حکومتی سرد مہری اور سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل!

shakeel qamarشکیل قمر' مانچسٹر
اوورسیزپاکستانیوں کے مسائل کو اگر مسائلستان کانام دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا ،یہ مسائل سالہا سال سے حل طلب چلے آرہے ہیں مگر آج
تک اِن کے حل کی طرف کو ئی قابلِ عمل توجہ مبذول نہیں کی گئی ،اگرچہ موجودہ دورِ حکومت میں ایک درجن کے قریب ایسے ادارے بھی ہیں جو کہ بظاہر اوورسیز پاکستانیوں کے گونا گوں مسائل کے حل کے لئے کام کر رہے ہیں مگر مسائل کا پوری طرح سے ادراک اور اُن کے حلکے لئے کوئی جامع لائحہ عمل نہ ہونے کی وجہ سے تمام ترکاروائیاں محض کاغذی کاروائیاں ہی دکھائی دیتی ہیں ،اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹکے استعمال کا معاملہ تاحال معرضِ اِلتواء میں ہے ،پارلیمنٹ کی انتخابی اصلاحات کی کمیٹی نے اپنے متعدد اجلاسوں میں اس سلسلے میں غورو خوص کیا ہے مگر ابھی تک کوئی واضح حل سامنے نہیں آسکا جبکہ اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے استعمال کا معاملہ حل کرنے کے لئے غوروخوص کرنے والی ذیلی کمیٹی نے بھی ڈاکٹر عارف علوی ایم این اے کی صدارت میں متعدد اجلاس منعقد کیئے ہیں مگر معاملہ جوں کا توں حلطلب ہے بات وہی ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل ایسے نہیں ہیں جنہیں الگ الگ کرکے حل کر لیا جائے یہ مسائل ایسے ہیں جو کہایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں کسی بھی ایک مسّلے کو حل کرنے کی کوشش کی جائے تو دوسرا مسّلہ پیدا ہو جاتا ہے اس لئے ضروری ہے کہاوورسیز پاکستانیوں کے مسّائل کے حل کے لئے اعلیٰ اختیاراتی بورڈ قائم کیا جائے جو تمام مسّائل پر ایک ساتھ غور وخوص کر کے اِن کےمعقول اور مناسب حل کے لئے اقدامات تجویز کرئے ،جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ موجودہ حکومت نے درجن بھر ایسے ادارے قائمکر رکھے ہیں جو کہ بظاہر اوورسیز پاکستانیوں کے مسّائل کے حل کے لئے کام کر رہے ہیں مگر نتائج پر غور کیا جائے تو کار گذاری صفر سےزیادہ دکھائی نہیں دیتیِ ِ ، اوورسیز پاکستانیوں کی و زارت یوں تو ایک بہت ہی اہم اور طاقت ور ادارہ سمجھا جاتا ہے مگر گذشتہ تمام ادوار میں .مذکورہ وزارت کی کار گذاری کا جائزہ لیا جائے تو یہ وزارت ایک بے سود ادارے سے زیادہ کچھ بھی معلوم نہیں ہوتی،حال ہی میں موجودہ حکومت نے اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کی تشکیلِ نو کی ہے جس میں ایک سرگرم اور اہل اوورسیز پاکستانی کو چیئر مین نامزد کیا گیا ہے ،فاؤنڈیشن کے نئے چیئر مین بیرسٹر امجد ملک نے متعدد اجلاسوں کی صدارت کے دوران اوورسیز پاکستانیوں کے بے شمار مسّائل کو اُجاگر کیاہے جن پر غور و خوص کرنا بہت ضروری ہے تاکہ اُن کا کوئی معقول اور فوری حل تلاش کیا جاسکے ،مگر ایسے معلوم ہوتا ہے کہ فاؤنڈیشن کے پاس کوئی خاطر خواہ اختیارات نہ ہونے کی وجہ سے معاملات آگے کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں ،حال ہی میں بیرسٹر امجد ملک نے وفاقیسیکریٹری داخلہ عارف احمد خان سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران سمندر پار پاکستانیوں کو در پیش مسّائل بشمول برطانیہ میں نیکوپ کیرجسٹریشن فیس میں اضافہ، پاکستانی سفارت خانوں میں مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کی سہولت کی فراہمی ،پولیس کی جانب سے سمندر پارپاکستانیوں کے لئے کریکٹر سرٹیفکیٹ کا اجراء ، اور نا ئیکوپ کے اجراء کے لئے نادرا کی موبائل سروس کے دوبارہ اجراء سے متعلق تبادلہ ء خیال کیا گیا ،

بیرسٹر امجد ملک نے وفاقی سیکریٹری کو سمندر پار پاکستانیوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور اُنہین بتایا کہ برطانیہ میں نادراکی
جانب سے نائیکوپ کے اجراء کے لئے موبائل سروس کی معطلی سے عمر رسیدہ اور معذور افراد کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،اُنہوں نے وفاقی سیکریٹری کو بتایا کہ بیرونِ ملک26پاکستانی سفارت خانوں میں مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کی سہولت میسر نہیں ہے جس
کی وجہ سے پاکستانی مشکلات کا شکار ہیں ،اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈنمارک کی حکومت نے پاکستانیوں کے لئے دہری شہریت کی اجازت
دے دی ہے تاہم اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے اقدامات کی ضرورت ہے ،بیرسٹر امجد ملک نے بتایا کہ ضلعی پولیس حکام کی جانب سے کریکٹر سرٹیفکیٹ کے اجراء میں تاخیر کے باعث بیرونِ ملک پاکستانیوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،اُنہوں نے
و فاقی سیکریٹری سے درخواست کی کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو درپیش مسّائل کو فوری طور پر حل کیا جائے ، وفاقی سیکریٹری نے چیئرمین او پی ایف بورڈ آف گورنرکو سمندر پار پاکستانیوں کو درپیش مسّائل کے فوری ازالے کی یقین دہانی بھی کرائی ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *