بھارت ستمبر میں پاکستان پر حملہ کر دے گا !اوریا مقبول جان کی پیشن گوئی

naeem-baloch1

متنازعہ بیان داغنے میں ید طولیٰ رکھنے والے پروطالبان دانش ور اوریا مقبول جان نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ ستمبر میں بھارت پاکستان پر حملہ کر دے گا ۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھارت کسی صورت یہ نہیں چاہتا کہ چین کے اشتراک سے زیر تکمیلCPAC منصوبہ مکمل ہو ۔ اس لیے وہ پاکستان پر حملہ کر دے گا ۔ اس نادر دانش وری کو مزید چار چاند لگاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس موقع پر صرف چین ہی پاکستان کی مدد کو آئے گا ۔ انھوں نے دعویٰ کیا صدیوں پہلے ان واقعات کو حضورﷺ نے بیان فرما دیا تھا اور آپ ﷺ کی یہ حدیث بخاری میں موجود ہے کہ ہند میں جب بھی کوئی مسئلہ ہو گا وہ سندھ کی وجہ سے ہو گا ۔حدیث کی تشریح کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ چین پاکستان کی مدد کرے گا اور فتح یاب ہو ئے گا ۔ انھوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی کہ اس ’’ خود ساختہ ‘‘ حدیث سے انھوں نے چین اور پاکستان کی دوستی کیسے برآمد کی ۔ ویسے توان کی دانش وری کا کمال یہی ہے کہ وہ ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ کی بہترین وضاحت ہوتی ہے لیکن موصوف کی حالیہ پیشن گوئی اگر اپوزیشن پارٹیوں کی حکومت کے خلاف ستمبر میں ہونے والے ہلے گلے کے پروگرام کے تناظر میں دیکھی جائے تو بڑی معنی خیز ہے ۔ پی ٹی آئی اور طاہرالقادری کے درمیان ’نکاح ثانی‘ تو ہو ہی چکا ہے اور پی پی نے بھی شہیدوں میں نام لکھوانے کا عندیہ دیا ہے ، اس مقصد کے لیے ’پٹھے ‘ بلاول نے’ انگلی کٹوانے‘ کا اعلان کیا ہے ، لیکن سوال یہ ہے کہ اپوزیشن برائے اپوزیشن کے اس اعلان کے باوجود اگر وہ کچھ نہ کر سکے تو اس بھری جوانی میں پھر وہ کیا کٹوائیں گے ؟ ان تینوں پارٹیوں کو چاہیے تھا کہ وہ محترم اوریا مقبول جان سے رابطہ کرتے ، وہ اپنی علم کی اوریائی زنبیل کی بخاری سے ضرور کوئی حدیث نکال لیتے ۔اوریا صاحب سے ہم یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا اللہ کے رسول ﷺ سے کوئی بات گھڑ کر منسوب کرنا، توہین رسالت ہے یا نہیں ؟ انھوں نے اتنی بڑی بات کہہ دی ، اور اس کی بنیاد اللہ کے رسول کے فرمان کو بنایا ، کیا وہ بتائیں گے کہ اس طرح جھوٹ پھیلانا کون سی دانش وری ہے ؟ جو کچھ انھوں نے حدیث کے حوالے سے بیان کیا ہے وہ سوائے جھوٹ کے کچھ نہیں کیونکہ اگر سنن نسائی کی اس روایت کو مان بھی لیا جائے تو بھی اس کا مصداق موجودہ دور ہر گز نہیں ہو سکتا ، کیونکہ اس کا وعدہ صحابہؓ کرام ہی سے کیا گیا تھا ، اور مزید یہ کہ اس کامصداق زیادہ سے زیادہ جنگ قادسیہ کو قرار دیا جا سکتا ہے ، جو بلاشبہ ایک عظیم فتح تھی ، اس حدیث سے ستمبر میں پاک بھارت جنگ برآمد کرنا واقعی دانش اوریائی ہی ہے ۔ البتہ اللہ کا فرمان سورہ المائدہ میں یہ ضرور ہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں نا انصافی پر مجبور نہ کر دے ( المائدہ 8)مانا کہ لمحہ موجود میں حکومتِ وقت کے مقابلے میں اسٹیبلشمنٹ سے وفاداری ان کی تازہ ترین پالیسی ہے۔ لیکن کیا ان کی اخلاقیات اور سیاسی تجزیے کی مہارت یہی ہے وہ اپنی ہر درفنطنی کو مذہب کا تڑکا لگائیں ؟ انھوں نے جو کچھ فرما دیا ہے، کل اگر ایسا نہیں ہوتا اور امیدِ واثق ہے کہ ایسا نہیں ہو گا ، انڈیا پاکستان پر کوئی حملہ وملہ کرنے نہیں والا، تو اس جھوٹ کا وبال کس پر ہوگا ؟
کیا یہ حقیقت نہیں عام طور پر غزوہ ھند کے حوالے سے جو روایات عام طور پر بیان کی جاتی ہیں ، ان کے بارے میں اہل علم کی متفقہ رائے یہی ہے کہ یہ بہت ضعیف روایات ہیں ،اور ان جیسا وسیع المطالعہ شخص سے اس سے ناواقف نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے سوال یہ ہے کہ یہ ساری الٹی سیدھی پیشن گوئیاں کرکے وہ کس کی نمک حلالی کر رہے ہیں ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *