دہشت گردی کو پروان چڑھانے پر حکومت نے خاموشی اختیار کی تھی لیکن اب وقت کا تقاضا ہے کہ ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے ملک دشمن قوتوں سے تعلقات کو بے نقاب کیا جائے اور جو بھی ملوث لوگ ہے ان کو سزا دی جائے۔تاکہ ملک کو بھارتی جاسوسوں سے پاک کیاجائے جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں حالات خراب ہے اور دہشت گردی ختم نہیں ہورہی ہے۔ ریاست کو ایک لائن کیھنچ دینی چاہیے تاکہ آئندہ کیلئے حالات درست ہوجائے جبکہ وزیر اعظم کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *