صدارتی الیکشن: پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ جاری

karachi-liyari_400
پاکستان میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ووٹنگ جاری ہے جبکہ تحریکِ انصاف کے امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجہیہ الدین کے مقابلے میں حکمران جماعت  پاکستان مسلم لیگ نون کے امیدوار ممنون حسین کی بھاری اکثریت سے کامیابی کے امکانات واضح اور روشن ہیں ۔

پولنگ کا سلسلہ جو آج منگل کی صبح  دن  بجے شروع ہوا تھا ، دوپہر تین بجے تک جاری رہے گا۔

ملک کے بارہویں صدرکے انتخاب کے لیے  اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارلحکومتوں میں ارکان پارلیمنٹ اپناووٹ ڈال رہے ہیں جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹرزاور ارکان قومی اسمبلی ووٹ کاسٹ کررہے ہیں  جہاں پریزائیڈنگ آفیسر کے فرائض اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس  جسٹس محمدانورکانسی انجام دے رہے ہیں۔

قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیر پاؤ  اور مسلم لیگ  قاف بلوچستان کی مسلم  لیگ نون کے امیدوار ممنون حسین کی  حمایت کے فیصلہ کے بعد امکان ہے کہ مسلم لیگ نون بھاری اکثریت سے 100 فیصد ٹرن آؤٹ کی صورت میں چار سو چودہ ووٹ حاصل کرسکتی ہے اور اگر  جمیعت علمائے اسلام  ف بھی مسلم لیگ نون کی حمایت کرتی  ہے تو یہ تعداد 488 ہو جائے گی۔

امکان ہے کہ صدارتی انتخاب میں مسلم   لیگ نون کو 520 ووٹ حاصل ہوں گے، لیکن اسے  جیت  کے  لیے صرف 263 ووٹ درکار ہیں، جبکہ یہ جماعت  کسی کی حمایت کے بغیر ہی  281 ووٹز حاصل کرنے کی پوزیشن  رکھتی  ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ، مسلم لیگ ف، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، قومی وطن پارٹی، نیشنل پیپلز پارٹی، نیشنل  پارٹی، مسلم لیگ ضیاء گروپ، عوامی جمہوری اتحاد پاکستان،  جاموٹ قومی موومنٹ اور آزاد امیدوار بھی ممنون  حسین کی حمایت  کریں گے۔

اگر جمیعت علمائے اسلام  ف، بلوچ نیشنل پارٹی ایم اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مجموعی طور پر 32 ووٹر پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار وجیہہ الدین احمد کی حمایت  کا فیصلہ کرتی ہے تو بھی تحریکِ انصاف 200 سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کرسکے گی۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایک اہلکار نے کل پیر کے روز  کہا  تھا کہ آئین کے آرٹیکل 12 کے تحت صدارتی انتخاب کا نیا شیڈیول جاری کیا گیا اور انتخابات خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوں گے، جبکہ چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم  نے تمام پریزائیڈنگ آفیسرز کو ہدایات جاری   کی ہیں کہ وہ پولنگ کے دوران رائے شماری کے عمل  کو ہر ممکن طریقے سے خفیہ رکھیں اور اس کی خلاف وزری نہ کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پولنگ کے مقام پر کسی بھی ووٹر کو موبائل فون اور کوئی دوسری الیکٹرک ڈیوائس ساتھ لانے کی اجازت نہیں ہوگی جس کے  ذریعے تصاویر لی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ووٹرز کے نام حروفِ تہجی کی ترتیب سے پکارے جائیں گے۔ بیلٹ پیپر حاصل کرنے کے بعد ووٹر ایک مخصوص جگہ پر جاکر پریزائیڈنگ افسر کی جانب سے فراہم کی جانے والی پنسل سے مطلوبہ امیدوار کے نام پر نشان لگادے گا۔

الیکشن کمیشن کے اہلکار نے بتایا تھا  کہ بیلٹ پیپر کے اوپر کسی اور نشان ہونے پر ووٹ مسترد ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر بیلٹ پیپر پر کوئی اور نام لکھا ہوا ہوگا تو بھی اس کو مسترد کردیا جائے گا اور الفاظ اور نشان سے ووٹر کی شناخت کی جا سکتی ہے اگر بیلٹ پیپر پریزائیڈنگ افیسر کی دی گئی ہدایت کے مطابق نہ ہوا اور اگر اس میں ایک سے زیادہ امیدوار کے ناموں پر نشان لگایا گیا، تو بھی ووٹ مسترد کردیا جائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ووٹر اپنے ساتھ شناختی کارڈ بھی لے کر آئیں اور اگر پریزائڈنگ آفیسر شناختی کارڈ مانگے کا تو ووٹر کو اپنی شناخت کروانی ہوگی۔

پولنگ سے پہلے امیدوار پولنگ پر نظر رکھنے کے لیے ایک سے زیادہ ایجنٹ نہیں مقرر کرسکتا اور پریزائڈنگ آفیسر کے تحریری نوٹس کے ذریعے ہی گنتی کرے گا۔

اگر کوئی بھی شخص پولنگ کی جگہ پر قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو  اسے پریزائڈنگ آفیسر کے حکم سے فوری طور پر پولنگ اسٹیشن سے باہر  نکال دیا جائے گا اور پریزائیڈنگ آفیسر کی اجازت کے بغیر اس کو واپس پولنگ کے مقام میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *