منٹو کے افسانے

razia syed
منٹو نے بہت بڑی بات کہی تھی کہ ’’افسانہ مجھے لکھتا ہے ‘‘، اگرچہ اردو ادب میں بہت سے افسانہ نگار گذرے ہیں لیکن منٹو کو جداگانہ حیثیت اس لئے حاصل ہے کہ انھوں نے معاشرے کی تلخیوں کو اتنی خوب صورتی سے بیان کیا ہے کہ حقائق خود ہی لوگوں کے سامنے آتے گئے ۔
منٹو سچے کہانی گو تھے کیونکہ انھوں نے اس زمانے کی بدصورتیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کسی قسم کی غلط بیانی اور بناوٹ سے کام نہیں لیا بلکہ انھیں اسی طرح من و عن پیش کر دیا کہ لوگوں کے لئے اچھے اور برے میں تمیز ازخود آسان ہوگئی ۔
آج کی کتاب ’’ منٹو کے افسانے ‘‘ ہے جسے سنگ میل پبلشرز نے شائع کیا ہے ، کتاب کا سرورق سعادت حسن منٹو کی خوب صورت تصاویر سے مزین ہے جبکہ قیمت چھ سو روپے ہے ، کتاب کی چھپائی کی داد نہ دینا یقینا زیادتی ہوگی ۔
اس کتاب میں سعادت حسن منٹو کے اکیس افسانے شامل کئے گئے ہیں جن میں نیا قانون ، ٹیڑھی کھیر ، بلائوز ، ڈرپوک ، دس روپے ، مسز ڈی کوستا اور کئی افسانے شامل ہیں ۔ ’’نیا قانون‘‘ نامی کہانی میں منگھو ٹانگے والا نئے قانون کو نئے نظام کا آغاز سمجھتا ہے اور انگریزوں کے قبضے  سے نجات کے سپنے دیکھتا ہے لیکن یکم اپریل کو اسکے یہ خواب دم توڑنے لگتے ہیں ۔
ایک کہانی جس کا نام ’’شغل‘‘ ہے میں پتھر کوٹنے والے مزدوروں کے شب و روز کا احاطہ کیا گیا ہے جبکہ شہری بابو کی ایک نوجوان لیکن لاوارث اور بے کس لڑکی کے ساتھ عیاشی کا بھی قصہ ہے ۔
اگر ہم دیکھیں تو منٹو کے افسانوں کے مخاطب اچھے اور برے دونوں افراد ہیں ، انھوں نے اچھے لوگوں کی خوبیوں کو نمایاں کیا اور برے کرداروں کو بھی براہ راست تو نہیں لیکن بلا واسطہ نیکی کی ترغیب ضرور دی اور یہ افسانہ نگاری میں بڑی تبدیلی تھی ۔
منتو کے افسانوں کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس کے ہر جملے میں ایک الگ کہانی پوشیدہ معلوم ہوتی ہے ۔ ہر لفظ ایک نئی داستان کو جنم دیتا ہوا معلوم ہوتا ہے ، کہانی کا تسلسل منٹو اتنا قائم  رکھتے ہیں کہ قاری کبھی بوریت اور الجھن کا شکار نہیں ہوتا ۔ مختلف واقعات کو ایک طرح سے مربوط کر دینے کا نام ہی منٹو ہے ۔ منٹو ایک کیفیت کا نام ہے جو ہر انسان پر اس طرح طاری ہوتی ہے کہ ہم خود کو وہیں اسی زمانے میں منٹو کے ہمراہ پاتے ہیں ۔ اسکی بنی ہوئی کہانیوں کا حصہ خود کو محسوس کرنے لگتے ہیں ۔
منٹو خود اپنی کہانیوں کے بارے میں لکھتے ہیں
’’اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ باقابل برداشت ہے ، میں تہذیب و تمدن اور سوسائٹی کی کیا چولی اتاروں گا جو ہے ہی ننگی ، میں اسے کپڑے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کرتا کیونکہ یہ میرا نہیں درزیوں کا کام ہے ۔ ‘‘
اگر آپ اعلی ذوق کے حامل ہیں تو ’’منٹو کے افسانے ‘‘ آپ اور آپکے احباب کے لئے یقیننا ایک بہترین تحفہ ہے ۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *